21.08.2018

اٹھارہ اگست کو پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے رہنما عمران خاں نے پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا اور اسی دن وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں خط لکھ کر یہ بتایا تھا کہ ہندوستان،پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جانے کا خواہاں ہے کیونکہ ایک خوشحال اور تشدد سے پاک جنوبی ایشیا کے لئے امن کا قیام بے حد ضروری ہے۔وزیر اعظم مودی نے اس بات پر خاصا زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو بھی گفتگو ہو وہ با مقصد اور تعمیری نوعیت کی ہو۔ اس خطے میں امن ،استحکام اور خوشحالی اسی صورت میں آ سکتی ہے جب ماحول خوشگوار اور سازگار ہو۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بات چیت کے لئے سازگار اور پر امن ماحول ضروری ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت جب بھی شروع ہوتی ہے یا اس بات کا امکان پیدا ہو تا ہے کہ حالات خوشگوار رخ اختیار کر سکتے ہیں تو ایسا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آ جاتا ہے کہ امن کی جانب بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2015 میں ایسے حالات بنے تھے کہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہو سکتا تھا ۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج افغانستان سے متعلق کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستا ن گئی تھیں تو اس موقع پر دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے گفتگو شروع کرنے کا ایک جامع پروگرام مرتب ہوا تھا جس پر کچھ ہی دن بعد عمل ہونے والا تھا۔اسی سال یعنی 2015 کے دسمبر میں وزیر اعظم مودی نے جذبہ خیر سگالی کو فروغ دینے کی خاطر اچانک بغیر کسی پروگرام کے لاہور کا دورہ کیا لیکن اس کے کم و بیش ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ ایئر بیس پر جیش محمد کا حملہ ہوا۔ یہ کہنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کہ اس کے بعد کس طرح کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔بہر حال اسی پس منظر میں ہندوستان کی طرف سے یہی زور دیا جاتا ہے کہ بات چیت اور دہشت گردانہ واقعات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان ہندوستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کے نتائج کا رجحان اور اپنی کامیابی کا امکان دیکھ کریہ کہا تھا کہ اگر تعلقات بہتر بنانے کے معاملے میں ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ ہندوستان ان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہے۔ اس سباق میں وزیر اعظم نریندر مودی کا عمران خان کو لکھا گیا خط نہ صرف بر وقت ہے بلکہ اس حقیقت کا غماز بھی کہ ہندوستان پورے خلوص کے ساتھ ایسے ڈائیلاگ کا خیرمقدم کرے گا جس کا مقصد امن قائم کرنا ہو ۔ ظاہر ہے ایسا اس وقت ممکن ہوگا جب بات چیت با مقصد اور تعمیری نوعیت کی ہو۔

وزیر اعظم مودی کے مذکورہ خط میں بات چیت کی پیش کش کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ بات چیت کی نوعیت پر زرو تھا کہ وہ تعمیری ہونی چاہئے۔پاکستان کے نئے وزیر خارجہ کسی غلط فہمی کے باعث یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اس خط کے ذریعہ بات چیت کی پیش کش کی گئی تھی۔بہر حال بعد میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا تھا۔خود پاکستان کے نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ بغیر کسی روکاوٹ کے آگے بڑھنا چاہئے۔ مسٹر قریشی پہلے بھی پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔2008 سے 2011 تک وہ اس عہدے پر تھے ۔ اس ضمن میں ایک بات کا ذکر یہاں بے جا نہ ہوگا کہ 2008 میں جب ممبئی پر لشکر طیبہ کا حملہ ہوا تھا تو پاکستان کے وزیر خارجہ ہندوستان کے دورے پر تھے ۔وہ اس وقت نئی دہلی میں تھے جب لشکر طیبہ کے دس دہشت گردوں نے ہندوستان کے اقتصادی دارالخلافہ پر یلغار کی تھی ۔ انہیں یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ ایسے ماحول میں بے روک ٹوک گفتگو کا جاری رہنا نا ممکن ہو تا ہے ۔ بہر حال نئے پاکستانی وزیر خارجہ نے بہتر تعلقات کی بات کی ہے اور ہندوستان اس کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں پڑوسی ہونے کےساتھ ساتھ دونوں نیو کلیائی ملک بھی ہیں۔بلا شبہ دونوں نیو کلیائی صلاحیت کے حامل ملک ہیں لہذا انہیں اتنا ہی ذمہ دار بھی ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی برادری میں ہندوستان کو ایک انتہائی ذمہ دار ملک تصور کیا جاتا ہے۔اگر پاکستان کی موجودہ حکومت تعلقات کو فروغ دینے میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے ان عناصر پر قابو بھی پانا ہوگا جن کی سر گرمیوں کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات میں اکثرتلخی پیدا ہوتی ہے۔