14.05.2018 جہاں نما

چھبیس گیارہ حملوں سے متعلق شریف کے بیان سے بھارتی موقف کی تائید

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک میں ملیٹنٹ تنظیمیں شدت سے سر گرم ہیں۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے اس بیان پر بھارت کے رد عمل کو نمایاں اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے اپنی خبر میں وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ نواز شریف کا ملیٹنٹوں کے سلسلے میں عوامی اعتراف ایک سنگین انکشاف ہے، اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ 26/11کو ممبئی حملوں کے ذمہ دار دہشت گردوں کے پاکستان سے تعلق کے سلسلے میں بھار تک ا موقف صحیح ہے۔ اخبار رقمطراز ہے کہ جمعے کے روز ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے پہلی بار پاکستان کی اس پالیسی پر سوال اٹھایا تھا جس کے تحت اس نے غیر سرکاری عناصر کو سرحد پار کرنے اور ممبئی میں لولوگوں کے قتل عام کی جازت دی تھی۔ اخبار نے ایک اخباری کانفرنس میں نرملا سیتا رمن کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہندوستان کا اب تک یہ موقف رہا ہے کہ ممبئی حملوں کی سازش دہشت گردوں نے پاکستان میں بیٹھ کر رچی تھی اور نواز شریف کے اس تازہ بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کا یہ موقف صحیح تھا۔

 

شریف کے بیان پر پاکستان میں وبال، این ایس سی کی میٹنگ جلد

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے پاکستان کے اعلیٰ اختیاراتی ذرائع کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے سلسلے میں نواز شریف کے اعتراف کے بعد پاکستان کی فوجی اور سول قیادت کی ایک میٹنگ متوقع ہے جونہایت عجلت میں بلائی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کی ایک میٹنگ اگلے دو روز میں متوقع ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ نواز شریف کے اس اعتراف سے پاکستان میں ایک وبال کھڑا ہوگیا ہے اور وہاں ایک بحث چھڑ گئی ہے ۔ ان کے مخالفین بھارت کے موقف کی تائید کرنے پر ان کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں جبکہ سچ بولنے کا حوصلہ دکھانے پر بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر ان کی ستائش کررہے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے سوال کیا تھا کہ اجمل قصاب اور نو دیگر دہشت گردوں کو سرحد پار کرنے اور 2008 میں ممبئی میں قتل عام کرنے کی کیوں اجازت دی گئی تھی نیز یہ کہ غیر سرکاری عناصر کی پشت پناہی کرنے پر پاکستان الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ ممبئی حملوں کے حوالے سے اخبار نے توجہ دلائی ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف مقدمہ تقریباً رک ساگیا ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ ممنوعہ لشکر طیبہ کا آپریشنل سرغنہ لکھوی ان حملوں میں ملوث تھا۔ لکھوی ا ور دیگر مشتبہ افراد پر 2008 سے اسلام آباد کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ 2015 میں لاہور ہائی کورٹ نے لکھوی کو رہا کردیاتھا۔

 

مودی کے دورۂ نیپال سے بھارت کےساتھ تعلقات کو نئی جہت

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے وزیر اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورۂ نیپال پر اپنے اداریئے میں تحریر کیا ہے کہ نریندر مودی نے نیپال کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو نئی سمت دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے نیپالی ہم منصب اور ان کی حکومت کے نمائندوں سے میٹنگ کی تھی اور طرفین نے باہمی پروجیکٹوں پر بات چیت کی۔ اداریئے کے مطابق اس دورے سے چار اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ اول اپنے پڑوسیوں کےساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بھارت نے مذہب اور ثقافت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ چین نقد امداد اور رابطے کے وعدے پر بھارت کی بیرونی حد میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ دوئم بھارت نے کٹھمنڈو کو پھر یقین دلانے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ نیپال میں منتخبہ حکومت کے احترام پر عہد بستہ ہے اور اس کا نیپال کی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ سوئم دہلی حکومت کو بخوبی احساس ہے کہ نیپال صرف اس کا ہی پڑوسی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی سرحدیں دوسرے ملکوں سے بھی ملتی ہیں اور چین کے پڑوسی ہونے کی بنا پر اس کو خصوصی حساسیت حاصل ہے۔ تاہم اخبار کے مطابق نیپال میں عدم مداخلت کا مطلب قطعاً عدم سروکار نہیں ہے۔ اسی وجہ سے نریندر مودی نے تمام اہم سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اور کہا کہ بھارت ان کو اور نیپال کی جمہوریت کو مستحکم دیکھنے کا خواہاں ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کا آغاز بہار کی سرحد سے ملحق جنک پور میں جانکی مندر میں پرارتھنا سے کیا تھا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مدھیسی بھارت کے لئے اہمیت کے حامل ہیں اور چہارم یہ کہ اس حالیہ دورے میں بجلی، ریل، اندرون ملک آبی راستوں ، سڑکوں وغیرہ کے پروجیکٹوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ ایک طرف اگر بھارت کو اپنی عہد بستگی پر پورا اترنا ہوگا اور بھارت کے ساتھ رشتوں میں پائداری کے لئے اب گیند کے پی اولی کے پالے میں ہے۔

 

انڈونیشیا میں آئی ایس حامی کنبے نے کئے چرچوں پر خود کش حملے

انڈونیشیا میں دو بیٹیوں سمیت 6 افراد کے کنبے نے اتوار کے روز سروس کے دوران تین چرچوں پرخود کش بمباری کی جس میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ روزنامہ ٹری بیون اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ اب تک کے سب سے اندوہناک حملے ہیں۔ حملہ آور خود کش بمباروں کا تعلق آئی ایس حامی مقامی جماعت انشرت دولہ سے ہے۔ اس گروپ کا سرغنہ امان عبدالرحمٰن ہے جو جیل میں ہے۔ یہ گروپ جکارتا میں 2016 میں گولی باری اور خود کش حملے سمیت متعدد مہلک واقعات میں ملوث رہا ہے۔صدرجو کو ودو دونے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائیں۔ پولیس نے سورابایا سینٹر پینٹے کوسٹل چرچ حملے میں استعمال کئے گئے دو بموں کو بھی ناکارہ کیا جو پھٹ نہیں سکے تھے۔

 

افغانستان میں دھماکوں اور لڑائی میں 15 افراد ہلاک

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے افغانستان میں آئی ایس کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کی خبر میں تحریر کیا ہے کہ جلال آباد شہر میں سرکاری عمارتوں پر حملے کے بعد سلامتی افواج کے ساتھ جنگجوؤں کی لڑائی میں 15 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ملیٹنٹوں کی عمق خبر رساں ایجنسی نے اس دعوی کی تصدیق کی ہے۔ اخبار نے حکام کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ دہشت گردوں نے اسٹیٹ اکاؤنٹس آفس کے داخلی دروازے پرایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد مشین گنوں اور راکٹ سے پھینکے جانے والے گرینیڈس سے مسلح 6 افراد نے ہلہ بول دیا۔ اخبار کے مطابق، یہ حملہ شہر کے پر ہجوم علاقے میں کیا گیا جہاں ایک اسکول سمیت کئی سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ گولیوں کے باہمی تبادلے کے دوران تقریباً 1000 لڑکیاں وہاں پھنس کر رہ گئی تھیں۔ اس سال کئے گئے حملوں میں یہ تازہ ترین حملہ بے حد شدید تھا جن میں اب تک سیکڑوں افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جس کے بعد مغربی ممالک کی حمایت یافتہ صدر اشرف کی حکومت زبردست دباؤ میں آگئی ہے۔

 

رمضان المبارک میں ملیٹنٹ دہشت گردی ترک کردیں: وزیر مملکت کی اپیل

وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے قرآن شریف کا حوالہ دیتے ہوئے ملیٹنٹوں سے کہا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے وسط مئی سے شروع ہونے والے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں تشدد ترک کردیں۔ جتیندر سنگھ نے ان خبروں کی تردید کی کہ حکومت کشمیری ملیٹنٹوں کو نان انی شئیشن آف کمبیٹ آفرپر غور کررہی ہے۔اتوار کے روز ایک قومی اخبار سے خصوصی بات چیت میں جب ان سے پوچھا گیا کہ جموںوکشمیرمیں حالات بدترین ہونے کی خبریں موصول ہورہی ہیں تو جتیندرسنگھ نےاس سے انکار کیا اور کہا کہ اس کے برخلاف گزشتہ کئی دہائیوں میں پہلی بار سرحدوں کے اندر اور باہر ملیٹنٹوں کے خلاف کئی فیصلہ کن اقدامات کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے ملیٹنٹ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اپنے آخری دور میں ہے۔

 

چار ریاستوں میں زبردست طوفان، ژالہ باری اور بارش، 41 افراد ہلاک

اخبار نے دوسری اہم خبروں کے ساتھ شمالی بھارت کی چار ریاستوں میں آندھی، طوفان اور زبردست بارش کی خبروں کو بھی جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس طوفان نے اترپردیش ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور قومی راجدھانی دہلی میں کافی تباہی مچائی جن کی وجہ سے 41 افراد ہلاک اور املاک کی زبردست تباہی ہوئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ طوفان اور ژالہ باری سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست اترپردیش رہی جہاں 18 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مغربی بنگال میں 12 ، آندھراپردیش میں 9 اور دہلی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ کئی مقامات پر طوفان اتنا زبردست تھا کہ اس کی وجہ سے پیڑ گر گئے اور سڑک، ریل اور ہوائی خدمات متاثر ہوئیں۔