بھارت نے ٹرمپ۔ کم ملاقات کا خیر مقدم کیا

بھارت نے سنگاپور میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان چوٹی میٹنگ کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز  ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور بھارت نے کوریائی جزیرہ نما میں مذاکرات اور ڈپلومیسی کے ذریعے امن و استحکام قائم کیے جانے کی سبھی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ بھارت نے امید ظاہر کی کہ چوٹی میٹنگ میں طے پائے سمجھوتوں کو نافذ کیا جائے گا۔ اس طرح خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ بھارت نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کوریائی جزیزہ نما معاملے کو حل کرتے وقت نیوکلیائی توسیع کے بارے میں بھارت کی تشویش پر توجہ دی جائیگی، جس کا سلسلہ بھارت کے ہمسائے تک پھیلا ہوا ہے۔×

اس سے پہلے امریکہ نے کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کیے جانے کے پیانگ یانگ کے عہد کے عوض شمالی کوریا کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے ایک مشترکہ دستاویز پر دستخط کیے۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک امن اور خوشحالی کیلئے دونوں ملکوں کے عوام کی خواہش کے مطابق نئے تعلقات قائم کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ٹرمپ نے کہا کہ کِم کے ساتھ اُن کی بات چیت ایماندارانہ، براہِ راست اور سودمند رہی۔ امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ علاقے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا اور اس کی تصدیق کی جائیگی۔

جنوبی کوریا میں فوجیوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوجی صلاحیتیں کم نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی فوجی مشقیں بند کر دیں گے، جس کی وجہ سے پیانگ یانگ ناراض ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوریائی تنازعہ جلد ختم ہو جائے گا۔

جناب کِم نے کہا کہ انہوں نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور دنیا ایک بڑی تبدیلی دیکھے گی۔اسی دوران جنوبی کوریا نے ٹرمپ کِم چوٹی میٹنگ کو صدی کی بات چیت قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے امید ظاہر کی ہے کہ چوٹی میٹنگ کامیاب ہوگی اور اس کے نتیجے میں علاقہ نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک ہوگا۔ امن قائم ہوگا اور دونوں کوریاں اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

چین نے بھی ٹرمپ اور کِم کے درمیان ملاقات کو سراہا ہے اور خطے میں کشیدگی ختم کرنے کیلئے علاقے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پوری طرح پاک کرنے پر زور دیا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے پیچنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ معاملے کو حل کرنے کیلئے علاقہ نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہیے اور شمالی کوریا کی سلامتی کی تشویش دور کرنے کیلئے امن کا ایک طریقہ کار قائم ہونا چاہیے۔جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے بھی دستاویز پر دستخط کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔