وزیراعظم کی جانب سے بارہ جدید بایو ایندھن ریفائنریز کے قیام کا اعلان

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 10 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 12 جدید بایو ایندھن ریفائنری قائم کی جائیں گی۔ اس سے ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔ جناب مودی آج نئی دِلی میں بایو ایندھن کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بایو ایندھن سے کسانوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں اور حکومت بایوماس کو بایو ایندھن میں بدلنے کیلئے بھاری سرمایہ کاری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بایو ایندھن ماحولیات اور اقتصادی ترقی کے درمیان پل کا کام کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 2022 تک پٹرول میں دس فیصد الکحل کی آمیزش اور 2030 تک اسے 20فیصد کرنے کا نشانہ رکھتی ہے۔ گزشتہ چار برس میں الکحل کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کو مدد ملی ہے، بلکہ صرف ایک سال میں بھارت کو زرِ مبادلہ کے چار ہزار کروڑ روپے کی بچت بھی ہوئی ہے۔ 

جناب مودی نے کہا کہ تمام صنعتی کچرے اور کوڑے کرکٹ کو الکحل بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت سی این جی کی درآمد پر انحصار کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور جلد ہی یہ گاؤوں میں سی این جی گاڑیوں کو فروغ دے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت زرعی کچرے سے بایو سی این جی بنانے کیلئے بھی کام کررہی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ویب پورٹل پریویش کا بھی آغاز کیا، جو ماحولیات، جنگلاتی، وائلڈ لائف اور ساحلی انضباطی زون منظوری کی سنگل ونڈو ہے۔ انہوں نے بایو ایندھن کی قومی پالیسی 2018 سے متعلق ایک کتاب کا اجراء بھی کیا۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر دھرمیندر پردھان نے کہا کہ حکومت بایو ایندھن پر توجہ مرکوز کررہی ہے، کیونکہ اس سے آب وہوا میں تبدیلی سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے اور گنا کاشتکاروں کو اپنی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔