12.07.2018

عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ہوتی ہے اور جمہوریت میں تو عدلیہ آئین انسانی، حقوق اور وقار نیز آزادی اظہار کی سب سے بڑی محافظ اور نگہبان تصور کی جاتی ہے۔ لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ کی کارکردگی ہمیشہ مشکوک رہی ہے اور اس پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ فوج کے دباؤ میں فیصلے سناتی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ دی جاتی ہے کہ اس نے ہمیشہ فوجی جنرلوں کی بغاوت کو جواز عطا کیا۔ اس نے اس نقطہ کو ہمیشہ نظرانداز کیا کہ فوج کے ذریعے کی جانے والی بغاوت بہرحال آئین شکنی ہوتی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک جتنی بھی فوجی بغاوتیں ہوئیں ان میں سے ہر بغاوت کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کہہ کر جائز قرار دیا اور اس طرح فوج کو لمبی لمبی مدت تک اقتدار پر قبضہ جمانے کا موقع ملتا رہا۔ اس طور  پر پاکستان کی تاریخ کا کم وبیش نصف حصہ فوجی حکمرانی میں گزرا لیکن منتخب حکومتوں کے دور میں بھی پاکستان کے سیاہ وسفید کی مالک وہی بنی رہی۔ لیکن فوجی بغاوتوں کو جائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ دیگر مقدمات میں بھی عدلیہ کا رویہ کچھ ایسا رہا کہ اس سے یہی تاثر ملا کہ وہ فوجی حکمرانوں کے دباؤ میں ہی اپنے فیصلے سناتی ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کا واقعہ تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے نہ صرف ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا بلکہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے ایک قتل کا مقدمہ قائم کرکے انہیں پھانسی بھی دلوائی تھی۔ مقدمہ کی کارروائی میں ایسا واضح غیردیانت دارانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا کہ بھٹو کے ایک سیاسی حریف جسٹس جاوید اقبال تک نے یہ کہا تھا کہ وہ قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ مقدمہ کا قتل تھا۔ ایک بات اور قابل ذکر ہے معاملہ جب فوجیوں کے گھپلے کا ہوتا ہے تو یہی پاکستانی عدلیہ نہ صرف سست روی کا شکار ہوجاتی ہے بلکہ کسی قصوروار کو سزا دینے سے بھی قاصر رہتی ہے۔ 1990 کی دہائی میں فوج، ایجنسوں اور ایک بینک کے اعلیٰ افسر نے مل کر بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے کی سازش کی تھی اور بے نظیر کے حریف سیاست دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے بڑی بڑی رقمیں دی تھیں۔ ایک ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغر خان نے ان تفصیلات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا اور بار بار یاد دہانی بھی کرائی لیکن کسی طرح کی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ دہائیوں بعد یعنی چند برس قبل سپریم کورٹ میں یہ معاملہ پھر آیا۔ جرم ثابت بھی ہوا کچھ لوگوں نے اقبال جرم بھی کیا لیکن کسی کو سزا دلوانے میں عدالت پورے طور پر ناکام ثابت ہوئی ۔ اس کے برعکس، اس سازش میں ملوث اس وقت کے آرمی چیف عوامی طور پر یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ‘‘کس میں اتنا دم ہے جو سزا دے سکے’’۔وہ سابق آرمی چیف تھے جنرل مرزا اسلم بیگ! یہ ہے ریکارڈ پاکستانی عدلیہ کا۔ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار آج کل پاکستان میں نہ صرف سیاسی حلقوں میں بلکہ عوامی طور پر بھی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ان پر کھلم کھلا یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ پورے طور پر اشتراک کررہے ہیں اور ان کا ہر فیصلہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس کے لیڈروں کے خلاف ہوتا ہے کیونکہ فوج ہر صورت میں نواز شریف اور ان کے حامیوں کو سیاسی منظرنامے سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے تعلق سے ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنے آپ کو انصاف پسند جج کے بجائے سب سے بڑا پالیسی ساز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں انصاف سے کم اور دوسری باتوں سے زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ دماغی مریض کے اسپتالوں کی کارکردگی، پانی کی سپلائی کے مسئلہ اور ڈیم کی تعمیر کے سوال پر زیادہ حساس اور فکرمند ہیں اور اکثر سرکاری دفاتر اور تنصیبات کا معائنہ بھی کرتے ہیں۔ نواز شریف کی مبینہ بدعنوانی کی بات سامنے آئی تو کسی نچلی عدالت میں مقدمہ قائم کرنے کی بجائے سب سے پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار نے انہیں نااہل قرار دے کر انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور پھر نچلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ عدلیہ کی یہ الٹی کارروائی بذات خود یہ بات ثابت کرتی ہے کہ چیف جسٹس نے جانبدارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ بہرحال، اب انتخابات سے عین قبل نچلی عدالت کا فیصلہ بھی آگیا ہے جس کی رو سے نواز شریف کو دس سال ان کی بیٹی مریم کو 7سال اور ان کے داماد محمد صفدر کو ایک سال کی سزا ہوئی ہے۔ یہ لوگ الیکشن میں ظاہر ہے حصہ نہیں لے سکتے۔

اس درمیان ایک اور دلچسپ بات سامنے آئی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گویا 25 تاریخ کو جو عام انتخابات ہورہے ہیں اس میں ایک طرف تو نواز شریف، ان کی پارٹی اور ان کے حامی ہیں اور دوسری طرف عمران خان، آرمی چیف جنرل باجوا اور چیف جسٹس ثاقب نثار ہیں۔ عمران خان کی پارٹی کے ایک امیدوار نے اپنے انتخابی پوسٹر میں فخریہ طور پر عمران خان، جنرل قمر باجوا اور ثاقب نثار کی تصویریں شامل کی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے بہرحال اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے اس امیدوار کو نااہل قرار دے دیا۔ لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ عمران خان، فوج اور عدلیہ کے درمیان ایک  انتخابی گٹھ جوڑ قائم ہوا ہے۔ عدلیہ نے خود اپنی یہ امیج بنائی ہے۔