09.10.2018 جہاں نما

جموں و کشمیر بلدیاتی انتخابات :وادی میں تقریباً 8 فی صد ووٹنگ ، جموں میں70 فیصد ووٹ ڈالے گئے

آج ملک کے تمام اخبارات نے جموں و کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کی خبروں کو نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس اپنی خبر میں تحریر کرتا ہے کہ ریاست میں یہ انتخابات 13 سال کی طویل مدت کے بعد ہو رہے ہیں جن میں شرکت کے خلاف ملٹنٹوں نے لوگوں کو دھمکیا ں دی تھیں۔ پیر کے روز پہلے مرحلے کی پولنگ میں متضاد پیٹرن دیکھنے میں آیا۔ جموں خطے میں تقریباً 70 فی صد ووٹ ڈالے گئے اس کے بر خلاف وادی میں صرف 8 اعشاریہ دو فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ چار مرحلے کے ان انتخابات میں ملٹنٹوں کے ذریعہ دھمکیوں کے علاوہ ایک بات یہ ہے کہ دو بڑی مقامی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیوپلز ڈیمو کریٹک پارٹی حصہ نہیں لے رہی ہیں جس کے بعد اب بی جے پی ،کانگریس ،سجاد لون کی پیوپلز کانفرنس اور آزاد امیدوارمیدان میں رہ گئی ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ان انتخابات  کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کبھی ملٹنٹوں کی آماجگاہ رہنے والے راجوری ضلع کے تھانا منڈی علاقے میں سب سے زیادہ 90 اعشاریہ دو تین فی صد رائے شماری ہوئی ۔ دوسری جانب ملحق ضلع پونچھ کے سورن کوٹ علاقے میں 89 فی صد ووٹ ڈالے گئے ، جہاں ماضی میں ملٹنٹ کافی سرگرم تھے۔ تا ہم وادی کے 149 میں 92 وارڈوں میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا جبکہ 69 وارڈوں میں امیدوار بلا مقابلہ منتخب کر لئے گئے اور 23 وارڈوں میں کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا۔

 

عالمی درجہ حرارت میں اضافے پر اقوام متحدہ کی تنبیہ، ماحولیاتی انتشار سے محفوظ رہنے کے لئے انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت:ایک رپورٹ

روزنامہ ایشین ایج نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین حکومت پینل کی ایک رپورٹ کے حوالے سے مطلع کیا ہے کہ اگر عالمی درجۂ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا اور دنیا نے اس اضافے کو روکنے  کے لئے تیز رفتار اور غیر معمولی اقدامات نہ کئے تو 2030 سے 2050 کے درمیان عالمی درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ماحولیاتی انتشار سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے اور عالمی معیشت میں انقلابی تبدیلی لائی جائے ۔ اس سنگ میل رپورٹ  میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہےاور قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لئے فوری تدارکی اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلیس کا اضافہ ہوا ہے جو سطح سمندر میں اضافے اور خوفناک سیلاب،طوفان اور خشک سالی کے لئے کافی ہے۔یہ اضافہ بڑھ کر مستقبل میں 3 سے چار ڈگری بھی ہو سکتا ہے۔ پینل کے شریک سر براہ اور ڈربن میں ماحولیاتی منصوبہ بندی اور آب و ہوا کے تحفظ کے سر براہ ڈیبرا رابرٹس کے مطابق اس لحاظ سے آئندہ چند برس ، انسانی تاریخ میں بے حد نازک ثابت ہوں گے۔

 

اعانتی پیکج کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کے لئے عمران خاں حکومت کا اعلان۔

پاکستان کی نئی حکومت نے بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈ سے ہنگامی مالی امداد کے لئے بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے عالمی صفحے پر شائع خبر میں تحریر کیا ہے کہ جیو ٹی وی سے نشر انٹر ویو میں وزیر خزانہ اسد عمر کے مطابق ادائیگیوں کے توازن میں بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر عمران خاں نے معاشی مشیران سے میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا ۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ستمبر کے اواخر میں ملک میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 627 ملین ڈالر گر کر 8 اعشاریہ 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئے جو اس سال سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہے۔ اگر امدادی پیکج پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو گذشتہ پانچ برس میں یہ دوسرا اور80 کی دہائی سے یہ 13واں اعانتی پیکج ہوگا۔عمران خاں نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ اس بار کتنے ہنگامی فنڈ کی ضرورت ہے مگر اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ اس سال کے آخر تک بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لئے حکومت کو کم از کم 8 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اخبار کے مطابق 25 جولائی کے انتخابات سے قبل پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہو رہا تھا لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والی حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی امداد سے الگ ہٹ کر دیگر متبادل بھی تلاش کر رہی ہے جن میں چین سے عارضی راحت کے لئے قلیل مدتی قرض اور سعودی عرب سے تیل کے لئے ملتوی ادائیگی اسکیم شامل ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ عمران خان نے یہ فیصلہ پیر کے روز حصص بازار میں تین اعشاریہ چار فیصد گراوٹ کے بعد کیا ہے۔ واضح ہو کہ پاکستان میں دسمبر سے اب تک روپے کی قدر میں چار بار گراوٹ کے بعد 20 فیصد کی کمی آ چکی ہے۔

اسی اخبار نے ایک خبر میں تحریر کیا کہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ایک شاخ ایشیا پیسفک گروپ کی ایک نو رکنی ٹیم اتوار کے روز پاکستان پہنچی۔ ٹیم کے اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی پر قدغن لگانے کے لئے پاکستان کے ذریعہ اقدامات کا جائزہ لیناہے۔ اخبار کے مطابق اس ٹیم اور عمران خاں کی حکومت کے درمیان اسلام آباد میں پیر کے روز حتمی بات چیت منعقد ہوئی ۔ایشیا پیسفک گروپ کی ٹیم برطانیہ ،اسکاٹ لینڈ یارڈ ،امریکی وزارت خزانہ، مالدیپ کی فنانشیل انٹلی جنس یونٹ ،انڈو نیشیا کی وزارت خزانہ ،چین کے پیوپلز بینک اور ترکی کے محکمہ انصاف کے ماہرین پرمشتمل ہے جس کے کم از کم تین ارکان 19 اکتوبر تک پاکستان میں  قیام کریں گے ۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ اس سال جون کے پیرس اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایسے ممالک کی مشتبہ فہرست میں شامل کیا تھا جو دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں ۔

 

امریکہ ۔شمالی کوریا کے درمیان دوسری سر براہ ملاقات پر کم-پامپیو متفق

۔ ’’ شمالی کوریا-امریکہ دوسری سر براہ ملاقات پر کِم اور پامپیو متفق‘‘۔ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں رہنما کم جونگ اُن سے ترَک نیوکلیائی اسلحہ جات پر بقول ان کے تعمیری گفتگو کی تھی جس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما نے جلد از جلد امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے ساتھ دوسرے سر براہ جلاس سے اتفاق کیا ۔ اس بات چیت کے بعد مائیک پامپیو سیول کے لئے پرواز کر گئے تھے۔ اخبار نے جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس سر براہ ملاقات کے لئے ابھی تک کسی مقام یا تاریخ پر اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ پامپیو کے ذریعہ شمالی کوریا کا یہ چوتھا دورہ ہے جس کے دوران ترک نیو کلیائی اسلحہ جات کے لئے شمالی کوریا کے ذریعہ اٹھائے جانے والے اقدامات، امریکی حکومت کی موجودگی کا معاملہ نیز آئندہ متعلقہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح ہو کہ ٹرمپ اور کم کے درمیان پہلی سر براہ ملاقات جون میں ہوئی تھی جس کا نتیجہ ،ناقدین کے مطابق کوریائی جزیرۂ نما کو نیو کلیائی اسلحہ جات سے پاک کرنے کے سلسلے میں کم کی مبہم عہد بستگی کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ شمالی کوریا کےرہنما نے پنگی ری کی نیو کلیائی ٹیسٹ سہولت کا جائزہ لینے کے لئے انسپکٹروں کو بھی  مدعو کیا۔

 

ٹرمپ کی پالیسیوں پر عمل در آمدکے ذریعے امریکہ جا رہا ہے پیچھے کی طرف، نوبیل انعام یافتہ کا بیان

۔ روزنامہ ہندو کی خبر ہے کہ امریکہ کے ماہرین معیشت ولیم ناردوس اور پال رومر کو مشترکہ طور پر 2018 کے لئے معیشت کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ ان کو سرسبز نشو نما ماڈل تیار کرنے کے لئے یہ انعام دیا گیا ہے۔ جن میں ظاہر کیا گیا ہے کہ معاشی نمو کو کس طرح جدت طرازی اور آب و ہوا سے متعلق پالیسیوں سے مربوط کیاجا سکتا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق 90 کی دہائی میں تیار کئے گئے ان ماڈلوں میں معاشی تجزیئے کی گنجائش کو بڑھایا گیا ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ ییل یونیور سٹی کے پروفیسر ناردوس نے انعام کے اعلان کے بعد سویڈش اکیڈمی کو صدر ٹرمپ کے ذریعہ پیرس معاہدے سے علاحدگی کے حوالے سے بتایا کہ ماحولیات سے متعلق امریکی پالیسیاں بے حد پیچھے ہیں۔ در حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔عالمی بینک کے سابق چیف ماہر معیشت اور نیو یارک یونیور سٹی کے اسٹرن  اسکول آف بزنس میں زیر ملازمت رومر نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی ممالک گیسوں کے اخراج کو کم کریں گے۔