13.02.2018

جہاد لفظ کا اگر حقیقی مفہوم تلاش کیا جائے تو یہی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ لڑائی ہوتی ہے جو کسی عظیم اور نیک مقصد کے لئے لڑی جاتی ہے ۔ اس کا مقصد ہوس ملک گیری یا کسی کو نیچا دکھانا یا قتل کرنا نہیں بلکہ برائی کے خلاف صف آرا ہونا ہوتا ہے ۔لڑائی کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جہاد ہوتا ہے ۔یہ ظالم کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے ۔کبھی حکمراں ،کبھی غاصب اور کبھی قاتل، سو دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق جسے ملتی ہے وہی صحیح معنوں میں جہادی کہلانے کا مستحق ہوتا ہے ۔ خود کش بموں سے بے قصور انسانوں کے جسم کے چیتھڑے اڑانا جہاد نہیں ہوتا۔ جہاد ظالم کے خلاف ہو تا ہے مظلوم کے خلاف نہیں، اگر اس تناظر میں عاصمہ جہانگیر کی زندگی کا مطالعہ کریں تو وہ مجسم جہاد نظر آتی ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے نہ صرف پاکستان کے مظلوم اور بے یارو مدد گار لوگوں کے لئے آواز اٹھائی بلکہ انسانی حقوق اور وقار کے تحفظ کے لئے بھی لڑائی لڑی۔ ان کے انتقال سے نہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچا بلکہ پوری عالمی برادری کو زبر دست دھچکا لگا ہے ۔ وہ اپنی بے خوف آواز اور حوصلے کے لئے پوری دنیا میں جانی جاتی تھیں۔ بلا شبہ پاکستان کے لوگوں کو ان پر فخر ہونا چاہئے کہ انہوں نے پاکستان کے دبے کچلے عوام ،اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے لئے ہر قدم پر ہر مرحلے میں اور ہر محاذسے لڑا۔ ظاہر ہے اس راہ کا انتخاب کر کے انہوں نے اپنی راہ میں بہت سارے کانٹے بچھالئے تھے۔ لیکن یہ راہ تو ہوتی ہی ایسی ہے جس میں ہر قدم پر کانٹے اور رکاوٹیں ملتی ہیں۔ جس آواز کو بقول ایکسپریس ٹریبیون ڈکٹیٹر نہیں دبا سکے ،جس آواز کو دہشت گرد نہیں خاموش کر سکے، وہ آواز خود اپنے دل کے ہاتھوں خاموش ہو گئی ۔

ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ 66 سال کی عمر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔ ان کی اصل شناخت یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ اور پاکستان میں بحالیٔ جمہوریت اور آئین و قانون کی بالا دستی کے لئے ہر ہر قدم پر لڑائی لڑی۔ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی پہلی خاتون صدر بنی تھیں۔ ایک وکیل کی حیثیت سے وہ عالمی پیمانے پر جانی جاتی تھیں۔ انہیں ستمبر2016 میں اقوام متحدہ کی طرف سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کی روداد مرتب کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ عمر کے آخری دور تک وہ یہ ذمہ داریاں نبھاتی رہیں ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بانی ممبران میں سے وہ ایک تھیں۔ یہ کمیشن 1987 میں قائم کیا گیا تھا اور تب سے 1993 تک وہ ہیومن رائٹس کمیشن کی سکریٹری جنرل تھیں اور اسی سال یعنی 1993 میں ہی وہ کمیشن کی چیئر پرسن بنی تھیں لیکن جب سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی  صدارت کے لئے کھڑی ہوئیں تو انہوں نے کمیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی موجودہ چیئر پرسن ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن اپنے قیام کے روز اول سے ہی عاصمہ جہانگیر کی وابستگی اور ان کی خدمات کی وجہ سے جاناجاتا تھا۔ان کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے فروغ کے لئے ان کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ انہوں نے فوجی آمریت کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ۔ جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں بحالیٔ جمہوریت کے لئے آواز اٹھانے کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا گیا ۔ اپنے آپ کو اعتدال پسند اور روشن خیال کہنے والے ایک ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو بھی عاصمہ جہانگیر کی روشن خیالی پسند نہ آئی اور انہوں نے انہیں نظر بند کر دیا تھا لیکن ان کی آواز کو کوئی بھی ڈکٹیٹر دبا نہ سکا ۔ وہ فیض کے ان مصرعوں پر ہمیشہ عمل کرتی رہیں۔

بول کہ لب آزا دہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

بول کہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

اپنی بے غرض اور بے لوث خدمات کے لئے عاصمہ جہانگیر پوری دنیا میں جانی جاتی تھیں۔ان کی خدمات کا اعتراف بھی پوری دنیا میں کیا گیا ۔ انہیں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان میں بھی کئی ایوارڈ ملے لیکن ان کے علاوہ بھی کئی بین الاقوامی ایوارڈ ملے ۔ مثلامیگا سیسی ایوارڈ اور مارٹن اینال ایوارڈبرائے انسانی حقوق،یونیسکو کی طرف سے انہیں ثقافت اور انسانی حقوق کو فروغ دینے سے متعلق ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انعام دیا گیا۔اس کے علاوہ فرانس سے بھی انہیں ایک اہم ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ پاکستان کے اخبار ڈان نے لکھا ہے کہ’’ ان کا کام تو ختم ہوا لیکن پاکستان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ اندھیرے اب بھی چاروں طرف پھیل رہے ہیں۔ کاش کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی اور فرد جلد ہی منظر عام پر آئے‘‘۔ عاصمہ جہانگیر نے بہت سے قومی اور بین الاقوامی انعام اور اعزاز حاصل کئے لیکن ان کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ آج پاکستان اور بیرون پاکستان ہر وہ شخص ان کی کمی محسوس کر رہا ہے جسے انسانی حقوق و وقار اور جمہوریت عزیز ہے اور جمہوریت خود انسانی حقوق کے تحفظ کی علامت ہوتی ہے۔