13.09.2018 جہاں نما

سپریم کورٹ کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو اس کے بقول فلاحی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت

پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کے معاملے میں ملک کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے پاکستانی حکومت کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں جہاں ملک کی عدالت عظمیٰ نے ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم ایف آئی ایف کو فلاحی ورفاحی کاموں کو جاری رکھنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے جماعت الدعوۃ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے پاکستان حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس سے متعلق روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ نے جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کے معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ پاکستانی سپریم کورٹ کی دورکنی بنچ نے لاہور ہائی کورٹ کے اس معاملے میں عبوری فیصلے کو چیلنج کرنے والی وزارت داخلہ کی اپیل کو بھی مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپریل میں جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کو حتمی فیصلے تک اپنی فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں گرچہ کمی واقع ہوئی ہے تاہم پاکستان میں صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے پاکستانی فوج پر ڈرانے اور دھمکانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافتی برادری کے حقوق کی بحالی کے لیے تشکیل کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی  فوج ڈرا دھمکا کر صحافیوں کو اپنی ذمہ داری دیانتداری کے ساتھ انجام دینے سے روک رہی ہے اور پریس کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کرہی ہے۔ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج منصوبہ بندی کے ساتھ صحافیوں کی مخصوص خطوں اور شعبوں تک رسائی کو محدود کررہی ہے جس سے خود ساختہ سینسر شپ کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے صحافیوں کے لیے ایک دائرہ طے کردیا ہے اور اس دائرے سے باہر جاکر اپنی ڈیوٹی انجام دینے والے صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، ان پر حملے کیے جاتے ہیں اور گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

پاکستان  کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کے لندن کے ایک استپال میں انتقال کے سبب نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے پیرول پر رہا کردیا گیا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق محترمہ کلثوم نواز کی آخری رسوم جمعہ کو ادا کی جائیں گی۔ رپورٹ میں وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تینوں کو ابتدائی طور پر 12 گھنٹے کے پیرول پر رہا کیا گیا تھا تاہم ان کی رہائی کی مدت میں جمعہ کو ہونے والی تدفین تک توسیع کردی گئی ہے۔ لندن میں بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے صدر شہبازشریف نے ان تینوں کی پیرول پر پانچ دن کی رہائی کے لیے درخواست دی تھی۔ گلے میں کینسر میں مبتلا بیگم کلثوم نوازکو دل کا دورہ پڑنے پر 15جون کو علاج کے لیے لندن کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس وقت سے ہی بیگم کلثوم اس اسپتال میں زیر علاج تھیں۔

طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت پر رضامند

افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف محاذ پر کوششیں جاری ہیں ۔ اسی کے تحت طالبان نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے اور امکان ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسی مہینے منعقد کیا جائے گا۔ رپورٹ میں حالیہ دنوں میں طالبان رہنماؤں کے انٹرویو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں قیدیوں کے تبادلے، اعتماد بحالی کے اقدامات اور مذاکرات کے رسمی طریقے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے امریکہ کے افغان امور کے نمائندے ایلس ویلس کے ساتھ جولائی میں منعقد بات چیت پر تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ اس میٹنگ میں ستمبر میں ایک اور ملاقات کا وعدہ کیا گیا تھا۔

افغانستان میں جہاں ایک جانب امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں وہیں دوسری جانب تشدد کے واقعات بھی جاری ہیں۔ افغانستان کے ننگر ہارصوبے میں مظاہرین پر ایک خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 68 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی گنتی 165 تک پہنچ گئی ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق ننگرہار صوبے کے مومنددارا  ضلع میں ایک خودکش حملہ آور نے مظاہرین کے درمیان اپنے آپ کو اڑا لیا تھا جب مقامی لوگ ایک پولیس افسر کی مبینہ زیادتی کے خلاف جمع ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی تھی کیونکہ متعدد افراد ہلاک ہونے والے اپنے رشتے داروں کو جائے حادثے سے سیدھے گھر لے گئے۔ منگل کو اس علاقے میں خودکش حملے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس معاملے میں طالبان نے اپنے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں تین مختلف حملوں میں ایک 14 سالہ لڑکا ہلاک ہوا جبکہ دیگر تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی ٹیم کو اگست 2017 کے بعد پہلی بار شمالی رخائین میں داخلے کی اجازت

میانمار میں روہنگیا مسلم شہریوں کی حقوق انسانی کی پامالی کے معاملے میں اقوام متحدہ کو اگست  2017 کے بعد پہلی مرتبہ میانمار کے شمالی راخائین میں داخلےکی اجازت مل گئی ہے جہاں اقوام متحدہ کی ٹیم تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لے گی اور اعتماد بحالی کے اقدامات کرے گی۔ روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے میانمار کے تشدد سے متاثرہ شمالی رخائین میں بدھ سے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی رخائین میں سات لاکھ روہنگیا مہاجرین نے ملک کی فوج پر ظلم وزیادتی کا الزام لگاتے ہوئے راہ فرار اختیار کی تھی۔ اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کو شمالی رخائین کے دورے کی اجازت کا انتظار تھا جہاں میانمار کی فوج پر روہنگیائی مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کا الزام لگایا گیا تھا۔ جمعہ کو یو این ایچ سی آر اور یو این ڈی پی کے ماہرین کو شمالی رخائین میں داخلے کی اجازت دیدی گئی۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں اپنے جائزے کی کارروائی شروع کرے گی۔ اقوام متحدہ نے اسے پہلا قدم قرار دیا ہے جبکہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران 23 دیہاتوں اور دیگر بستیوں میں اعتماد بحالی کے اقدامات شروع کیے جائیں گے۔

اسی سے متعلق روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں نے آسٹریلیا سے میانمار کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیائی شہریوں کے خلاف ظلم وزیادتی کرنے والے میانمار پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) ، ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی)، ہیومن رائٹس لا سینٹر اور آسٹریلین کونسل فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں حکومت آسٹریلیا سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار میں مسلم اقلیتی فرقے کے خلاف ظلم وزیادتی کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی میں تعاون کرے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر ز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ایک تخمینے کے مطابق میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران 6700 روہنگیائی مسلمان ہلاک ہوئے ہیں جن میں 730 بچے شامل ہیں، علاوہ ازیں میانمار کی فوج پر روہنگیائی شہریوں کے خلاف قتل عام ، ظلم وزیادتی، لوٹ مار اور خواتین کے ساتھ زنابالجبر کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں جس کے سبب سات لاکھ سے زائد روہنگیائی شہری ہجرت پر مجبور ہوئے۔

یوروپی پارلیمنٹ کی جمہوریت کا گلاگھونٹنے کی کوشش کے لیے ہنگری کے خلاف کارروائی

یوروپی پارلیمنٹ نے جمہورت سے متعلق یوروپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی، شہری حقوق کی پامالی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہنگری پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس سے ہنگری اپنے طاقتور حلیفوں کی حمایت سے محروم ہوگیا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یوروپی پارلیمنٹ میں ہنگری کے خلاف 197 کے مقابلے 448 ووٹ پڑے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربن  نے یوروپی پارلیمنٹ کی اس ووٹنگ کو انتقامی جذبے سے کی گئی کارروائی قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ جناب اوربن نے سال 2010 میں شاندار کامیابی کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کیا تھا ان پر برسلز میں طے کئے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔

پولیس وسلامتی دستوں کی مستعدی سے جموں وکشمیر میں بڑا واقعہ ٹلا

جموں وکشمیر میں تعینات پولیس اور سلامتی دستوں کی مستعدی نے دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائی کے منصوبے کو ناکام بنادیا۔ روزنامہ ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق سلامتی دستوں نے جموں سری نگر شاہراہ پر جھجر کوٹی مقام پر کشمیر کی جانب جانے والے ایک ٹرک کو روکنے کی کوشش کی جس پر اسلحہ سے لیس تین دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے جھجر کوٹی کے جنگلوں  میں روپوش ہوگئے۔ جموں میں واقع جھجر کوٹی جنگلات میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر کی خدمات کا سہارا لیا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، رپورٹ کے مطابق وادی کی جانب جانے والے ٹرک کے ڈرائیور نے جھجر کوٹی کے قریب کھانے کےایک ہوٹل پر ٹرک روکا اور پانچ آدمیوں کے ناشتے کا آرڈر دیا۔ شاہراہ پر تعینات پولیس نے اس پر کارروائی کی تو ٹرک میں چھپے دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے جنگل کی جانب فرار ہوگئے۔