14.09.2018

وزیراعظم نریندرمودی، بنگلہ دیش کی ان کی ہم منصب شیخ حسینہ اور مغربی بنگال اور تری پورہ کے وزرائے اعلی نے چند روز قبل مشترکہ طور پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تین ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے ان پروجیکٹوں میں بھارت سے بنگلہ دیش کو 500 میگا واٹ کی اضافی بجلی سپلائی اوردو ریلوے پروجیکٹس شامل ہیں۔ ریلوے کے ان دو پروجیکٹوں کے تحت بنگلہ دیش کے اکھورا کو ہندوستان کے اگرتلہ سے ریل کے راستے جوڑا جائے گا اور بنگلہ دیش ریلویز کے کلورا-شہباز پور سیکشن کی باز آبادکاری کی جائے گی۔ ان پروجیکٹوں کے مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ریل رابطہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

ان تین اہم پروجیکٹوں کے افتتاح سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جنوبی ایشیا کے ان دو اہم پڑوسیوں کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ افتتاحی تقریب کے فورا بعد وزیراعظم نریندرمودی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان پروجیکٹوں سے لوگوں کی زندگیاں روشن ہوں گی، آپس میں رابطے بڑھیں گے اور ہند-بنگلہ دیش دوستی کو فروغ حاصل ہوگا۔ وزیراعظم کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پروجیکٹس کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔

بنگلہ دیش کی بھیرامارا اور بھارت کی بہرام پور ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعہ بنگلہ دیش کو 500 میگاواٹ کے اضافی بجلی سپلائی کرنے کا بھارت کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ وہ 2021 تک بنگلہ دیش کو اوسط آمدنی والا اور 2041 تک ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

جناب مودی نے اپنے خطاب میں وزیراعظم شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش کو 2041 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے مقصد کی ستائش کی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اور بنگلہ دیش کے ان کے ہم منصب نے بھی بالترتیب نئی دہلی اور ڈھاکہ سے ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ ٹرانسمیشن رابطہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی بنگلہ دیش کو بجلی کی کل سپلائی ایک اعشاریہ ایک چھ گیگاواٹ ہوجائے گی۔انہوں نے میگاواٹ سے گیگاواٹ کے سفر کو ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں سنہرے دور سے تعبیر کیا۔ اکھورا-اگرتلہ ریل رابطے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں میں ایک اور رابطہ فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں اس مقصد کو حاصل کرنے میں کافی پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان تین پروجیکٹوں کے افتتاح کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان بجلی اورریلوے کنکٹیویٹی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بنگلہ دیش کو بجلی کی اضافی سپلائی، اکھورا اور اگرتلہ کے درمیان ریلوے لائن کی تعمیر اور بنگلہ دیش ریلویز کے شہباز پور سیکشن کی بازآبادکاری سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔ ریل پروجیکٹوں کا مقصد بھارت کے شمال –مشرقی علاقوں کو بنگلہ دیش اور جنوب-مشرقی ایشیا سے جوڑنا ہے تاکہ تجارت کو فروغ حاصل ہوسکے۔

قابل ذکر ہے کہ بھارتی برصغیر کی تقسیم سے پہلے بنگلہ دیش ریلویز کا کلورا-شہباز پور سیکشن موجود تھا۔ اب اس سیکشن کی بازآبادکاری دونوں ملک مل کرکریں گے۔اس لائن کے دوبارہ شروع ہوجانے کے بعد یہ جنوبی ایشیا کو جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

جہاں تک 15 اعشاریہ پانچ کلو میٹر لمبی اکھورا-اگرتلہ ریلوے لائن کا تعلق ہے تو امید ہے کہ یہ چٹاگانگ بندرگاہ کے ذریعہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ بندرگاہ دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ریلوے لائن پروجیکٹ سے جسے 2010 میں شیخ حسینہ کے بھارت دورے کے دوران منظوری ملی تھی،  تری پورہ، آسام اور مغربی بنگال کے درمیان اس وقت سفر کرنے میں جو وقت لگتا ہے اس میں کمی آئے گی۔ اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد تری پورہ اور آسام سے کولکتہ جانے والے لوگ بنگلہ دیش کے اکھورا ہوکر جائیں گےاس سے سفر کے وقت میں کمی واقع ہوگی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید ہے کہ یہ پروجیکٹ دوسال کے اندر مکمل ہوجائے گا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ پڑوسی ملکوں کے رہنماؤں کو پڑوسیوں جیسے تعلقات رکھنے چاہیے۔ انہیں پروٹوکول کی پروا کیے بغیر اکثر بات چیت کرتے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے یہاں کا دورہ کرتے رہنا چاہیے۔ یہ بیان صاف اشارہ کرتا ہے کہ دوسرے ملکوں کو بھی ہند-بنگلہ دیش دوستانہ تعلقات کی تقلید کرنا چاہیے۔