چابہار کے نزدیک واقع’عمان بندر گاہ‘تک ہندوستان کی اسٹریٹجک رسائی کا فیصلہ

آج ملک کے تمام اخبارات نے وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دورے کے حوالے سےعمان میں ان کی مصروفیات اور عمان بندر گاہ تک ہندوستانی فوجوں کی رسائی پر اہم خبریں شائع کی ہیں۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس اپنی خبر میں رقم طراز ہے کہ بحر ہند میں اپنے اثر میں توسیع کے مقصد سے ہندوستان کو فوجی استعمال کے لئے عمان  کی الدقم بندر گاہ تک رسائی اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہو گئی ہے جس کے لئے ہندوستان نے عمان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ روزنامہ نے اعلیٰ اختیاراتی ذرائع کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ خطے میں چین کے غلبے اور سر گرمیوں کو روکنے کے لئے یہ ہندوستان کی بحری حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اخبار نے اس اقدام کو نریندر مودی کے غیر ملکی دورے کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عمان کے سلطان سید قابوس بن السعید السعید سے ملاقات کی اور اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون سے متعلق مفاہمت کی دستاویز کے ضمیمے پر دستخط کئے گئے جس کے تحت الدقم بندر گاہ اور خشک گودی کی سہولیات ،ہندوسانی جہازوں کے رکھ رکھاؤ کے لئے حاصل ہو جائیں گی۔واضح ہو کہ یہ بندر گاہ ایران کی چا بہار بندر گاہ کے قریب واقع ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو الدقم ہندوستان کی بحری سلامتی کے لئے نہایت موزوں ہے ۔ دونوں ممالک کے بحری محافظوں کے درمیان 2005 میں مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کئے گئے تھے جس پر 2016 میں نظر ثانی کی گئی ۔ اخبار نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس دستاویز میں باہمی تعلقات کے استحکام کے لئے ایک عمومی لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے ۔ بیان کے مطابق انسداد دہشت گردی ،معلومات کے تبادلے اور صلاحیتوں کی تعمیر کے شعبوں میں جاری سلامتی شراکت پر طرفین نے اطمینان کا بھی اظہار کیا ۔ دونوں ممالک  نے موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ۔ ان میں دفاعی افواج کی تینوں شاخوں کے ذریعہ مشترکہ مشقیں،بری ،بحری اور فضائی افسران کو تربیت اور ساحلی دفاع میں تعاون شامل ہے۔طرفین نے دہشت گردی کے اعانت کاروں اور حامیوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔نیز یہ کہ بین الاقوامی برادری ان تمام افراد اور اداروں کے خلاف فوری کارروائی کرے جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں اور اس کو اپنی پالیسی کے بطور استعمال کر تے ہیں۔