17.08.2018

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پر تھے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے بنگلہ دیش کے حکام کے ساتھ جن امور پر تبادلہ خیال کیا ان میں سیکورٹی کے شعبہ میں تعاون،بنگلہ دیش میں لاکھوں روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی کے مضمرات اور بنگلہ دیش کے شہریوں کے لئے ویزا سے متعلق معاملات  خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان تینوں معاملات پر جو بات چیت ہوئی اس میں کافی پیش رفت دیکھنے کو ملی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات کے دوران دو طرفہ اور جنوبی ایشیائی تناظر میں سیکورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں میں دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے معاملات پر خاص طور سے بات چیت کی۔ شیخ حسینہ 2009 میں اقتدار میں آئیں اس کے بعد سے سیکورٹی کے معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں کافی اضافہ ہوا۔ شیخ حسینہ نے راج ناتھ سنگھ کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران یہ بات دہرائی کہ بنگلہ دیش دہشت گردوں اور دہشت گرد گروپوں کو بھارت کے خلاف اپنی سر زمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔وزیر اعظم شیخ حسینہ نےصرف وعدہ ہی نہیں کیا بلکہ یہ کر کے بھی دکھایا۔ ان کی حکومت نے یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو بھارت کے حوالے کیا جس کے بعد سے آسام میں امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہو گئی ۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے ڈھاکہ کی دہشت گردی کے تئیں سخت پالیسی کی کافی تعریف کی اور کہا کہ اس سے دوسروں کو بھی تحریک ملے گی۔گذشتہ آٹھ برسوں سے یعنی جب شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں ہیں مذہبی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں دونوں ملک ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جناب سنگھ نے کہا کہ یہ دونوں مسائل نہ صرف بھارت اور بنگلہ دیش کے لئے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

جنوبی ایشیا میں ابھی تک ایسی کوئی پہل نہیں کی گئی جس کے تحت علاقہ کے تمام ممالک دہشت گردی اور مذہبی بنیاد پرستی کا مل کر مقابلہ کر سکیں اس لئے ہندوستان اور بنگلہ دیش کو ان مسئلوں سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ جناب سنگھ کے دورے کے دوران راج شاہی میں بنگلہ دیش پولس اکیڈمی  میں بھارت ۔بنگلہ دیش فرینڈ شپ بلڈنگ کا افتتاح کیا گیا۔جو تمام جدید ترین تکنیکی و سائنسی آلات و سہولیات سے آراستہ ہے ۔ اس کے علاوہ حیدر آباد کی سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولس اکیڈمی اور راج شاہی کی بنگلہ دیش پولس اکیڈمی کے درمیان ایک مفاہمت نامہ پر بھی دستخط کئے گئے جس کے تحت دونوں اکادمیوں کے درمیان تربیت دینے والوں اور تربیت پانے والوں کے تبادلے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھارت میں بنگلہ دیش کے افسروں کے لئے صلاحیت سازی کے پروگرام کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

سات ماہ قبل بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان روہنگیا پناہ گزینوں کی وطن واپسی سےمتعلق معاہدہ ہونے کے باوجود ان پناہ گزینوں کی ابھی تک وطن واپسی شروع نہیں ہو سکی ہے۔جناب سنگھ اور وزیر اعظم حسینہ کے درمیان ملاقات کے دوران اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ جناب سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے اس معاملہ میں دو رخی حکمت عملی اپنا رکھی ہے ۔ایک طرف وہ بنگلہ دیش کو راحتی ساز و سامان فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ راحتی کیمپوں میں پناہ گزینوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کر سکے،وہ میانمار کے رخائین صوبے میں روہنگیاؤں کے لئے فیبریکیٹڈمکانات بھی فراہم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے ، دوسری جانب اسے اس بات کی بھی تشویش ہے کہ کہیں روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش سے اس کی سرحد میں نہ داخل ہو جائیں۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور بنگلہ دیش کے ان کے ہم منصب نے ڈھاکہ میں ایک نئے ویزا سینٹر کی شروعات کی۔ اس نئے مرکز سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ پرانے نظام کی وجہ سے لوگوں کو ویزا لینے میں کافی دقتیں پیش آتی تھیں لیکن اب نئے مرکز سے لوگوں کو ویزا حاصل کرنے میں کافی آسانیاں ہوں گی۔دونوں وزراء داخلہ کی موجودگی میں سفر سے متعلق نظر ثانی شدہ معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے تاکہ ویزا کو مزیدآسان بنایا جا سکے۔ جناب راج ناتھ سنگھ کے دورے کا ایک سیاسی پیغام بھی تھا ۔ تقریباً پانچ ماہ بعد بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ جناب سنگھ کے دورے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہندوستان شیخ حسینہ حکومت کی پوری حمایت کرتا ہے۔