10.08.2018 جہاں نم

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں حزب اختلاف کے امیدوار کو شکست

ملک کے اخبارات نے جن دیگر خبروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے ، ان میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں حزب اختلاف کے امیدوار اور کانگریس کے رکن پارلیمان بی کے ہری پرساد کی شکست کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ہندو نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ این ڈی اے امیدوار اور جے ڈیو کے رکن پارلیمان ہری ونش کو 125 ووٹ ملے جب کہ ان کے حریف ہری پرساد کو 101ہی ووٹ مل سکے۔ اخبار لکھتا ہے کہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کی اکثریت کے باوجود برسراقتدار این ڈی اے کی یہ دوسری فتح ہے۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ اس انتخاب کا نتیجہ ظاہرتھا پھر بھی ضابطے کے تحت  انتخابات منعقد کرائے گئے ہیں۔ یہ مقابلہ اس وقت یکطرفہ ہوگیا تھا جب بیجو جنتادل کے 9 ارکان نے این ڈی اے کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ اور کانگریس سمیت دیگر حزب اختلاف نے بی جے ڈی کو راغب کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس صدر ممتابنرجی نے بھی جو ان لوگوں کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کررہی تھیں اس سمت میں کوئی قدم آگے نہیں بڑھایا۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ اوڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ذریعے این ڈی اے امیدوار کی حمایت کے فیصلے نے خود ان کے ہی ارکان پارلیمان کو متحیر کردیا تھا۔ کیوں کہ ان کی پارٹی برسراقتدار اور حزب اختلاف جماعتوں کے درمیان محتاط انداز میں درمیانی راستہ اپنائے ہوئی تھی۔ دوسری جانب وزیراعظم نریندرمودی نے بذات خود نوین پٹنائک سے بات کی جس کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ اور وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اوڈیشہ کے وزیراعلی سے حمایت کی اپیل کی تھی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ کُل 16 ارکان پارلیمنٹ غیر حاضر تھےجن میں سے بیشتر کا تعلق حزب اختلاف سے تھا۔ غیر حاضر ارکان میں عام آدمی پارٹی کے 3 ایم پی بھی شامل تھے کیوں کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے درخواست نہیں کی تھی جب کہ ہری پرساد کی حمایت کے لیے اروند کیجریوال نے یہی شرط رکھی تھی۔خود کانگریس کے 3 ارکان پارلیمان بھی ووٹنگ سےغیرحاضر تھے۔

ایشیا پیسفک گروپ کی ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کا اگلے ہفتہ دورہ

ایشیا پیسفک گروپ یعنی اے پی جی سے منسلک فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کا ایک وفد 13 اگست کو پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے۔ مگر ابھی تک پاکستان دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی روکنے سے متعلق اپنی رپورٹ تیار نہیں کرسکا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی این اے سی ٹی اے نے نگراں حکومت کو مطلع کیا تھا کہ نیشنل رسک اسسمنٹ رپورٹ کی تیاری کے لیے اس کے پاس کافی عملہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ وفاقی تفتیشی ایجنسی ایف آئی اے سے اس کی تیاری کرائی جائے۔ لیکن ایف آئی اے نے بھی عملے کی کمی کا جواز پیش کرکے اس سے ہاتھ اٹھالیا تھا۔ لیکن گزشتہ جمعہ کو دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کے خلاف کام کرنے والی نیشنل ٹاسک فورس نے ایک روزہ میٹنگ بلائی تھی، جس میں ایف اے ٹی ایف کے ابتدائی اجلاس میں پاکستان کے ذریعے کیے گئے عہد پر غوروخوض کیا گیا۔ جون میں منعقدہ اس اجلاس میں پاکستان نے 26 نکاتی ایکشن پلان سے اتفاق کیا تھا جس کو اگلے ڈیڑھ سال میں روبہ عمل لایا جانا تھا۔اخبار کے مطابق 13 اگست کوتشکیل دی جانے والی عمران خان کی حکومت کے پاس یہ ٹھوس دلیل موجود ہوگی کہ 13 اگست کو پوری طرح حکومت کا کام کاج نہ شروع کیے جانے کی وجہ سے وہ اے پی جی کے دورے کے لیے پوری طرح تیاری نہیں کرسکی ہے۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ 26 نکاتی ایکشن پلان کے لیے عہد پورا نہ کیے جانے اور اگلے 15 ماہ میں اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف پابندیوں کا امکان موجود ہے۔ خود ہندوستان بھی اس بین الاقوامی ادارے سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے مشتہر دہشت گردوں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا، جن میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حافظ سعید وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم حالیہ انتخابات میں لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ اور اہل سنت والجماعت کو اہم دھارے میں شامل کیا گیا تھا اور ان کے سیاسی مکھوٹوں کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی دہشت گردقرار دیے گئے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتار کر پاکستان نے اپنے اس عہد کی خلاف ورزی کی جو اس نے ایف اے ٹی ایف کے سامنے کیا تھا۔

روس کے خلاف نئی امریکی پابندیاں اسی ماہ سے

روزنامہ ٹائمزآف انڈیا نے عالمی صفحے پر شائع اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ اس سال کے اوائل میں برطانیہ میں ایک سابق جاسوس سرگئی اسکرپل  اور اس کی بیٹی یولیا کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کے لیے کیمیاوی مادہ استعمال کرنے کی پاداش میں امریکہ اس ماہ کے آخر میں روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ اخبار رقم طراز ہے کہ روس اور اس کے رہنما ولادیمیرپتن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے صدر ڈونل ٹرمپ کی کوششوں اور 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس کی دخل اندازی کی تحقیقات کے خلاف ان کی سخت تنقید کے باوجود یہ پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ پتن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق امریکہ کا یہ اقدام، گزشتہ ماہ ٹرمپ –پتن کانفرنس سے پیدا تعمیری ماحول کے خلاف ہے۔ نیز یہ کہ برطانیہ میں سابقہ جاسوس کو زہر دیے جانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ اور گزشتہ پابندیاں مکمل طور پر غیرقانونی ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون سے بھی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ اخبار نے روس کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے آگے لکھا ہے کہ روس کے خلاف الٹی میٹم بے سود ہیں اور ان کا ملک انتقامی کارروائی کی تیاری کرے گا۔ اخبار مزید رقم طراز ہے کہ روس کے خلاف ان پابندیوں میں قومی سلامتی سے متعلق سازوسامان کی خریداری کے لیے لائسنس سے انکار بھی شامل ہوسکتا ہے۔

عمران خان امریکہ کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کے خواہاں

روزنامہ اسٹیٹس مین نے پاکستان کے نامزد وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ متوازن اور اعتماد پر مبنی تعلقات تشکیل دینا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں متعدد اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ پاکستان میں امریکہ کے کارگزار سفیر جان ایف ہوور کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کا احیا اور باہمی رشتوں میں استحکام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ افغانستان کے حوالے سے نامزد وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک کا استحکام، پاکستان، امریکہ اور علاقے کے مفاد میں ہے۔ یہ استحکام سیاسی رابطوں کے ذریعےحاصل کیا جاسکتا ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ عمراں خان اس سے قبل پاکستان کے اندر امریکہ کے ڈرون حملوں کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس سال جنوری میں اس وقت زبردست کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے جب صدر ٹرمپ نے اسلام آباد حکومت پر الزام لگایا تھا کہ ہرسال ایک بلین ڈالر سے زیادہ امداد کے عوض امریکہ کو پاکستان کی جانب سے دھوکے اور دروغ گوئی کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کانگریس نے ایک بل کے ذریعے پاکستان کو دی جانے والی 150 ملین ڈالر کی دفاعی امداد میں بھی زبردست کمی کردی تھی۔

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے پاکستان کے ہی حوالے سے خبردی ہے کہ پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریا پی ٹی آئی رہنما اور نامزد وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے جس کی پاکستان کے سیاسی ذرائع نے تصدیق کردی ہے۔ یہ ملاقات جو عمران خان کی حلف برداری سے پہلے ہوگی، اس بات کی علامت ہے کہ ان قیاس آرائیوں کے باوجود کہ عمران خان بھارت کے سلسلے میں فوج کے اشاروں پر چلیں گے ، بھارتی حکومت کو کم از کم ابتدا میں تو عمران خان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ توقع ہے کہ اس ملاقات میں بسیاریا  ہندوستان کے خلاف سرگرم لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اسلام آباد حکومت کے ذریعے سخت کارروائی کے لیے عمران خان کے سامنے نئی دہلی حکومت کے موقف کو پیش کریں گے۔نیز یہ کہ اس طرح کے اقدامات سے ہی دونوں ممالک کے درمیان زیادہ ٹھوس رابطوں کی راہ ہموار ہوگی۔

یمن میں اسکولی بس حملے کی زد میں، 29 افراد ہلاک

‘‘یمن میں اسکول پر حملہ، 29 بچے ہلاک’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ٹری بیون کی۔ خبر کے مطابق یہ حملہ حوثی باغیوں کے زیرقبضہ شمالی یمن کے صعدہ علاقے میں کیا گیا۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کل سعودی شہر جزان میں حملے کے ذمہ دار حوثی باغیوں پر کیا گیا تھا، لیکن بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسکولی بچوں کی ایک بس اس حملے کی زد میں آگئی۔سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادی افواج کو اس کے لیے زبردست تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کے المسیرہ ٹی وی نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے میں 50 افراد ہلاک اور 77 زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر بچے ہیں۔

انڈونیشیا میں اتوار کے زلزلے کے بعد مزید جھٹکے ، ہلاک شدگان کی تعداد 319

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے انڈونیشیا میں اتوار کے روز آئے زلزلے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد جمعرات کے روز بڑھ کر 319 ہوگئی ہے، کیوں کہ اس زلزلے کے بعد بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔ لومباک میں 6 اعشاریہ 9 شدت کے اس زلزلے میں لاکھوں مکانات، مساجد اور تجارتی ادارے تباہ ہوگئےتھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں کی وجہ سے راحت رسانی کے کام میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔ اخبار نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اس قدرتی آفت کی وجہ سے تقریبا 2 لاکھ 71 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔جب کہ ایک ہزار شدید طور پر زخمی ہیں۔ ملک کے حکام اور بین الاقوامی گروپوں نے امداد رسانی کا کام شروع کردیا ہے۔