13-01-2018

کچھ ملکوں کے سیاست داں اور حکمراں اکثر ایک مضحکہ خیز رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر ان کے ملک میں کچھ اچھا یا نام نہاد اچھا ہورہا ہے تو وہ اس کو اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ٹھہرا کر اس کا کریڈٹ  لینے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں، لیکن اگر حالات نامساعد ہوئے تو وہ اس سے دامن بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے موسم یا کسی دوسرے خارجی عمل سے، کسی آفت ارضی یا آفت سماوی سے منصوب کرنے لگتے ہیں۔

لیکن دہشت گردی کے سوال پر ان دنوں پاکستان کے حکمرانوں کا رویہ اس سے بھی مضحکہ خیز نظر آتا ہے جس کی ایک مثال اسلام آباد کے ایک اسکالر رؤف حسن نے ابھی حال میں اپنے ایک مضمون میں دی ہے۔ اس کا تعلق ہماری جنگ بنام تمہاری جنگ کے نظریہ سے ہے اور اس نظریہ کا مضحکہ خیز پہلو تب ظاہر ہوجاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہاں جس جنگ کی بات کی جارہی ہے اس کا مطلب دہشت گردی مخالف جنگ ہے، نہ کہ کسی مخصوص ملک کے خلاف۔

پاکستان کا یہ موقف ابھی حال میں منظر عام پر آیا ہے اور اسے اچھالنے میں ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف پیش پیش نظر آتے ہیں بلکہ اپنی حکومت کے سربراہ جناب خاقانی سے بھی آگے دکھائی دیتے ہیں۔

ہوا یوں کہ جب امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے حکومت پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگا کر پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد روکنے کی بات کہی، تب سے پاکستان کے حکمراں یہ راگ الاپنے لگے ہیں کہ امریکہ گویا پاکستان کو مالی امداد نہیں دے رہا ہو بلکہ افغانستان میں طالبان کے خلاف اپنی جنگ چلانے کے لئے پاکستان کی سرزمین اور پاکستان کے ہوائی اڈوں اور دوسرے وسائل کے استعمال کی قیمت چکا رہا ہو۔ اس کے بعد خواجہ آصف جیسے حضرات نے دبے سروں میں یہ بات بھی جوڑدی کہ یہ پاکستان کی اپنی جنگ نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ ہے، ہماری جنگ اور تمہاری جنگ کا تفرقہ یہیں سے پیدا ہوا۔ لیکن جناب رؤف حسن نے اس سلسلے میں عین یہی سوال اٹھایا ہے کہ جس ملک کے ساتھ سات دہائیوں سے آپ کے خوش گوار تعلقات رہے، اس کے متعلق اس طرح کا نظریہ اور اس نوع کی پالیسی اختیار کرنے کو کیا دانشمندانہ کہا جاسکتا ہے؟

اور دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ایک غلط پالیسی کو کیا آپ دوسری غلط پالیسی اختیار کرکے درست کرسکتے ہیں؟ تمام اقوام عالم کو یہ بات پتہ ہے کہ افغانستان میں 1979کے واقعات کے بعد سے ہی بیرونی قوتوں کی شہ پر پاکستان نے پی ڈی پی اے سرکار کے خلاف درپردہ جنگ کی شروعات کی اور پھر ضیاء الحق سرکار نے اس درپردہ جنگ کا رخ اپنے مشرقی ہمسایہ، یعنی کہ ہندوستان کے خلاف موڑ دیا۔ لیکن جس جنگ میں پاکستان ایک طویل عرصہ سے ملوث رہا ہے، اب اس کو وہ امریکہ کی جنگ ٹھہراکر اپنے دامن کو پاک صاف جتلانے کی سعی کررہا ہے جو کہ ایک سعی رائیگاں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

اس عمل کے دوران پاکستان کے کم نظر سیاست داں یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ دو خود مختار ملکوں کے باہمی تعلقات باہمی مفاد کی بنا پر استوار ہوتے ہیں،اور دہشت گردی مخالف جنگ کو ہماری نہیں بلکہ ان کی اور اگر ان کی نہیں تو فلاں کی جنگ ٹھہراکر یہ سیاست داں اپنی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے ہی ملک کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

آج پاکستان جن مسائل سے دوچار ہے ان میں سے کئی مسئلے دہشت گردی کے سوال پر پاکستان کے اپنے عمل کی پیداوار ہیں۔ اگر ہندوستان کا ہوّا دکھا کر سالانہ بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صرف فوج پر خرچ کیا جاتا رہا اور ہندوستان کو نیچا دکھانے کے لئے خارجہ پالیسی کے ایک حصے کے طور پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جاتی رہی، تو اس عمل نے آج پاکستان کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں کوئی بھی ملک پہنچنا نہیں چاہے گا۔ ستمبر 2008 کے عالمی بحران کے باہر جس طرح پاکستان بھر میں بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں پیسہ نکالنے کی خاطر لگتی رہیں، وہ منظر پاکستانی حکمرانوں کے لئے عبرت کا مقام ہوناچاہئے تھا۔ پاکستان اس وقت غیر مقیم پاکستانیوں سے ملنے والی رقوم اور بیرونی ملکوں کی امداد کے دم پر ہی دیوالیہ ہونے سے بچا رہا، یہ اور بات ہے کہ آج بھی اس کی معیشت جیسے تیسے ہی چل رہی ہے۔ اس صورت میں اگر ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے صدر کی ایما پر پاکستان کو امداد دینا روک دیا تو اس ملک کا کیا حال ہوگا، اس کا قیاس بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ بقول رؤف حسن ، آج پاکستان عالمی برادری میں اکیلا کھڑا نظر آرہا ہے، صرف چین کی حمایت اسے حاصل ہے اور کوئی  بھروسہ نہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کب چین کو بھی اس سے بدظن کردے گی۔ اسلام آباد میں مشرف سرکار کے دوران لال مسجد کے غازی برادران کی ایما پر چھ چینی خواتین کا اغوا پاکستانی حکمرانوں کے لئے عبرت کا مقام ہونا چاہئے تھا، لیکن اس معاملے میں پاکستانی حکومت کی کارروائی کسی سبق آموزی کا مظاہرہ نہیں بلکہ فوری مصلحت کے تحت کی گئی کارروائی ہی ثابت ہوئی۔

بہرحال اب سوال یہ ہے کہ کیا برصغیر کے ملکوں سمیت تمام اقوام عالم کے متعلق پاکستان کے سیاست داں اپنے موقف پر نظر ثانی کریں گے؟ یہ کام یقیناً مشکل ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کو شروعات خود اپنے گھر کی صفائی سے کرنی ہوگی اور اپنے اندرونی مسائل سے اسے خود نمٹنا پڑےگا، کیوں کہ بین  اقوامی سیاست کی رو سے کوئی دوسرا مہذب ملک اس کے گھریلو معاملوں میں مداخلت کرنا نہیں چاہے گا۔  

پاکستان کے سنجیدہ تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے مطابق، دہشت گردی کے سوال پر پاکستان کو ہماری اور تمہاری جنگ کی فضول بحث کو ترک کرکے، عالمی برادری کے ساتھ کھڑاہونا ہوگا۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے جسے وہاں کے ارباب اختیار جتنی جلدی سمجھ لیں اتنا ہی ان کے حق میں بہتر ہوگا۔