09.08.2018 جہاں نم

تمل ناڈو کے بزرگ رہنما کروناندھی کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

ملک کے تمام اخبارات نے تمل ناڈو کے بزرگ رہنما ایم کروناندھی کی آخری رسومات سے متعلق خبروں کو صفحہ اول پر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹری بیون نے اس سلسلے کی خبر میں تحریر کیا ہے کہ دراوڑ سیاست کے عظیم رہنما کی آخری رسومات کل چنئی کے میرینا ساحل پر ادا کردی گئیں۔ ملک کے سیاسی رہنماؤں ، ان کے پرستاروں، ڈی ایم کے کارکنوں اور حامیوں نے ان کو نم آنکھوں کے ساتھ آخری سفر پر وانہ کیا۔ اس موقع پر وہاں موجود رہنماؤں میں وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس صدر راہل گاندھی، کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی، اور کیرالہ، تلنگانہ اور آندھراپردیش کے ہم مناصب اور لواحقین شامل تھے۔ متھوویل کروناندھی کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ عمل میں آئی اور فوجیوں نے ایک توپ کی سلامی دی۔ اخبار نے ان کی تدفین کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ جب ان کے جسدخاکی کو آخری دیدار کے لئے راجاجی ہال میں رکھا گیا توان کی تدفین کے مقام کے حوالے سے تنازعہ شروع ہوگیا۔ منگل کے روز اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت نے میرینا بیچ پر کروناندھی کی تدفین اور یادگار کے لئے تعمیر کی جگہ دینے کے ڈی ایم کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔ جس کے بعد ڈی ایم کے نے مدراس ہائی کورٹ کا دراوزہ کھٹکھٹایا تھا جس نے ڈی ایم کے کے مطالبے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

 

ایران کے سائبر حملوں کے اندیشے سے امریکہ میں الرٹ

امریکہ کو خدشہ ہے کہ صدر ڈونل ٹرمپ کے ذریعے پابندیاں عائد کئے جانے کے انتقام میں ایران سائبر حملہ کرسکتا ہے۔ روزنامہ ایشین ایج نے اس حوالے سے اپنی خبرمیں لکھا ہے کہ سائبر حملوں کے بارے میں تشویشات میں مئی سے برابر اضافہ ہورہا ہے جب ٹرمپ نے 2015 کے نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کو علیحدہ کردیا تھا اور اب ماہرین کا خیال ہے کہ منگل کے روز معاشی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد اب ان خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے کہا ہے کہ روس، چین اور شمالی کوریا سے تو امریکہ کو سائبر حملے کا خطرہ ہے ہی لیکن ایران سے خاص طور سے خطرہ ہے۔ 2012 سے 2014 کے درمیان بینکوں پر سائبر حملوں کے لئے امریکہ نے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس سے لاکھوں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہواتھا۔ ان حملوں میں حساس نوعیت کے بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے جارحانہ مقاصد سے اپنی سائبر صلاحیتوں کے استعمال سے انکار کیا تھا اور امریکہ پر ایران کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔ اخبار نے یاد دہانی کرائی ہے کہ کئی سال قبل ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے ہزاروں مراکز گریز یعنی سنیٹری فیوگرس کو خفیہ اسٹکس نیٹ  کمپیوٹر وائرس سے نشانہ بناکر تباہ کردیا گیاتھا۔ خیال ہے اسٹکس نیٹ کو امریکہ اور اسرائیل نے تیا رکیا تھا ۔ اخبار نے اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کے ترجمان علی رضا میر یوسفی کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ جارحانہ سائبر سرگرمی کے لئے امریکہ سب سے معاندانہ ملک رہا ہے جو دنیا میں اپنے حملوں کے لئے عوامی سطح پر بڑی بڑی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی سائبر صلاحیتیں دفاعی مقاصد کے لئے مخصوص ہیں۔

اسی اخبار نے ایک اور خبر میں جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس   کی تنبیہ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے ٹرمپ کےفیصلے سے مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا اور علاقے میں بنیاد پرست طاقتوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

روس کے فوجی اداروں میں پاکستانی فوجیوں کو تربیت

‘‘روس کے فوجی اداروں میں پاکستانی فوجیوں کی تربیت’’ کی سرخی کے تحت اپنی خبر میں روزنامہ ہندو رقمطراز ہے کہ پہلی بار پاکستان کے فوجی روس کے فوجی اداروں میں تربیت حاصل کریں گے۔ اس کا فیصلہ روس اور پاکستان کے درمیان فوجی تعلقات کو مستحکم کرنے سے متعلق معاہدے میں کیا گیا ہے جس پر منگل کے روز دستخط کئے گئے۔ اخبار  پاکستان کی وزارت دفاع کے حوالے سے لکھتا ہے کہ روس۔ پاکستان مشترکہ فوجی مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے اختتام پر یہ معاہدہ تکمیل کو پہونچا۔ اس میٹنگ میں روس کی جانب سے ڈپٹی وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن نے شرکت کی جبکہ پاکستان کی نمائندگی سکریٹری دفاع سبکدوش لیفٹیننٹ جنرل ضمیر حسن شاہ نے کی۔ طرفین نے باہمی تعاون کو مزید استحکام، توسیع اور تنوع کے مقصد سے باہمی دفاعی تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مشترکہ فوجی مشاورتی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس کے دوران، دونوں ممالک نے دو طرفہ اور اہم بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں مغربی ایشیا اور افغانستان کی صورتحال پر غور وخوض بھی شامل تھا۔ ایک فوجی ترجمان کے مطابق، کرنل جنرل فومن نے بری فوج کے سربراہ جرنل قمر باجوا سے بھی ملاقات اور ان کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سلامتی تعاون میں اضافے سمیت  علاقائی سلامتی اور باہمی مفاد کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں زبردست سردمہری کے بعد روس اور چین کی جانب اس ملک کا زیادہ جھکاؤ ہوگیا ہے۔

 

پاکستانی حکام نے نواز شریف کے بیٹوں کو کیا بلیک لسٹ

پاکستان کے ہی حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے خبر دی ہے کہ پاکستانی حکام نے بے دخل وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں۔ حسن اور حسین کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے جس کے بعد وہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر نہیں کرسکیں گے۔ اخبار نےپاکستان کے ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے لندن میں مقیم ان دونوں افراد کو مفرور قرار دیدیا تھا کیونکہ وہ 2017 میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد بدعنوانی کے مقدمات میں اپنے والد کے ہمراہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ انسداد بدعنوانی ادارے قومی احتساب بیورو یعنی نیب  نے حسن اور حسین کے نامو ںکو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے جانے کی درخواست کی تھی جس پر نگراں حکومت کی کابینہ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اخبار اس حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے حسن اور حسین کے خلاف ریڈکارنر نوٹس جاری کرنے کیلئے انٹرپول سے رجوع کیا تھا۔

 

تاپی گیس پائپ لائن میں شرکت کیلئے چین خواہشمند

عالمی صفحے پر شائع روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی خبر ہے کہ پاکستان میں قدرتی گیس پائپ لائن پروجیکٹ تاپی  کے شروع ہونے کے بعد چین نے اس میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ نے پاکستانی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ نو اعشاریہ چھ بلین ڈالر لاگت کے اس پروجیکٹ میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان  اور بھارت شامل ہیں جس کے ذریعے ہر سال 33بلین مکعب میٹر گیس کی منتقل ہوگی۔ اس وقت ترکمانستان کی گیس کی بیشتر برآمدات چین کو کی جاتی ہیں جس کو وہ تاپی کے ذریعے تبدیل کرناچاہتا ہے۔ لیکن اس پروجیکٹ میں افغانستان کے حالات کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے۔ اب اس میں پاکستان کے اندر سے گزرنے والی پائپ لائن میں جوڑ لگاکر چین اس کو اپنے لئے ایک متبادل بنانا چاہتا ہے جس کے بعد یہ چین سے ترکمانستان کے لئے چوتھی پائپ لائن بن جائے گی۔ اخبار نے پاکستان کی انٹرنیٹ اسٹیٹ گیس سسٹمس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مبین صولت کے حوالے سے آگے لکھا ہے کہ چین سے ترکمانستان لائن وسط ایشیا کے متعدد پہاڑی سلسلوں سے گزرے گی اور اس کے مقابلے میں پاکستانی علاقے میں قراقرم پہاڑی سلسلے سے ہوکر مغربی سرحد تک پائپ لائن کی تعمیر چین کے لئے مہنگی اور مشکل ہوگی۔

 

امریکی کانگریس کے لئے پہلی مسلم خاتون نامزد

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ہی ایک اور خبر ہے جس کا تعلق امریکہ میں پہلی فلسطینی امریکی خاتون رکن ایوان نمائندگان سے ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ 42 سالہ راشدہ طلیب  امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں جس کے بعد وہ امریکی کانگریس کی رکن بننے والی پہلی مسلم خاتون ہوں گی۔ خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ 13میں ہونے والے انتخاب میں راشدہ  بلا مقابلہ نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں جس کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ان کی فتح کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔