16.05.2018 جہاں نما

پاکستانی عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ کون غدّار ہے؟ نواز شریف کا فوج سے سوال

ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے سلسلے میں نواز شریف کے اعتراف پر وہاں ہنگامہ جاری ہے اور زبانی جنگ تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے اس سلسلے کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے عالمی صفحے پر شائع اپنی خبرمیں تحریر کیا ہے کہ اس زبانی جنگ میں کل اس وقت اور بھی تیزی آئی جب نواز شریف نے ایک قومی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا، تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ کون غداری کا مرتکب ہوا ہے؟ احتساب عدالت کے باہر جہاں ان پر اور ان کے اہل خانہ پر بدعنوانی کے الزامات کا مقدمہ چل رہا ہے، نواز شریف نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیشن کے اس بیان کو غلط ، تکلیف دہ اور دھمکی آمیز قرار دیا جس میں ان کے بیان کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا  گیاتھا۔ تین بار وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پرمتمکن والے سابق وزیر اعظم نے 2016 میں قومی سلامتی کمیشن کی میٹنگ میں فوج سے اپنی جھڑپ کی یاد دہانی کرائی ، جس میں انھوں نے جیش محمد، جماعت الدعوہ اور حقانی نیٹ ورک سمیت ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی پس پردہ فوجی اعانت و حمایت کی وجہ سے پاکستان کے الگ تھلگ پڑ جانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اخبار نے نواز شریف کےسوالات کے حوالے سے مزید تحریر کیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ملک کو اب معلوم ہوجانا چاہئے کہ دہشت گردی کے فروغ اور موجودہ ابتر حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے ملک کو ان حالات تک پہنچایا ہے؟ کس نے اس ملک میں دہشت گردی کو متعارف کرایا ہے؟ کون محب وطن ہے اور کون غدّار؟ کس کی وجہ سے پاکستان الگ تھلگ پڑ گیا ہے؟ اور کون ملک کو اس مرحلے پر لے آیا ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ اسی دوران پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ نواز شریف پہلے شخص نہیں ہیں، جنھوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کا معاملہ اٹھایا ہے، اس سے پہلے بھی کئی رہنماؤں نے یہ معاملہ ا ٹھاچکے ہیں ، جن میں سابق صدر پرویز مشرف، آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی احمد شجاع پاشا، پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ، عمران خاں وغیرہ شامل ہیں۔

11؍26 حملوں کے سلسلے میں کمیشن کے قیام کی تجویز سے پاکستانی وزیر اعظم متفق

روزنامہ ایشین ایج نے اس سلسلے میں اپنی خبرمیں تحریر کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شاہد  خاقان عباسی نے ممبئی حملوں کے بارے مین نواز شریف کے بیان پر کمیشن کے قیام کی ان کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عباسی نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا جارہا ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حب الوطنی کا تصدیق نامہ جاری کرے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ، اس معاملے کی گہرائی تک جانے کےلئے کمیشن قائم کرسکتی ہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ آئندہ بات چیت کی معطل

اخبارات نے جن دیگر خبروں کو اپنی شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے، ان میں کوریا جزیرہ نما سے متعلق خبر بھی اہمیت کی حامل ہے۔ خبر کے مطابق شمالی کوریا نے امریکہ-سیول فوجی مشقوں کی وجہ سے جنوبی کوریا کے ساتھ بدھ کے روز ہونے والی اعلیٰ اختیاراتی بات چیت معطل کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ کم جون ان اور ڈونل ٹرمپ کے درمیان اگلے ماہ ہونے والی سربراہ ملاقات بھی کھٹائی میں پڑ سکتی ہے۔ اخبار شمالی کوریا کی سینٹرل نیو ایجنسی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ایجنسی نے امریکہ–جنوبی کوریا کی فضائی فوجی مشق’ میکس ٹھنڈر میں امریکہ کے اسٹیلتھ(Stealeth) فائٹراوربی 52 جنگی طیاروں کی شرکت کو ایک قسم کی استعال انگیزی قرار دیا ہے، جو شمالی –جنوبی کوریاؤں کے درمیان تعلقات کے فروغ کے رجحان کے خلاف ہے۔ اخبار کے مطابق، اس آئندہ سربراہ میٹنگ کے ملتوی ہوجانےسے ٹرمپ کی ان کوششوں کو زبردست جھٹکا لگ سکتا ہے، جو وہ اپنے دور صدارت میں سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے حصول کےلئے کررہے ہیں۔

 

غزہ قتل عام: اسرائیل کو بین الاقوامی برادری کے غم و غصے کا سامنا

امریکہ کے سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کے خلاف احتجاج کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کے ذریعے  سرحدی باڑھ کے پار سے فائرنگ میں 59 افراد کی ہلاکت اور دو ہزار سات سو افراد کے زخمی ہوجانے کے بعد اسرائیل کو بین الاقوامی برادری کے زبردست احتجاج کا سامنا ہے اور اس پر طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس سلسلے میں اپنی خبرمیں تحریر کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج میں ترکی نے اسرائیل کے سفیر کو ملک سے نکال دیا ہے، جبکہ آئرلینڈ اور بیلجیم نے اسرائیل کے ایلچیوں کو طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب نمائندہ یوروپی ممالک اور اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی دفتر نے اس قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 2014 کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ سرحد پار کی جنگ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ اخبار کے مطابق امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کی وجہ سے ڈونل ٹرمپ کے ’صدی کے سب سے بڑے سمجھوتے‘ کے منصوبے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ  بڑی تعداد میں ان ہلاکتوں کی وجہ سے اسرائیل کی اوپن فائر پالیسیاں ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔ دائیں بازو کے گروپوں کا کہنا ہے کہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا مہلک استعمال غیر قانونی ہے کیونکہ ان احتجاجیوں سے اسرائیل کے فوجیوں کی جانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔

ایران- امریکہ نیو کلیائی سمجھوتے کی معطلی کا معاملہ: ایران یوروپی یونین سے حمایت کا متمنی

روزنامہ ٹری بیون نے ایران کے نیو کلیائی سمجھوتے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران –یوروپ کے ساتھ اپنے اس نیو کلیائی سمجھوتے کو بچانے کےکے لئے ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوشش کررہا ہے، جس کو ڈونل ٹرمپ کاا لعدم قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کو پوری امید ہے کہ وہ اس معاہدے سے ہونے والے معاشی فوائد حاصل کرتا رہے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، اپنے برطانوی ، فرانسیسی اور جرمن ہم منصبوں سے ملاقات سے قبل برسلز پہنچ گئے ہیں، تاکہ یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ فیڈریکا موگھیرینی (Federica Mogherini) سے بقول ان کے خوشگوار اور تعمیری بات چیت کی جاسکے۔ اخبار کے مطابق، ایران کے صدر حسن روحانی نے یوروپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ بقول ان کے امریکہ کی غیر قانونی اور غیر جواز پابندیوں کے خلاف اس کا ساتھ دے۔ اخبار نے یاد دلایا ہے کہ ٹرمپ اپنے پیش رو براک اوبامہ کے ذریعے ایران کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے کو ایسا دہشت ناک اور یکطرفہ قرار دے رہے ہیں، جو اس سے قبل کبھی بھی نہیں طے پایا  ہے، کیونکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا مشرق وسطیٰ کے تنازعوں میں اس کے رول کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں معلق اسمبلی

اخبارات نے کرٹانک اسمبلی کے حالیہ انتخابات اور اس کے نتائج پر خبریں اور اداریے شائع کیے ہیں۔ روزنامہ ایشن ایج نے اپنے اداریے میں تحریر کیا ہے کہ کرناٹک میں رائے دہندگان نے کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت سے نہیں فتحیاب کیا ہے۔  اخبار لکھتا ہے کہ برسراقتدار سدا رمیا کو مسترد کر کے ریاست نے ایک بار پھر ایک ہی پارٹی کو لگاتار دوسری بارفتحیاب نہ کرنے کو رجحان کو دہرایا ہے۔ یہ رجحان 1978 کے بعد شروع ہوا تھا جب کرناٹک کے عوام نے کانگریس کے وزیر اعلیٰ دیو راج اُرس کو دوسری بار منتخب کیا تھا۔ حالانکہ بی جے پی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے، مگر اس کا ووٹ فیصد اپنے قریبی حریف کانگریس سے زیادہ نہیں رہا۔ اسی دوران کانگریس نے جے ڈی ایس سے بعد از انتخابات اتحاد کیا ہے اور آخر الذکر نے گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار بی ایس یدی یورپّا نے  بھی گورنر کے سامنے اپنا دعویٰ رکھا ہے۔ تاہم اخبار کے مطابق جب تک کانگریس اور جے ڈٰ ایس کے ایم ایل اے ٹوٹ کر بی جے پی میں شامل نہیں ہوجاتے اس وقت تک بی جے پی حکومت نہیں بناسکے گی۔ دوسری جانب جے ڈی ایس کو بلا شرط حمایت دینے کے کانگریس کے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں اگلے لوک سبھا انتخابات کے لیے غیر بی جے پی جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کا خیال ہے۔

جموںوکشمیر میں پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایک کانسٹبل ہلاک

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی خبر ہے کہ جموںوکشمیر میں سامبا سیکڑ کی بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی میں بی ایس ایف کا ایک کانسٹبل دیویندر سنگھ ہلاک ہوگیا۔ اس سے قبل 10 مئی کو بھی پونچھ ضلع میں پاکستان کے ذریعے ہلکے اسلحہ کی فائرنگ میں ایک 22 سالہ شہری ہلاک ہوگیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کے ذریعے اب تک گولہ باری اور فائرنگ کے 700 واقعات ہوچکے ہیں اور دیویندر کی ہلاکت کے بعد اس سال مرنے والوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے ، جو ایک سال میں سب سے زیادہ ہے۔