12.06.2018 جہاں نما

ٹرمپ اور کِم کے درمیان تاریخ ساز ملاقات-اہم معاہدے پر دستخط

امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن  کے درمیان ملاقات کی خبریں آج کافی گرم رہیں ۔ آل انڈیا ریڈیو نے اپنی نشریات میں بتایا ہے کہ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دستاویز پر دستخط کئے جس کو ٹرمپ نے انتہائی مربوط قرار دیا ہے ۔ ریڈیو نے ٹرمپ کے حوالے سے مطلع کیا ہے کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا اور کوریائی جزیرہ نما کے ساتھ تعلقات میں ماضی کے مقابلے میں کافی فرق آ گیا  اور یہ تعلقات اب مخصوص نوعیت کے حامل ہیں ۔ دستاویز پردستخظ کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ کم انتہائی اسمارٹ اور با صلاحیت مذاکرات کار ہیں۔ جواب میں کِم جونگ اُن نے کہا کہ دونوں ممالک نے تمام روکاوٹوں کو پار کرلیا ہے اور ماضی کو فراموش کر دیا ہے ۔ ریڈیو نے آگے بتایا ہے کہ پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے برسراقتدار رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

بھارت نے پاکستان سے جموں و کشمیر کے علاقوں کو خالی کرنے کے لئے کہا

بھارت نے نام نہاز جموں و کشمیر عبوری آئین میں 13ویں ترمیمی ایکٹ 2018 کے خلاف پاکستان سے سخت احتجاج کیا ہے اور اس سے تمام علاقوں کو فوری طور پر خالی کرنے کو کہا ہے  کیونکہ یہ تمام علاقہ اس کا اٹوٹ انگ ہے ۔نیز اس کی حیثیت میں تبدیلی سے متعلق کسی بھی طرح کی کارروائی غیر قانونی اور ناقابل قبول ہوگی۔ اخبار نے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ نام نہادآزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کاؤنسل کا ایک مشترکہ اجلاس جمعے کے روز پاکستان مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوا تھا۔ جس میں 1974 کے ایکٹ میں 13 ویں ترمیم کی منظوری دی گئی تھی ۔ جس کے تحت نام نہاد آزاد جموں وکشمیر کاؤنسل کے اختیارات ، آزاد جموں و کشمیر حکومت کومنتقل ہوں گے۔ نتیجتاً مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔ اخبار وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ 1947 میں انضمام کے تحت واضح کر دیا گیا تھا کہ نام نہاد آزاد جموں وکشمیر سمیت تمام ریاست جموں  و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لہذا پاکستان کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے تحت اس کے کسی حصے کی حیثیت میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں ہے اور وہ بھارت کے لئے قطعاً نا قابل قبول ہے۔

سلامتی کاؤنسل میں ممنوعہ جماعت الاحرار کے تعلق سے پاکستانی دعویٰ کے خلاف بھارت کا سخت احتجاج

گذشتہ سال پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل سے درخواست کی تھی کہ اس کی سرزمین پر سرگرم جماعت الاحرار پر بطور دہشت گرد تنظیم پابندی عائد کی جائے کیونکہ اس کا تعلق بھارت کی خفیہ ایجنسیوں سے ہے ۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے شائع اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ بھارت نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سلامتی کاؤنسل سے ان حوالوں کو  حذف کرنے کی درخواست کی ہے ۔ یہ درخواست بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ کرن ری جیجو اور سلامتی کاؤنسل کے مستقل رکن برطانیہ کی وزیر خارجہ برائے انسداد انتہاپسندی بیروینس ولیمس کے درمیان نئی دہلی میں ملاقات کے دوران کی گئی ۔ بھارت نے کہا کہ اس کو جماعت الاحرار پر پابندی پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ اس معاملے میں بھارتی ایجنسیوں کے حوالوں کے خلاف ہے جس کا پاکستان دعویٰ کر رہا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ تحریک طالبان سے منحرف گروپ جماعت الاحرار نے حال ہی میں پاکستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ خصوصاً ان حملوں کی جن میں پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجسنیوں ، سرکاری عمارتوں ، سیاستدانوں ، اقلیتی گروپوں اور وکیلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ گذشتہ سال سلامتی کاؤنسل نے پاکستان کی درخواست پر جماعت الاحرار پر پابندی عائد کی تھی ۔ الاحرار کے کمانڈر خراسانی پر الزام ہے کہ اس نے دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی سازش رچی تھی ۔اس حملے میں 150 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ اس پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے مارچ 2016 میں لاہور میں ایسٹر سنڈے کو خودکش حملے کی سازش بھی تیار کی تھی جس میں 75 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان میں دہشت گردانہ حملوں میں 41 افراد ہلاک

افغانستان کے دو صوبوں ننگر ہار اور جوز جان میں تشدد کے علیحدہ علیحدہ  واقعات میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ روزنامہ اسٹیٹسمین نے ژن ہوا خبر ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  ننگرہار صوبے میں آئی ای ڈی کے دھماکے میں 12شہری ہلاک ہوئے ۔ کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ د اری قبول نہیں کی ہے۔ ننگرہار صوبے میں 34 طالبان ملیٹنٹ اس وقت ہلاک ہو گئے جب افغان افواج نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے پر چھاپا مارا ۔ جوز جان صوبے میں طالبان ملیٹنٹوں نے ایک سیکیورٹی  چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں سات پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ۔ اخبارلکھتا ہے کہ طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر 9جون کو تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل صدر اشرف غنی نے بھی رمضان کے موقعے پر 13جون سے عیدالفطر کے پانچ روز بعد تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں احتساب بیورو نے شریف اور اہل خانہ کو ای سی ایل میں شامل کرنے کی دی ہدایت

پاکستان کے روزنامہ ڈان نے خبر دی ہے کہ قومی احتساب بیورو نے ایک بار پھر وزارت داخلہ سے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کے بچوں مریم ، حسن اور حسین نیز داماد سبکدوش کیپٹن محمد صفدر کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں شامل کئے جائیں ۔ احتساب بیورو نے وزارت سے یہ بھی کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ اسحاق ڈار کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے اور انٹر پول کے ذریعے ان کو اور شریف کے دو بیٹوں کو ملک واپس لانے کے لئے کارروائی شروع کی جائے ۔ اخبار  مزید رقمطراز ہے کہ اس سال 14 فروری کو احتساب بیورو نے اسی نوعیت کا ایک مراسلہ وزارت داخلہ کو تحریر کیا تھا لیکن حکومت نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی تھی ۔ وزارت داخلہ نے جواز پیش کیا تھا کہ عدالت سے حکم موصول ہونے کے بعد ہی وہ شریف اور ان کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں شامل کرے گی۔

جموں و کشمیر میں امن و ترقی میں شمولیت کے لئے علیحدگی پسند آگے آئیں : محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے علیحدگی پسندوں سمیت تمام متعلقین سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ آگے آئیں اور مذاکرات کے لئے مرکزی حکومت کی پیشکش کا مثبت جواب دیں ۔ روزنامہ ٹریبیون نے اپنی خبر کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ محبوبہ مفتی، سری نگر میں مہجورپُل کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی افواج پر گرینیڈ حملوں اور اسلحہ چھیننے کے واقعات سے ریاست میں فضا مُکّدر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے امید کا اظہار کیاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کوئی قابل لحاظ فیصلہ کریں گے اور کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے جس کو پر امن طریقوں سے حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہریاست میں امن و ترقی ہو سکے ۔

نئی دہلی میں جنوب ایشیائی طلباء کے لئے ایک ہی کلاس روم

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جنوبی ایشیا میں ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ایک ایسے پروجیکٹ کی خبر شائع کی ہے جو نئی دہلی میں زیر عمل ہے۔ جنوب ایشیا یونیورسٹی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں بنگلہ دیش، افغانستان ، سری لنکا ، پاکستان ، بھارت ، نیپال اور بھوٹان کے طلباء  معاشرتی اورلسانی امتیازات سے بالاتر ہو کر ایک ہی کلاس روم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ان کا نصاب اور فیکلٹی بھی مشترک ہوتے ہیں۔ اخبارلکھتا ہے کہ یونیورسٹی ماسٹرس اور ڈاکٹورل ڈگریاں دیتی ہے ۔ اس یونیورسٹی کے کیمپس اور اس کے نصف اخراجات حکومت ہند فراہم کرتی ہے ۔ اس سال تقریب تقسیم اسناد میں افغانستان کے 21،بنگلہ دیش کے 17،نیپال کے 11،پاکستان اور بھوٹان کے پانچ پانچ ، سری لنکا کے ایک اور بھارت کے 99 طالب علموں کو اسناد سے نوازا گیا ۔اس یونیورسٹی میں داخلے کے لئے خصوصی ایس اے یو ویزا فراہم کئے جاتےہیں۔