13/06/2018

جیسے جیسے پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے‘ ویسے ویسے ایسی خبریں بھی لگاتار سننے کو مل رہی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں مختلف آئینی داروں کے انصاف کے پیمانے میں بھی جدا جدا  ہیں۔ بطور خاص وہاں کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا تضاد اس قدر نمایاں طور پر سامنے آرہا ہے کہ لگتا ہے کہ وہ سیاست دانوں بالخصوص برسر اقتدار یا طاقتور پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کےلئے وہ انصاف کا ایک الگ پیمانہ وضع کرتی ہے، جبکہ فوجی جنرلوں کے لیے اس کا وضع کردہ پیمانہ قطعی مختلف بلکہ متضاد ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اس نے اس بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا کہ وہ آئین کی ایک متنازعہ شق کے تحت صادق اور امین نہیں ثابت ہوئے اس لیے نہ صرف یہ کہ وزیراعظم نہیں رہ سکتے بلکہ قومی اسمبلی کے رکن بھی نہیں ہوسکتے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بعض دوسرے فیصلوں کے تحت وہ زندگی بھر کےلئے کسی سیاسی یا سرکاری عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیے جاچکے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ احتساب بیورو لگاتار وزارت داخلہ پر یہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ نواز شریف کی بیٹی مریم‘ بیٹوں حسن اور حسین اور داماد رٹائرڈ کیپٹن محمد صدر کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں۔ احتساب بیورو نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام بھی اسی لسٹ میں شامل کرنے کے لیے کہا ہے، تاکہ انہیں اور نواز شریف کے دونوں بیٹوں کو انٹر پول کی مدد سے پاکستان واپس لایا جاسکے۔ وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ان ناموں کو وہ اسی صورت میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرے گی، جب عدالت سے ایسا حکم جاری کیا جائے گا۔

بہر حال یہ باتیں سیاست دانوں اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں ہیں۔ تصوری کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان کے ایک سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے جنہیں ایک ہائی کورٹ نے 2007 کی ایمرجنسی نافذ کرنے کی پاداش میں نااہل قرار دیا تھا، کیونکہ ان کا وہ قدم غداری کے زمرے میں آتا تھا، ان کو سپریم کورٹ نے مشروط طور پر الیکشن لڑنے کی  بھی اجازت دے دی ہے اور ان کے وکیل کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں گے تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے انہیں تاعمر الیکشن لڑنے کا نااہل قرار دیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف پر اور بھی کئی مقدمات قائم ہیں اور بیشتر سنگین نوعیت کے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں 2016 میں میڈیکل گراؤنڈ پر پاکستان سے باہر جانے کی اجازت مل گئی تھی اور اب ان کے پاکستان واپس آنے اور الیکشن لڑنے کا راستہ بھی ہموار ہوتا نظر آتا ہے۔ ایک تازہ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے متعلقہ سرکاری محکمہ سے کہا ہے کہ وہ  جنرل مشرف کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ پر عائد پابندیوں کو اٹھا لے۔ یہ آرڈر عدالت نے اس پس منظر میں جاری کیا ہے ، اپنے ایک فیصلے کے تحت اس نے جنرل مشرف کو الیکشن لڑنے کی اجازت غیر مشروط طور پر دے دی ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2014میں عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا، کیونکہ انھوں نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کر کے اعلیٰ عدالتوں کے متعدد ججوں کو اپنے گھروں میں نظر بند کیا تھا اور 100 سے زیادہ دوسرے ججوں کو برخاست کردیا تھا۔

پاکستانی عدلیہ کے اس طرح کے فیصلوں سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو دیانتدارانہ نہیں کہا جاسکتا اور بعض سیاست دانوں کا یہ الزام کچھ غلط نہیں لگتا کہ فوج اور عدلیہ نے مل کر حکومت اور پارلیمنٹ کو مذاق بنا رکھا ہے۔