13.06.2018 جہاں نما

بھارت نے کیا ٹرمپ-کم ، سربراہ ملاقات کا خیر مقدم، ساتھ ہی نیو کلیائی توسیع سے متعلق تشویش کا کیا اظہار

آج ملک کے تمام اخبارات نے ڈونل ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ہونے والی میٹنگ اور اس میں طے پائے معاہدے کے سلسلے میں خبروں کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ سنگاپور کی اس میٹنگ کا بھارت نے کھلے دل سے خیر مقدم کیا ہے اور اس کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، اس کے ساتھ ہی اس نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے برآمد نتائج کے نفاذ سے جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن اور استحکام قائم ہوگا، نیز اس سربراہ کانفرنس سے بھارت کےلئے نئے سفارتی مواقع پیدا ہوں گے۔ اخبار نے وزارت خارجہ کے رد عمل کے حوالے سے آگے تحریر کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کے حل سے بھارت کے پڑوسی ملک میں نیو کلیائی توسیعی تعلقات سے متعلق اس کی تشویشات کو دور کرنےمیں بھی مدد ملے گی۔ اخبار کے مطابق اس کا واضح اشارہ پاکستان کے نیو کلیائی پروگرام کیطرف ہے۔ بھارتی مبصرین کا خیال ہے کہ جنگ کے  دہانے پہونچے ان دونوں ممالک کے درمیان ملاقات اور علاقے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا ان کا منصوبہ بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو امید ہے کہ نیو کلیائی ترک اسلحے سے شمالی کوریا، چین اور پاکستان کے درمیان اسلحہ جات کی توسیع کے خفیہ رابطوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔ بھارت دنیا میں کسی مزید نیو کلیائی ملک کے اضافے کے خلاف ہے اور یہی نظریہ اس کا ایران کے بارے میں بھی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس سربراہ ملاقات کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوگا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان براہ راست تعلقات سے چین کے اثر اور غلبے میں اگر مکمل طور پر نہیں تو کسی حد تک کمی آئے گی۔

بھارت اور پاکستان، ٹرمپ-کم ملاقات سے  حاصل کریں سبق: شہباز شریف

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے ڈونل ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان سربراہ ملاقات پر پاکستان میں پی ایم ایل نواز کے صدر شہباز شریف کے رد عمل سے متعلق خبر کو اپنے عالمی صفحے پر شائع کیا ہے۔ اخبار شہباز شریف کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو اس سربراہ ملاقات سےسبق لینا چاہئے ،کسی نیو کلیائی تنازع سے بچنے کےلئے اسی طرح کے اقدامات کرنا چاہئے اور دونوں کو باہمی مذاکرات شروع کرنا چاہئے۔ ان کے الفاظ میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سربراہ ملاقات بھارت اور پاکستان کےلئے ایک مثال ہونی چاہئے۔ ان کے ہی الفاظ میں جب امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان معاہدہ ہوسکتا ہے تو پاکستان اور بھارت اس سے کیوں پیچھے رہیں۔ اخبار کے مطابق 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی ٹھوس بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کےلئے اچانک ہی لاہور کا دورہ کیا تھا، مگر بھارتی فوجوں پر لگاتار دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے تعلقات میں گرم جوشی پیدا نہیں ہوسکی تھی۔ اس کے بعد کنٹرول لائن پر پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوتی گئی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ شہباز شریف نے جن کو جولائی میں اگلے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار خیال کیا جارہا ہے‘اس خطے میں قیام امن کےلئے مربوط مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں قیام امن کے عمل پر زور دینا چاہئے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان پرامن مذاکرات دوبارہ شروع ہونا چاہئے۔

عام انتخابات سے قبل بدعنوانی مقدمات کے فیصلے کی تاریخ، انتخابات میں دھاندھلی کے مترادف: نواز شریف

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے پاکستان کے حوالے سے ایک اور خبر کو بھی جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار نے نواز شریف کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف بدعنوانی مقدمے کے فیصلہ سنانے کیلئے عدالت عظمیٰ نے 10 جولائی کی جو تاریخ مقرر کی ہے اس کا واضح مقصد ملک میں 25 جولائی کو ہونے والے اہم انتخابات میں دھاندلی کی ایک کوشش ہے، ان کے ہی الفاظ میں اگر یہ دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے، جس کے تحت عدالت عظمیٰ عام انتخابات سے قبل ان کے مقدمے پر اثر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ شریف نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی مقدمے میں انسدادِ بدعنوانی عدالت کے ذریعے متعدد سماعتیں اور رات  و دن چلنے والی کارروائیوں کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ اخبار نے سابق صدر پرویز مشرف کی خود ساختہ جلا وطن سے پاکستان واپسی پر نواز شریف کی رائے زنی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ایک تانا شاہ رہے ہیں، نہ کہ سیاست داں ۔ انھوں نے ملک میں مارشل لا کا نفاذ کیا اور دوبار آئین کی خلاف ورزی کی، مگر سزائے موت صرف ان جیسے لوگوں کےلئے ہی مخصوص ہے۔

بنگلہ دیش میں معروف جمہوریت پسند مصنف  کا قتل

‘بنگلہ دیش میں معروف مصنف کا قتل’ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ اخبار نے ڈھاکہ ٹری بیون کے حوالے سے مطلع کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے ایک مشہور و معروف  مصنف اور ناشر شاہ زہاں بچّو کو منشی گنج ضلع میں واقع ان کے پشتینی گاؤں میں کچھ نامعلوم افرادنے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ بِشا کا پروکشونی(Bishaka Prokashoni) نامی پبلشنگ ہاؤس کے مالک بچّو جمہوری اصولوں کے زبردست حامی تھے، جس کے لیے انتہا پسند گروپوں کی طرف سے برابر دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔ اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ کسی بھی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، مگر انسدادِ دہشت گردی محکمے کے عہدیداران کا خیال ہے کہ اس قتل کے پیچھے اسلامی انتہا پسندوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے اور اسی نظریے کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ڈھاکہ میں 26 فروری 2015 کو ملحد مصنف اور بلاگر‘ اوی جیت(Avijit) رائے کے قتل کے بعد سے مشتبہ اسلامی ملی ٹنٹوں کے حملوں میں سیکولرمصنفین، بلاگرس، آن لائن ایکٹیوسٹ اور ایک ناشر کی موت نے کئی ماہ تک اس اسلامی ملک کو دہشت زدہ کررکھا تھا۔ اسی سال 31؍اکتوبر کو اوی جیت کے ناشر فیصل  عارفین دیپن (Depan) کو سزائے موت بھی دی گئی تھی۔

بنگلہ دیش میں طوفانی بارش : تودے گرنے سے روہنگیاؤں کی پناہ گاہیں تباہ

روزنامہ ایشین ایج نے بنگلہ دیش کے ہی حوالے سے اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ کل ملک میں زبردست  بارش کی وجہ سے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ کے نزدیک تودے گرنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہوگئے۔ امدادی ایجنسیوں نے آئندہ مہینوں میں اسی طرح کے جانی نقصان سے خبردار کیا ہے، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزیں کیمپ کا علاقہ ، جس میں تقریباً ایک ملین افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ موسلا دھار بارش سے متاثر ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ راحت رساں اداروں اور حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پناہ گزین کیمپوں کے آس پاس پہاڑی علاقوں میں رہنےو الے تقریباً 20 ہزار روہنگیاؤں کی جانوں کو زبردست خطرہ لاحق ہے۔ حالانکہ مانسون سے قبل لگ بھگ 29 ہزار افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا، مگر کسی بڑے سانحے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

جموںوکشمیر میں 14 کروڑ روپئے کی لاگت سے کھیل کی سہولیات کو مرکز نے دکھائی جھنڈی

مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر بلاک کی سطح پر کھیل کود کی سہولیات کی ترقی کیلئے 14 اعشاریہ تین کروڑ روپے کی امداد منظور کی ہے۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ٹریبیو ن لکھتاہے کہ کھیل کود کی مرکزی وزارت نے یہ رقم ‘ کھیلو انڈیا’ اسکیم کے تحت منظور کی ہے اور اسکیم کے تحت ہر بلاک میں دس لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس اسکیم کو ضلع سطح کی ایک کمیٹی نافذ کرے گی، جس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔ خیال رہے کہ اس اسکیم کے نفاذ کا ااعلان وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس ماہ کے اوائل میں جموںوکشمیر کے اپنے دو روزہ دورے کےموقع پر کیا تھا۔

وادی کشمیر میں دہشت گردانہ حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید

جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع میں پیر اور منگل کی درمیانی شب میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے الگ الگ حملوں میں ریاستی پولیس کے دو اہلکار شہید اور سی آر پی ایف کے 12 جوان زخمی ہوگئے۔  اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ دہشت گردوں نے گزشتہ شب ضلع پلوامہ کے نئے کورٹ کمپلیکس کی حفاظت پر مامور ریاستی پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکا رموقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ تیسرا شدیدطور پر زخمی ہوگیا۔ حملہ آورمہلوک پولیس اہلکاروں کے ہتھیار بھی چھین کر لے گئے۔ زخمی پولیس اہلکار کو سری نگر کے اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔ اننت ناگ میں ہوئے ایک دوسرے حملے میں دہشت گردوں نے سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی پر گرینیڈ پھینکا، جس کے نتیجے میں سی آر پی ایف کے دس اہلکار زخمی ہوگئے۔