ریڈیو فیچر: سُن جا دِل کی داستاں

ہیمنت کمار

عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ زبردست تخلیقی صلاحیت والے لوگوں کی نجی زندگی کافی اُتھل پُتھل والی ہوتی ہے۔ ہیمنت کمار کا معاملہ اس ضمن میں قطعی مختلف تھا۔ ان کی نجی زندگی میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ ۱۹۴۵ میں ان کی شادی بیلا مکھر جی نام کی ایک بنگالی گلو کارہ سے ہوئی اور جلد ہی ہیمنت اور بیلا ایک بیٹے جینت اور ایک بیٹی رینو کے باپ بن گئے۔ بعد میں انھیں جینت سے اداکارہ مو سمی چٹرجی کی شادی ہوئی تھی۔ رابندر سنگیت سیکھنے کے لئے ہیمنت انادی دَستیدار کے شاگرد بنے لیکن سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ ہیمنت کمار کو استاد فیاض خان جیسے عظیم موسیقار سے استفادے کا موقع ملا حالانکہ بد قسمتی سے یہ ساتھ بہت دن تک نہیں چل پایا کیونکہ ۱۹۵۰ میں ہی استاد فیاض خان اپنے شاگرد کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر چل بسے۔

ایک فلمی گلوکار کے طور پر ہیمنت کمار کے کیریر کی شروعات ۱۹۴۱ میں ’ نیمائی سنیاس‘ نام کی فلم سے شروع ہوئی اور پھر انھوں نے یکے بعدیگرے کئی فلموں کے لئے گانے گائے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہیمنت کمار کے شروع کے کام نے انھیں ایک ایسی مضبوط فننی بنیاد فراہم کی جو ہر کسی کو آسانی سے نہیں ملتی۔ باقی اہم معلومات کے لیے سماعت فرمائیے فیچر سُن جا دِل کی داستاں