ریڈیو فیچر: آپ کی بات ، بات پھولوں کی

مخدوم محی الدین

جب ہندوستان کے سبھی شاعر، ادیب اور فن کار انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے مخدوم محی الدین کا شاعرانہ قلم پیش پیش تھا۔ مخدوم کی شاعری غلامی کے اندھیرے میں شاعری کی روشن مشعل لے کر آگے بڑھی تھی اور اس نے ہی منزل کا راستہ دکھاتے ہوئے ہم سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ’’دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو‘‘

سجاد ظہیر کہا کرتے تھے کہ مخدوم نے اپنی تیس چالیس سال کی انقلابی زندگی میں اپنے آرام و آسائش اور اپنی ذات کی تمام خواہشوں اور امنگوں کو ہمیشہ مٹایا اور دبایا تاکہ قوم کے مظلوم اور محنت کش عوام دکھ اور رنج اور تکلیف اور جبر اور سختی کے دا ئمی چکر سے نکل کر، نئی مسرت حاصل کر سکیں۔ اور یہ کہ ہمارے غریب اور مظلوم عوام مہذب اور متمدن زندگی کے روشن میدانوں میں سر بلند و سرخرو داخل ہو سکیں۔ مخدوم کی آزاد نظموں میں زیادہ تر ایسی ہیں جو سیاسی نظمیں ہونے کے باوجود نعرہ بازی نہیں محسوس ہوتیں ہیں ۔ ان کے اندر اعلیٰ قسم کی ادبیت اور اس سے بھی زیادہ موثر بلند آہنگی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی نظموں میں فکر و اسلوب کے ساتھ شیرینی اور خوش بیانی کا ایک نادر و نایاب آہنگ تھا جو پڑھنے والے کو انگلی پکڑ اپنا ہم سفر بنا لیتا تھا ۔ اس کی ایک اچھی مثال مخدوم کی نظم ’’قید‘‘ ہے جس کا آغاز ایسے ہوتا ہے گویا وہ دنیا کے سب سے بڑے سچ میں باقی دنیا کو شریک کر رہے ہیں۔ زندگی کے ساتھ ساتھ قلمی سفر کو بھی پیش کرتا ہے فیچر آپ کی بات ، بات پھولوں کی ۔ لیجئے سماعت فرمایئے