10.08.2018

امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات مسلسل مضبوط ہورہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو جمع دو مذاکرات کی تیاری کے سلسلہ میں خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے ان دنوں واشنگٹن میں ہیں۔ ان مذاکرات کے تحت دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ و دفاع آپس میں بات چیت کریں گے۔ مذاکرات ستمبر میں نئی دہلی میں ہوں گے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو  اپنی ہندوستانی ہم منصب سشما سوراج سے جب کہ امریکی وزیردفاع جم میٹس ہندوستانی وزیر دفاع نرملاسیتا رمن سے راست بات چیت کریں گے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی بھی بھارت یا امریکہ میں قیادت تبدیل ہوتی ہے تو اسٹریٹجک مذاکرات کے طور طریقوں میں نمائشی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن بات چیت کا جذبہ ہمیشہ ایک ہی جیسا رہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مسائل اتنے پیچیدہ اور آپس میں مربوط ہوچکے ہیں کہ دونوں کے درمیان سیاسی اور دفاعی امور پر مسلسل بات چیت بہت ضروری ہوگئی ہے۔

تاہم اس بات کی امید کم ہے کہ دو جمع دو مذاکرات بہت آسان ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالانکہ دونوں ملکوں کے اسٹریٹجک مفادات ایک جیسے ہیں لیکن بعض شعبوں میں دونوں کے درمیان اختلاف بھی موجود ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تعمیری اور جامع مذاکرات ان اختلافات کو کم ضرور کرسکتے ہیں۔بڑھتے ہوئےاختلافات سے آپسی تعلقات کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی بنا رہتا ہے۔ اس لیے یہ مذاکرات اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور اس طرح تعلقات ٹوٹنے کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔

ماضی میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سفارتی مذاکرات کی کمی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ تعطل بنا رہا۔ اور اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ دونوں کے درمیان کہیں دفاعی تعاون میں رکاوٹیں نہ کھڑی ہوجائیں۔ اس لیے اس طرح کے ماضی کے واقعات کو دوبارہ پیش آنے سے روکنے میں دو جمع دو مذاکرات تریاق کا کام کریں گے۔

درحقیقت کچھ اہم شعبوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اختلافات کافی سنجیدہ ہیں جنہیں صرف ایسے ہی مذاکرات سے دور کیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کے درمیان سب سے اہم مسئلہ ایران کے تئیں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ کیے گئے نیوکلیائی معاہدے سے نہ صرف خود کو الگ کرلیا بلکہ اس پر نئی پابندیاں بھی عائد کردیں۔ ایران تیسرا بڑا ملک ہے جہاں سے بھارت سب سے زیادہ توانائی درآمد کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کی ایران پر پابندیوں کی وجہ سے شمال-جنوب راہداری کے قیام کی کوششوں پر برا اثر پڑسکتا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے ایران میں چابہار بندرگاہ کی تعمیر وترقی میں بھارت کی سرمایہ کاری رک جائے گی اور اس طرح افغانستان اور وسطی ایشیا کے بازاروں تک رسائی حاصل کرنے کی بھارت کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ ہے روس کے تئیں امریکی پالیسی۔ امریکہ بھارت میں اپنے دفاعی بازار کو وسعت دینے کی پوری کوشش کررہا ہے جو کوئی بری بات نہیں ہے۔ پچھلے دس برسوں کے دوران بھارت نے امریکہ سے تقریبا15 کھرب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان خریدے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی پابندیوں اور دوسرے اقدامات کے ذریعہ روس کو دفاعی بازار میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ اگرچہ بھارت کو کچھ چھوٹ دی گئی ہیں تاہم اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف عدم اعتمادی میں اضافہ ہوگا بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کے نفاذمیں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔

تیسرا شعبہ جہاں اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں وہ ہے ہند-بحرالکاہل میں اس کے تحفظ اور ترقی کے فروغ کے لیے میکانزم کی تفصیلات۔ اگرچہ ہندوستانی حکومت نے ہند-بحرالکاہل کے تصور کو تسلیم کرلیا ہے تاہم وہ اسے ایک حکمت عملی کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ بھارت ایک ایسے ہند-بحرالکاہل علاقے کی حمایت کرتا ہے جو آزاد ہو اور جہاں سب کی رسائی ہو۔ بھارت ایشیائی اور افریقی ملکوں کی ترقی کے لیے ان ملکوں کے درمیان ایک راہداری کی زیادہ حمایت کرتا ہے اور وہ اس سلسلہ میں جاپان کے ساتھ بات چیت بھی کررہا ہے۔ بھارت ایسے کسی بھی میکانزم کی حمایت نہیں کرت جو سرد جنگ کے زمانے کی عکاسی کرتاہو۔

چین بحیرہ جنوبی چین میں اپنی فوجی طاقت دکھارہا ہے۔ وہ ہند-چین سرحد کے بعض علاقوں میں بھی اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کررہاہے۔ وہ اپنی ون بیلٹ ون روڈ تجویز کو نافذ کرکے معاشی شعبہ میں بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بھارت کوئی ایسا موقف اختیار نہیں کرسکتا جو جھگڑے اور فساد کی تبلیغ کرتا ہو جیسا کہ ٹرمپ انتظامیہ کررہاہے۔مختصر یہ کہ دو جمع دو مذاکرات دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان شک وشبہات دورکرنے، آپسی اعتماد قائم کرنے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے میں یقیناً مددگار ثابت ہوں گے۔