کرناٹک: اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز

کرناٹک میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے کل کے نتائج کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہین۔ جس میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی نے اپنے نئے لیڈر کے انتخاب کے لئے آج بنگلورو میں لے جسلیٹیو پارٹی کی میٹنگ بلائی ہے۔ مرکزی وزراءجے پی نڈّا اور دھرمیندرپردھان مرکزی مشاہد کے طور پر اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ اتحادی حکومت کی تشکیل کے لئے کانگریس رہنما آج JDS کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا سے ملاقات کریں گے۔

بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے جسے 222 سیٹوں میں سے 104 سیٹیں ملی ہیں ، جس کےلئے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے تھے لیکن یہ حکومت سازی کے لئے مطلوبہ 113 سیٹوں سے کم ہے۔دوسری طرف کانگریس کو 78 سیٹیں ملی ہیں اور اس نے جے ڈی ایس کے ساتھ انتخابات کے بعد اتحاد کیا ہے۔ جے ڈی ایس اور اس کے اتحادی بی ایس پی کے پاس 38 سیٹیں ہیں۔

بی جے پی اورجے ڈی ایس کانگریس اتحاد دونوں نے کل شام گورنر واجو بھائی والا سے ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ بی ایس یدی یورپا اور سینئر پارٹی لیڈر اننت کمار کی زیر قیادت بی جے پی نے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی بات کہی ۔ جناب یدی یورپا نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بی جے پی کو سب سے بڑی پارٹی ہونے کی حیثیت سے ارکان کی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ وزیراعلیٰ سدارمیا، سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارا سوامی نے بھی گورنر سے ملاقات کی۔ ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ جناب سدارمیا نے کہا کہ ان کے پاس سرکار کی تشکیل کے لئے مطلوبہ نمبر ہیں۔

کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈروں نے کل رات بنگلورو کے ایک پرائیویٹ ہوٹل میں میٹنگ کی، بعد میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ دونوں پارٹیوں میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایچ ڈی کماراسوامی مخلوط حکومت کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ البتہ حکومت میں شامل ہونے یا باہر سے حمایت کرنے کے معاملے پر آج فیصلہ کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کون ہوگا، اس معاملے پر بھی میٹنگ میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

گورنر نے دونوں گروپوں سے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے باضابطہ طور پر انتخابات کے نتائج کے اعلان تک انتظار کریں۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے کرناٹک میں جیت کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ کل شام نئی دلی میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ انتخابات کے دوران اپوزیشن نے جھوٹ کے سہارے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی، لیکن عوام نے اسے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی بھارت اور اس کی قابل فخر گونا گونیت کی ترجمانی کرتی ہے۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے ان سبھی کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے کرناٹک انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیا ہے۔ ایک ٹوئیٹ میں جناب گاندھی نے کہا کہ پارٹی ان کی حمایت کی تعریف کرتی ہے اور وہ ان کے لئے لڑتی رہے گی۔