باغیوں کے ساتھ میانماحکومت کی امن کانفرنس

میانما کی رہنما آنگ سان سوچی اور ملک کے فوجی کمانڈرسینیر جنرل من اونگ ہیلنگ نے نسلی اقلیتی گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم کانفرنس کی شروعات کی۔ اس کانفرنس کا مقصد، سات دہائی طویل تلخ تعلقات اور مسلح تصادمکے بعد پائیدارامن کے قیام کے لئے اقدامات کرنا ہیں۔ کانفرنس میں شریک نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے آنگ سانگ سوچی نے کہا کہ امن کانفرنس میں تاخیر قیام امن کی کوششوں کو متاثر کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کے تحت اس کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

21ویں صدی کی پینگلانگ  کانفرنس کا تیسرا اجلاس پانچ دن تک جاری رہے گا۔ اس سے قبل اگست 2016 اور مئی 2017میں دو اجلاس منعقد کئے جاچکے ہیں جو حکومت، فوج اور نسلی باغی گروپوں کے درمیان زیادہ خود مختاری کے مسئلے پر اختلافات کودور کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس موقع پر فوجی کمانڈر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ امن کے عمل پر جلد کوئی فیصلہ کیں تاکہ قیام امن میں تاخیر سے ملک کی ترقی متاثر نہ ہو۔