12.09.2018 جہاں نما

کیمپوں میں ایغور مسلمانوں کی حراست کے خلاف چین پر پابندیاں امریکہ کے زیر غور

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے امریکہ کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہزاروں ایغور اور دیگر اقلیتی مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھنے کی وجہ سے چین کے سینئر عہدیداروں اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں لگانے پر غور کررہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ حقوق انسانی کی پامالی کی وجہ سے چین کے خلاف معاشی پابندیاں پہلی بار عائد کرے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ نگرانی سے متعلق ان ٹیکنالوجیوں کی فروخت کوبھی محدود کرے گاجو چین کی سیکورٹی ایجنسیاں اور کمپنیاں شمال مغربی چین میں ایغور کی نگرانی کے لئے استعمال کررہی ہیں۔ وہائٹ ہاؤس میں وزارت خزانہ اور خارجہ میں اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کے سلوک اور برتاؤ پر کئی ماہ سے تبادلہ خیال جاری تھا۔ لیکن اس میں شدت اور عجلت اس وقت پیدا ہوگئی جب کانگریس ارکان نے وزیرخارجہ مائیک پامپیو اور وزیر خزانہ اسٹیوین سے چین کے سات عہدیداروں پر پابندیاں لگانے کے لئے کہا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر ان پابندیوں کی منظوری مل جاتی ہے تو بیجنگ کے ساتھ جاری تعطل میں مزید اضافہ ہوجائے گا جو تجارت اور شمالی کوریا کے نیوکلیائی پروگرام پر دباؤ کے سلسلے میں جاری ہے۔ اخبار نے یاد دہانی کرائی ہے کہ اتوار کے روز حقوق انسانی کمیشن نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چین میں 1966 سے 1976 کے دوران ثقافتی انقلاب کے بعد سے اب تک کی یہ شدید ترین پامالیاں ہیں۔ شنجیانگ کے 58 شہیدوں کے ساتھ لئے گئے انٹرویوز پر مبنی اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ دیگر ممالک چین کے حکام پر مخصوص پابندیاں عائد کریں، ویزا کا اجراء روک دیں اور ایسی ٹیکنالوجی کی برآمدات پر کنٹرول نافذ کریں جن کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہو۔

اسی اخبار نے چین کے سرکاری اخبارگلوبل ٹائمز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چینی حکومت کے بقول اس کے مذہب کے ’’ابتر‘‘ اور ’’غیرقانونی ‘‘ آن لائن فروغ پر پابندی کے لئے رہنما اصول کا ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ یہ مسودہ اس سخت مہم کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد مذہبی عبادت کو ایک سطح پر لانا ہے۔ گلوبل ٹائمز کے مطابق آن لائن مذہبی تبلیغ کرنے والی تمام تنظیموں کو مذہبی امور کے محکموں سے لائسنس لینا ہوگا۔

پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیار وں پر دہشت گردوں کے قبضے کا اندیشہ : امریکہ

روزنامہ ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے امریکہ اور پاکستان کے تعلق سے خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کے لئے سلامتی سے متعلق امداد معطلی کے امریکی فیصلے کے پس پشت یہ تشویش کار فرما ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے نیوکلیائی اسلحہ جات پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ روزنامہ امریکہ کے قومی مشیر برائے سلامتی جون بولٹن کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کسی معمولی وجہ سے نہیں کیا ہے بلکہ اس کو بخوبی معلوم ہے کہ پاکستان ایک نیوکلیائی ملک ہے اور اس کو یہ خطرہ ہے کہ پاکستان حکومت ان دہشت گردوں کے ہاتھ میں پڑسکتی ہے جو ان ہتھیاروں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق ، یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی کہ جون بولٹن کسی مخصوص خطرے یا دہشت گردوں کے ذریعے ہتھیاروں پر قبضے سے متعلق کسی اطلاع کا حوالہ دے رہے تھے یا پھر ان کے  بیان کے پس پشت وہ تشویش تھی جس کا اظہار عام طور پر برسوں سے کیا جارہا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے کسی سینئر رکن نے پاکستان کو دو بلین ڈالر امداد کی معطلی کو اس ملک کے نیوکلیائی اسلحہ جات سے متعلق تشویشات سے جوڑا ہے۔ اس سے قبل اس معطلی کے پیچھے دہشت گردوں کے خلاف کسی فیصلہ کن کارروائی میں اسلام آباد حکومت کی ناکامی کو وجہ قرار دیا جارہا تھا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ اس نے گزشتہ برسوں کے دوران 33 بلین ڈالر امداد کے عوض امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔ جس کے بعد انہوں نے اس سال جنوری میں امداد منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا تھا۔

بھارت سے نئے اور بہتر تجارتی معاہدوں پر بات چیت : امریکہ

امریکہ اور بھارت کی ضروریات کی تکمیل کے لئے دونوں ممالک کے درمیان نئے اور بہتر تجارتی معاہدوں پر مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ روزنامہ ایشین ایج نے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان نئی دہلی میں دوجمع دو مذاکرات ہوئے تھے جن کے دوران ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔ اس کے تحت امریکہ بھارتی فوج کو اہم اور حساس دفاعی ٹیکنالوجیاں فراہم کرے گا۔ اخبار جنوب اور وسط ایشیائی امور سے متعلق پرنسپل ڈپٹی وزیر خارجہ ایلس ویلز کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ ابتدائی طور پر یہ حرب سے متعلق مذاکرات تھے مگر اس دوران تجارت سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اخبار نے وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کے روزانہ کی اخباری کانفرنس میں دیئے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ایلس ویلز کی ایک علیحدہ اخباری کانفرنس کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ مذاکرات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ دونوں ممالک کس طرح غیرجانبدارانہ اور دو طرفہ انداز میں تجارتی تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں محصولاتی اور غیر محصولاتی روکاوٹیں طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی تھیں لیکن امریکہ بھارت کے ساتھ ملکر بازار سے متعلق ان چیلنجوں سے نپٹنے کیلئے کام کررہا ہے۔

تلنگانہ میں تاریخ کا بدترین بس حادثہ، چھ بچوں سمیت 57 افراد ہلاک

’’تلنگانہ میں بس حادثہ، 57 افراد ہلاک‘‘ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق کل تلنگانہ میں جگی تیال  کے نزدیک ایک وادی میں ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک بس کھائی میں جاگری۔ اس حادثے میں چھ بچوں سمیت 57 افراد ہلاک ہوگئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ 1932 میں نظام کے عہد میں شروع کی گئی آر ٹی سی کی تاریخ کا یہ بدترین حادثہ ہے۔ یہ بس انجانیا  سوامی مندر سے واپس جگی تیال آرہی تھی اور پولیس کے مطابق یہ حادثہ بریک فیل ہوجانے کی وجہ سے پیش آیا۔ بس میں 80 مسافر تھے۔ وزیراعظم ،کے۔ چندر شیکھر راؤ نے اس حادثے پر دلی رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور مرنے والوں کے لواحقین کے لئے فی کس 5 لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ دیگر رہنماؤں کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ  این سی چندرا بابو نائیڈو نے اپنے ٹوئیٹ میں اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا لندن میں انتقال

روزنامہ انڈین ایکسپریس نےخبر دی ہے کہ پاکستانی جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا طویل علالت کے بعد کل لندن میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 68 برس تھی ۔ ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسوم میں شرکت کیلئے نواز شریف، ان کی دختر مریم اور داماد محمد صفدر کو پیرول پر رہا کردیا جائے گا۔ مرحومہ کی آخری رسومات جٹی اُمرا ،لاہور میں واقع شریف خاندان کی رہائش گاہ پر ادا کی جائیں گی۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مرحومہ کی میت کو وطن واپس لانے اور دیگر معاملات میں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کا  حکم دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگ زیب کے مطابق آخری رسومات میں شرکت کے لئے ان کے بیٹے حسن اور حسین کی لاہور واپسی سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان کے بیٹوں کی واپسی متوقع نہیں ہے کیونکہ بیرون ملک جائیداد کے مقدمے میں احتساب عدالت نے ان کو مفرور قرار یا ہے۔

عمران خان حکومت کے ذریعے سی پی ای سی معاہدے پر نظرثانی کی خبروں کی چین اور پاکستان نے کی تردید

اسی اخبار نے خبردی ہے کہ چین اور پاکستان نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کو مسترد کردیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت بیلٹ اور روڈ پیش قدمی سے متعلق معاہدوں پر نظرثانی کرے گی۔ بیجنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے اس پروجیکٹ کے تئیں پاکستان کی عہد بستگی غیرمتزلزل ہے۔ امریکہ کے اخبار فائنانشیل ٹائمز میں اتوار کے روز ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم کے ایک مشیر عبدالرزاق داؤودنے کہا تھا کہ پاکستان کو ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لئے اس سے متعلق ہر معاملے کو ملتوی کردینا چاہئے۔ نیز یہ کہ چینی کمپنیوں کو محصولات میں رعایت دی گئی ہے اور ان کو پاکستان میں بیجا فائدہ پہونچایا گیا ہے۔ ’’شی کے بیلٹ اور روڈ پلان میں اپنے کردار پر پاکستان کی نظرثانی‘‘ کے زیر عنوان اس مضمون میں مشیر عبدالرزاق داؤو کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو فائدوں سے محروم رکھا جائے یہ غیر مناسب ہے۔ اخبار کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ چین پاکستان معاشی راہداری پاکستان کی ترجیح ہے۔ دوسری جانب خود پاکستان کی وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سی پی ای سی کے معاہدوں پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔