گورکھابرادری کے بارے میں آسام سرکار کو وضاحت جاری

وزارت داخلہ نے غیرملکی افراد سے متعلق 1946 کے قانون کے مطابق آسام میں رہنے والی گورکھا برادری کے لوگوں کی شہریت کے درجے کے بارے میں آسام سرکار کو ایک وضاحت جاری کی ہے۔ کُل آسام طلباء یونین نے حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنھگ کو ایک عرضداشت پیش کی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ آسام میں رہنے والی گورکھا برادری کے لوگوں کے کچھ کیس غیرملکی افراد سے متعلق ٹرائبیونلس کے سپرد کیے جاتے ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ گورکھا برادری کے جو لوگ آئین نافذ ہونے کے وقت بھارتی شہری تھے، یا جو پیدائش سے ہی بھارتی شہری ہیں، یا جنہوں نے رجسٹریشن کے ذریعے بھارتی شہریت حاصل کی ہے ، وہ غیرملکی نہیں ہیں۔ لہٰذا اس طرح معاملات کو غیرملکیوں سے متعلق ٹرائیبونلس کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ نیپالی قومیت والا کوئی بھی گورکھا ممبر اور جو کسی پاسپورٹ یا ویزا کے بغیر زمینی یا فضائی خدمات کے ذریعے نیپال سے بھارت پہنچا ہے اور ایک عرصے سے بھارت میں رہ رہا ہے، اسے غیرقانونی مائیگرینٹ تصور نہیں کیاجائے گا بشرطیکہ اس کے پاس متعلقہ شناختی دستاویزات ہوں۔