ریڈیو فیچر: اردو کا آزادِ اوّل

مولانا محمد حسین آزادؔ

مولانا محمد حسین آزادؔ کی شاہکار اور بہترین تصنیف ’آبِ حیات‘ ہے ۔اس میں مشہور شعراء کے حالات مع نمونۂ کلام اور موصوف کے دلچسپ اور عالمانہ تنقید کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس سے قبل اس قسم کا تذکرہ کسی نے نہیں لکھا ۔آب حیات لکھ کر مولانا نے ایک جدید طرزکی تذکرہ نگاری کا آغاز کیا ۔ ایسی بے مثال طرزِ عبارت کہ جس کی نقل کی سب کوشش کرتے آئے ہیں مگر کماحقہٗ کوئی نہیں کر سکا۔

جن دنوں استاد ذوق کا طوطی بولتا تھا یعنی کہ انیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں مولانا محمد حسین آزاد دہلی کالج کی اورینٹل سیکشن میں تعلیم حاصل کررہے تھے تب ہر شام بلا ناغہ استاذ ذوق کی محفل میں شریک ہوتے۔ استاد بھی ان پر خاص کرم فرماتے۔ استاد ان محفلوں میں جو کچھ کہتے یہ اور دیگر شاگرد اسے لکھ لیتے ورنہ استاد کو کہاں فکر تھی کہ اپنا کلام یکجا کرتے لیکن مولانا نے اپنی آخری عمر میں حقِ شاگردی ادا کردیا اور صرف کلام ہی نہیں ذوق کے بابت وہ کیا ہے جو مولانا محمد حسین آزاد کے تحریر کردہ دیوانِ ذوق اور آبِ حیات میں نہیں ہے ۔

مولانا محمد حسین آزاد کے فن اور شخصیت کا احاطہ کرتا ہے یہ ریڈیو فیچر اردو کا آزادِ اوّل ۔ سماعت فرمائے