جدت طرازی اور اختراع پردازی ہند۔اسرائیل تعلقات کی کلید: نریندرمودی

آج ملک کے اخبارات نے ایک اور اہم خبر کی طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے  جس کا تعلق وزیراعظم نریندرمودی کے اس بیان سے ہے جس میں انہوں نے جدت پسند افراد پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی ٹکنالوجی سے بھرپور استفادہ کریں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نتن یاہو کےساتھ احمدآباد کے ایک روزہ دورے میں دیودھولیرا گاؤں میں   آئی کریئٹ سینٹر کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے آبی تحفظ، زراعت اور سائبرسیکورٹی کے شعبوں میں انٹرپرینورشپ شروع کرنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ  اسرائیلی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں کیونکہ پوری دنیا اس کا لوہا مانتی ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ آئی کریئٹ، انٹرنیشنل سینٹر فارانٹرپرینیورشپ اینڈ ٹیکنالوجی کا  محفف ہے اس خودمختار ادارے کا قیام نئے انٹرپرینیورس کی نشاندہی اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ نریندرمودی نے ملک کی  ترقی کیلئے جدت پسندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ برس ان کے دورۂ اسرائیل میں 40 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک مشترکہ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا تاکہ ٹکنالوجی سے متعلق جدت طرازی میں ہندوستان اور اسرائیل کے باصلاحیت افراد کی مدد کی جاسکے۔ نیز یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سے انسانی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوگا۔ اخبار کے مطابق اس سے قبل اسرائیل کےو زیر اعظم نے  اپنی تقریر میں دعوی کیا تھا کہ نریندرمودی کی زیرقیادت‘ ہندوستان میں جدت اور اختراع کے ذریعہ انقلابی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ اب تک دنیا آئی پیڈس اور آئی پاڈس کے بارے میں جانتی تھی مگر اب اُسے آئی کریئٹ کے بارے میں جاننا ہوگا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ گجرات اور اسرائیل پہلی بار ایک دوسرے کے قریب نہیں آئے ہیں بلکہ گجرات  میں 2001 کے خطرناک زلزلے کے بعد بھی اسرائیل نے امداد کے لئے فیلڈ اسپتال قائم کئے تھے۔