10.10.2018 جہاں نما

پامپیو کا بیجنگ دورہ: چین-امریکہ تجارتی ٹکراؤ میں اضافہ

چین اور امریکہ کے درمیان جاری زبانی جنگ کے حوالے سے روزنامہ ہندو نے خبر دی ہے کہ وزیر خارجہ وانگ ای  اور چین کے دورے پر آئے ان کے امریکی ہم منصب مائک پامپیو کے درمیان بیجنگ میں پیر کے روز ملاقات کے بعد اس جنگ میں مزید تیزی آگئی ہے۔ امریکہ کے الزام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہ چین امریکہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے زور دے کر کہاکہ اس طرح کے الزامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید خرابی آرہی ہے۔ اخبار رقمطراز ہے کہ ان الزامات کے رد عمل میں چین کے صدر شی جن پنگ نے دورے پر آئے مائک پامپیو سے ملاقات نہیں کی۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ چین آئندہ امریکی انتخابات پر اثر ڈالنے کے لئے محصولات میں اضافہ کررہا ہے۔ لوکانگ کا کہنا تھا چین نے از خود اس تجارتی محاذ آرائی کی شروعات نہیں کی ہے بلکہ اپنا دفاع کرتے ہوئے امریکہ کے ذریعے عائد محصولات کا جواب دیا ہے۔ اخبار لوکانگ کے حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ وزارت خارجہ نے امریکہ کے ان الزامات کو بقول ان کے ‘‘ مضحکہ خیز’’ قرار دیا ہے کہ آئیووا کے ایک مقامی اخبار میں قیمتاً چار صحافت کا ضمیمہ شائع کراکر وہ امریکہ کے آئندہ انتخابات میں مداخلت کررہا ہے۔ ضمیمے میں ٹرمپ کی تجارتی محاذ آرائی کی معاشی لاگت کی تفصیل دی گئی تھی۔ لوکانگ نے اس کو امریکی اور چینی ذرائع ابلاغ کے درمیان معمول کی بات اور قانونی تعاون قرار دیا جس سے امریکی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔پامپیو سے اپنی ملاقات کے حوالے سے وانگ نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کو اس طرح کے گمراہ کن الزامات سے احتراز کرنا چاہئے۔

 

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کیا استعفیٰ کا اعلان

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کل اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی تردید کی کہ وہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹڑمپ کو چیلنج کریں گی۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے اپنی خبر میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے استعفیٰ کے پس پشت وجہ کی توضیح نہیں کی۔ خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ ہونے والی یا علیحدہ کی جانے والی شخصیات میں نکی ہیلے کی علیحدگی تازہ ترین ہے۔ ان سے پہلے مارچ میں سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن عتاب کا نشانہ بنے تھے اور ٹرمپ کے ماہر حکمت عملی اسٹیو بینن اگست 2017 میں اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ اخبار کے مطابق نکی ہیلی ، اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی ‘‘ امریکہ اول’’ پالیسی کی قائد رہی ہیں، اقوام متحدہ کے متعدد پروگراموں سے امریکہ کی علیحدگی میں انہوں نے فعال کردار اد اکیا ہے اور ایران اور شمالی کوریا کے خلاف ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کا زبردست دفاع کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ریپبلکن پارٹی میں ان کو کافی عروج حاصل ہے اور خیال کیا جارہا تھا کہ وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہوسکتی ہیں۔

 

سعودی عرب ، گمشدہ صحافی کے معاملے کی تحقیقات کرے: امریکہ

‘‘سعودی عرب ، گمشدہ صحافی کے معاملے کی تحقیقات کرائے: امریکہ ’’یہ سرخی ہے روزنامہ ایشین ایج کی خبر کی جس کے مطابق امریکی صدر نے سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس معاملے کی مکمل طور پراور شفاف طریقے سے تحقیقات کرائے۔ واضح ہوکہ واشنگٹن پوسٹ کے لئے کام کرنے والے صحافی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تھے، جہاں سے وہ واپس نہیں آئے۔ کچھ ذرائع ابلاغ کا خیال ہے کہ ان کو قونصل خانے میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ اخبار نے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ خشوگی کی خیریت اور پتہ و نشان کے بارے میں متضاد خبریں آرہی ہیں، جن کے بارے میں خود صدر ڈونل ٹرمپ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اخبار نے اسی سلسلے کی ایک اور خبر میں ترکی کے صدر طیب اردگان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ریاض کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سعودی عرب کے ناقد اور گمشدہ صحافی خشوگی، سعودی قونصل خانے سے باہر آگئے تھے۔ پیر کے روز ان کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں شائع ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے کہ ترکی حکومت نے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کی تلاشی کے لئے ریاض سے اجازت طلب کی ہے۔

 

پاکستان کو چینی ڈرونس کی فروخت کا معاملہ بھارت کو کوئی تشویش نہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح ڈرون کے حصول کی شکل میں ایک نیا ٹکراؤ پیدا ہورہا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس سلسلے میں شائع خبر میں تحریر کیا ہے کہ ایک طرف تو بھارت امریکہ مذاکرات میں مسلح پری ڈیٹر  بی یا مسلح بحری محافظ ڈرون کے حصول کے لئے کافی پیش رفت ہوئی ہے تو دوسری طرف چین نہ صرف پاکستان کو اپنے 48 جدید ترین ونگ لونگ دوئم جنگی ڈرون فروخت کرنے کی تیاری کررہا ہے بلکہ ان کو بڑے پیمانے پر اس کے سدا بہار اتحادی کی سرزمین پر مشترکہ طور پر تیار بھی کیا جائے گا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ پاکستان کو چینی ڈرون کی فروخت سے بھارت کو کوئی پریشانی نہیں ہے اور اس سلسلے میں بیجنگ اور اسلام آباد سے یہ خبر اس وقت آئی ہے جب ابھی حال ہی میں بھارت نے روس کے ساتھ ایس 400 ٹرئمف فضائی دفاعی میزائل نظام کے حصول کے لئے 5 اعشاریہ چار تین بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں ۔ یہ نظام حملہ کرنے والے بمبار اسٹیلتھ جنگی جہازوں، جاسوس طیاروں، میزائلوں اورڈرونس کو 800 کلو میٹر کے فاصلے سےتلاش کرنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اخبار کے مطابق خبروں میں وانگ لونگ دوئم کی لاگت یا حصول پروگرام کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔ یہ جدید ترین ڈرونس اوسط درجے کی اونچائی اور طویل دوری تک مار کرنے والے جاسوس نگراں ڈرونس ہیں جو 400 کلو گرام اسلحہ لے جاسکتے ہیں دوسری جانب بھارت کے یو اے وی بیڑے میں کچھ مسلح ڈرونس شامل ہیں جو نگرانی اور جاسوسی کے کام کے علاوہ حملہ کرنے کے بھی متحمل ہیں اس لئے اس کو چین اور پاکستان کے درمیان معاہدے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔

 

افغانستان میں انتخابی امیدوار خود کش حملے میں ہلاک

روزنامہ انڈیشن ایکسپریس کی خبر کے مطابق، ایک خودکش بمبار نے افغانستان پارلیمانی انتخابات کے ایک امیدوار کے گھر پر حملہ کیا جس میں امیدوار سمیت سات دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔ اخبار نے ہیلمند صوبائی کاؤنسل کے سربراہ عطاء اللہ افغان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ حملے کے وقت امیدوار صالح محمد اچک زئی ایک میٹنگ کررہے تھے جس میں ان کے چند محافظ بھی مارے گئے ہیں۔ اچک زئی کی رہائش ہیلمند صوبے کی راجدھانی لشکر گاہ میں واقع ہے۔ خیال ہے کہ اس علاقے کے 80 فیصد حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس حملے سے ایک روز قبل طالبان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انتخابات کی مذمت کی گئی تھی اور امیدواروں اور افغان سلامتی افواج کو تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تو ان کو ہلاک کردیا جائے گا۔ طالبان کے مطابق، افغانستان پر اپنے اقتدار میں توسیع کے لئے امریکہ ان انتخابات میں سازباز کررہا ہے۔

 

اولی حکومت سے علیٰحدگی کے لئے مدھیسی پارٹی کی دھمکی

نیپال میں ایک کلیدی مدھیسی پارٹی، راشٹریہ جنتا پارٹی- نیپال نے جو ملک کے آئین میں ترمیمات کا مطالبہ کررہی ہے، وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی قیادت والی حکومت کو اپنی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی ہے۔ اس خبر کو روزنامہ دی ایشین ایج نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پارٹی کے رہنماؤں نے پیر کے روز وزیر اعظم اولی کو ایک یاد داشت پیش کی اور دھمکی دی کہ اگر حکومت ان کے مطالبات نہیں مانتی تو پارٹی دیوالی کے بعد اپنی حمایت واپس لے لے گی۔ پارٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مدھیسیوں، تھاروؤں، مسلمانوں اور جن جاتیوں کے مطالبات پورے کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کے عمل کو جلد شروع کرے ۔ پارٹی کے ایک لیڈر راجیندر مہتو نے کہاکہ اگر حکومت نے اس مطالبہ پر دھیان نہ دیا تو ان کی پارٹی تہواروں کے بعد اپنی حمایت واپس لے کر تازہ احتجاج شروع کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 میں ملک کا نیا آئین وجود میں آیاتھا جس کے بعد ملک سات صوبائی یونٹوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ مدھیسیوں کی اہمیت ختم ہوگئی۔ جو بنیادی طور پر ہند نژاد ہیں۔ نئے آئین کے وجود میں آنے کے بعد جناب اولی کی پہلی مدت کار کے دوران مدھیسیوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کردیاتھا جو تقریباً چھ ماہ تک چلاتھا اور جس کے دوران 50 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے ۔ مدھیسی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوبی ترائی علاقے کے باشندوں کے مفادات کے لئے لڑرہی ہے جو زیادہ تر ہند نژاد ہیں۔