ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدہ جاری رکھنے کیلئے یوروپی ممالک کاا مریکہ پر زور

روزنامہ اسٹیٹس مین نے خبر دی ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے امریکی صدر ڈونل ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیائی معاہدے کو جاری رکھا جائے۔ اخبار کے مطابق ان ممالک کا یہ مطالبہ ٹرمپ کے اس خیال کی تردید ہے کہ 2015 کا معاہدہ اب تک کا سب سے بدترین معاہدہ ہے۔ برسلز میں ایران کے وزیرخارجہ محمد جاوید ظریف کے ساتھ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور یوروپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ کی میٹنگ کے بعد ان سفارت کاروں نے کہاکہ ایسے وقت میں جب دنیا کے دوسرے ممالک نیوکلیائی ہتھیاروں کے حصول کے طریقۂ کار پر غوروخوض کررہے ہیں، اس معاہدے کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ ایک روز بعد ہی یہ طے کرنے والے تھے کہ آیا ایران پر پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیا جائے۔ ایران کے حوالے سے اخبار مزید رقمطراز ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ عائد کی جاتی ہیں تو وہ معاہدے کا پابند نہیں رہے گا اور یورونیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرے گا۔ اپنے ٹوئٹ میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اس میٹنگ سے اس اتفاق رائے کا اظہار ہوتا ہے کہ ایران اس معاہدے کی پوری طرح پابندی کررہا ہے اور اس کو معاشی فوائد سے استفادہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اخبار کےمطابق ایران سے پابندیاں اٹھانے کے بعد دوبارہ تجارت شروع ہونے سے یوروپی ممالک کو بے حد فائدہ پہونچ رہا ہے جبکہ نیوکلیائی معاملات سے الگ دوسری پابندیوں کی وجہ سے امریکی کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارت کرنے سے معذور ہیں۔