18.01.2018

رائے سینا ڈائیلاگ نام سے معروف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے اہم مذاکرات نئی دہلی میں ہوئے۔ مذاکرات کے اس سال کے ایڈیشن کا افتتاح  اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کیا۔ یہ پہلی بار تھا جب ان مذاکرات کا افتتاح کسی دوسرے ملک کے سربراہ حکومت نے کیا۔ ہر سال ہونے والی اس تین روزہ جغرافیائی اور سیاسی تقریب کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم نریندرمودی ، وزیرخارجہ سشما سوراج اور رائے سینا ڈائیلاگ میں وزارتِ خارجہ کے پارٹنر آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین سنجوئے جوشی نے بھی شرکت کی۔ اپنی افتتاحی تقریر میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے زندہ رہنے کے لئے ملکوں کو طاقتور بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے دو جمہوریتوں یعنی ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ کمزور بہت زیادہ دنوں تک زندہ   نہیں رہتے جبکہ مضبوط اور طاقتور زندہ رہتے ہیں اس لئے طاقتور اور مضبوط لوگوں کے ساتھ ہی اتحاد کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط رہ ہی امن قائم رکھا جاسکتا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فوجی طاقت میں اضافے کا انحصار مضبوط اور طاقتور معیشت پر ہوتا ہے، جناب نتن یاہو نے کہا کہ مستقبل انہیں کا ہے جو اختراع پر یقین رکھتے ہیں۔ ہندوستان اور اسرائیل دونوں نے اپنی معیشت کو آزاد بازار کی معیشت میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری معیشتیں زیادہ آزاد ہیں۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا ۔ امور خارجہ کے وزراء  مملکت ایم جے اکبر اور جنرل وی کے سنگھ نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جن ہندوستانی وزیروں نے اس ڈائیلاگ میں شرکت کی انمیں صنعت وتجارت کے وزیر سریش پربھو، اطلاعات ونشریات اور ٹیکسٹائل کی وزیر اسمرتی ایرانی، شہری ہوابازی کے وزیر مملکت جینت سنہا اور مکانات وشہری معاملات کے وزیر مملکت ہردیپ سنگھ پوری کے نام شامل ہیں۔ فوج کےسربراہ جنرل بپن راوت ، بحریہ کے ان کے ہم منصب ایڈمیرل سنل لامبا، امریکہ کے پیسیفک کمانڈ کے کمانڈر ایڈمیرل ہیری ہیرس، برطانیہ کے جوائنٹ فورسز کمانڈر جنرل کرس ڈیورل ، جاپان کے چیف آف اسٹاف ، ایڈمرل کتسوتوشی کوانواور آسٹریلیائی بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل ٹم بیرٹ نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ آسٹریلیا، روس، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، ماریشس اور پولینڈ کے وفود نے ڈائلاگ کے اس سال کے ایڈیشن میں شرکت کی۔ اعلی مرتبہ پر فائز دوسرے ملکوں کی جن شخصیات نے ڈائلاگ میں شرکت کی ان میں آسٹریلیا کے دفاعی صنعت کے وزیر کرسٹفر پائن، انڈونیشیا کے وزیر دفاع ریمیزرڈ رائی کودو ، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ابوالحسن محمود علی، روس کے نائب وزیرخارجہ اِگور مارگولوف اور سنگاپور کے دفاع اور امور خارجہ کے سینئر وزیرمملکت مالکی عثمان کے نام شامل ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے مشہور ومعروف تجزیہ کاروں نے بھی اس ڈائلاگ میں شرکت کی۔ کانفرنس کے بیشتر حصہ میں جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں روس کے کردار اور ہند۔بحرالکاہل علاقے  میں ابھرتی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین سنجوائے جوشی  نے کانفرنس کی سفارتی اہمیت پر زور دیتےہوئے کہاکہ ایسے وقت میں جب دنیا عالمگیریت کی طرف گامزن ہے اور ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ دینے کا نظریہ فروغ پارہا ہے، 2018 کی اس کانفرنس کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ اس کانفرنس کے دوران تقریباً پچاس موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جناب  سنجو ائے جوشی نے کہا کہ مندوبین نے اس وقت دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ نالندہ کے زمانے میں ہندوستان علم وادب اور خیالات وتصورات کا گہوارہ تھا۔ ہندوستان رائے سینا ڈائلاگ کے ذریعہ اسی مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اوآرایف کے نائب صدر سمیر سرن نے کہا کہ یہ ڈائلاگ ایشیاء کا سب سے بڑا فورم ہے جس میں 1800 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی اور جو ہندوستان کو ایک بڑی طاقت بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ رائے سینا ڈائلاگ کی اہمیت وافادیت  بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ پہلے ایڈیشن میں 40 ملکوں کے صرف 120 مندوبین نے شرکت کی تھی۔ دوسرے ایڈیشن میں شرکت کرنے والے ملکوں کی تعداد 40 سے بڑھ کر 65 ہوگئی۔ اسی سے اسکی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔