14.09.2018 جہاں نما

سوکی کا اعتراف: میانمار حکومت روہنگیا بحران سے بہتر انداز سے نپٹ سکتی تھی

میانمار کی رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوکی نے اعتراف کیا ہے کہ رخائن میں روہنگیا بحران سے زیادہ بہتر انداز میں نپٹا جاسکتا تھا۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے اس خبر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ہنوئی میں ایشیائی عالمی معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طویل مدتی استحکام اور سلامتی کے لیے حکومت کو ہر طرح سے غیرجانبدار ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی کا اطلاق ہر ایک پر ہونا چاہیے۔ اخبار رقم طراز ہے کہ سوکی نے اس موقع پر رائٹرس کے 2 صحافیوں کی 7 سالہ قید کی سزا کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ ان کی سزا کا تعلق اظہار رائے کی آزادی سے نہیں بلکہ سرکاری سیکریٹ ایکٹ سے ہے جس کی پامالی کے وہ مرتکب ہوئے تھے نیز وہ اس سزا کے خلاف اپیل کے لیے آزاد ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ یہ دونوں صحافی والون اور کیا سوئی او  رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کررہے تھے اور 12 ستمبر2017 کو ان کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مفروضہ طور پر خفیہ دستاویزات  دو پولیس اہلکاروں کے حوالے کررہے تھے۔ بعد میں پولیس نے عدالت میں تصدیق کی تھی کہ نامہ نگاروں کوپھنسانے کے لیے یہ جال بچھایا گیا تھا۔اخبار لکھتا ہے کہ میانمار روہنگیاؤں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا ہے اور ان کو بنگلہ دیشی مہاجر سمجھتا ہے۔ اس وجہ سے ان روہنگیا مسلمانوں کو اس ملک میں تفریق کا سامنا ہے اور ان کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہےْ2017 میں فوجی کارروائی کی وجہ سے سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا  بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کارروائی میں بڑی تعداد میں روہنگیا ہلاک بھی ہوئے تھے جس کو اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔

رنجن گوگوئی بھارت کے نئے چیف جسٹس، حلف برداری 3 اکتوبر کو

آج اخبارات نے جن دوسری خبروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے ان میں جسٹس رنجن گوگوئی کی ہندوستان کے اگلے چیف جسٹس کے بطور تقرری کی منظوری کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اپنی خبر میں اطلاع دی ہے کہ صدرجمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے ذریعے اس منظوری کے بعد وہ 3 اکتوبر کو ہندوستان کے موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی جگہ لیں گے اور 17 نومبر2019 تک اس منصب پر فرائض انجام دیں گے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ان کا تعلق آسام سے ہے اور وہ شمال مشرقی علاقے  سے تعلق رکھنے والے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔ انہوں نے 1978 میں ایڈووکیٹ کے بطور گوہاٹی ہائی کورٹ سے اپنے پیشے کا آغاز کیا تھا۔ 2016 میں اس وقت وہ کافی سرخیوں میں رہے جب انہوں نے سبکدوش جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے خلاف ان کی فیس بک پوسٹ کی وجہ سے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیاتھا۔  وہ عدالت عظمی کے ان چار سینئر ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے 11جنوری کو غیر معمولی اخباری کانفرنس میں چیف جسٹس آف انڈیا کے کام کاج پر نکتہ چینی کی تھی ۔جسٹس گوگوئی  آسام میں شہریوں کے متنازع قومی رجسٹر کے مقدمے کی بھی سماعت کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ شہریوں کے اس قومی رجسٹر کا پہلا مسودہ شائع کردیا گیا ہے جس میں چار ملین سے زیادہ افراد کے ناموں کوشامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر سماعت جاری ہے۔

پوتن کے دورہ بھارت کی تیاریوں کے سلسلے میں سشماسوراج روس کے لیے روانہ

روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان دو پلس دو مذاکرات کے کچھ دن بعد ہی وزیر خارجہ سشما سوراج بدھ کے روز روس کے دو روزہ دورے پر ماسکو روانہ ہوگئیں۔ ان کے موجودہ دورے کا مقصد تکنیکی اور معاشی تعاون سے متعلق بین الحکومتی کمیشن کے 23 ویں اجلاس میں شرکت اورصدر ولادیمیر پتن کے اگلے ماہ دورہ بھارت کے سلسلے میں بات چیت کا انعقاد ہے۔ صدر پوتن بھارت اور روس کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئیں گے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ بین الحکومتی اجلاس کی صدارت سشماسوراج اور روسی فیڈریشن کے نائب وزیر اعظم یوری بوری سوف  مشترکہ طور پر کریں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق آئی آر آئی جی سی-ٹیک ایک مستقل ادارہ ہے، جس کی ہرسال میٹنگ ہوتی ہے۔ ان اجلاسوں میں باہمی پالیسی تجارت وسرمایہ کاری، سائنس وٹیکنالوجی، ثقافت اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تعاون کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کمیشن کی پچھلی میٹنگ نئی دہلی میں دسمبر2017 میں ہوئی تھی۔

جماعت الدعوہ پر لگام کسنے سے پاکستان کی عدالت عظمی کا انکار

روزنامہ ٹری بیون نے پاکستان اور اس کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ کے حوالے سے صفحہ اول پر ایک خبر شائع کی ہے۔ خبر کے مطابق پاکستان کی عدالت عظمی نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی ایک عرضداشت کو مسترد کردیا ہے۔ وزارت داخلہ نے عدالت عظمی سے درخواست کی تھی کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے ، جس میں ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں کے سرغنہ کی زیر قیادت جماعت الدعوہ اور اس سے منسلک فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیاں اس وقت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی جب تک زیرسماعت مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ عدالت عظمی کی دلیل تھی کہ وفاقی حکومت بذات خود ہائی کورٹ کی سطح پر مقدمے میں ملوث ہے اس لیے یہ عرضداشت مسترد کردی گئی۔وزارت داخلہ نے اپنی عرضداشت میں کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے سے حکومت کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی قانونی تقاضوں کے تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اورملک کے لیے ان کے نتائج سنگین برآمد ہوسکتے ہیں۔ اپریل میں حافظ سعید نے اپنی تنظیم پر سخت سرکاری پابندیوں کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد عدالت نے حکومت کے ذریعے سعید کو ہراساں کرنے کی کارروائی پر پابندی لگادی تھی۔ اخبار نے یاد دہانی کرائی ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ذریعے ممنوع قرار دیے گئے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں پر زیادہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے اس سال کے اوائل میں انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی تھی۔ امریکہ نے بھی ایسے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو مشتہر قرار دیا تھا۔اس سے پہلے بھی پاکستان نے فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی اہم میٹنگ کے بعد اپنے قوانین میں ترمیم کی تھی تاکہ ان ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں اوردہشت گردوں پر سخت پابندیاں عائد کی جاسکیں۔ اخبار آگے لکھتا ہےکہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کردیا تھاکیوں کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے رقوم کی فراہمی اور ان کی نگرانی کے لیے اس نے ٹھوس کارروائی نہیں کی تھی۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جماعت الدعوہ اور اس سے منسلک تنظیموں کے تمام دفاتر اور املاک نیز پنجاب میں ان کی 148 املاک کو سربمہر کردیا گیا تھا۔

آئی ایس آئی: پاکستان کے دفاع کی اگلی صف: وزیراعظم پاکستان

‘‘ْْآئی ایس آئی پاکستان کے دفاع کی اگلی صف عمران خان ’’، یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسریس کی۔ خبر کی مطابق وزیر اعظم عمران خان نے یہ بیان پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی کے صدر دفاتر کے پہلے دورے کے موقع پر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ ادارہ پاکستان کے دفاع کی اگلی صف کے بطور کام کررہا ہے بلکہ دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی بھی ہے۔ اس موقع پر آئی ایس آئی کے سینئر افسران نے وزیراعظم کو متعدد اسٹریٹجک انٹلی جنس اورقومی سلامتی سے متعلق امور سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس ادارے کی انسداد دہشت گردانہ کوششوں کو بھی سراہا۔

پاکستان میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کو تعلیمی ادارے میں کیا جائے گا تبدیل

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ہی پاکستان کے حوالے سے ایک اورخبردی ہے کہ  وزیراعظم کی شاندار رہائش گاہ کو ایک اعلی پوسٹ گریجویٹ تعلیمی ادارے میں تبدیل کردیا جائے گا۔پاکستان میں نومنتخبہ حکومت کی تشکیل کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ سرکاری عمارتوں کا عوامی مفاد میں استعمال کیا جائے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ وزیراعظم کے لیے مخصوص رہائش گاہ میں قیام نہیں کریں گے، جس کے بعد وہ فوج کے سکریٹری کے لیے مخصوص تین کمروں کے مکان میں منتقل ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت گورنروں کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ گورنر ہاؤس میں رہائش اختیار نہ کریں۔ اخبار نے پاکستان کے جیو نیوز چینل پر نشر وزیر تعلیم شفقت محمود کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ عوام گزشتہ حکومتوں کے اہلکاروں اور عہدیداروں کے شاندار اور عیش وعشرت سے بھرپور طرز زندگی سے پریشان ہوگئے تھے اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام کی سخت محنت کی کمائی کو ضائع نہ کیا جائے۔ صرف وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ خرچ ہی 470 ملین روپے تھا۔