11.10.2018

حال ہی میں نئی دلّی میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کی پہلی، انڈین اوشن رِم ایسوسی ایشن  ممالک کے وزرائے توانائی کی دوسری اور گلوبل ری انویسٹ 2018 کی بھی دوسری میٹنگیں منعقد ہوئیں جن کی میزبانی نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت نے کی۔ ان تینوں میٹنگوں کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی نے کیا۔ جس کا مقصد نہ صرف تمام  دنیا میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا تھا بلکہ اس شعبہ میں عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہندوستانی سرمایہ کاروں کا رابطہ پیدا کرنا تھا۔

ان میٹنگوں میں 77 سے زیادہ ملکوں سے تقریباً دو ہزار مندوبین نے شرکت کی۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد کی اس پہلی  اسمبلی میں اقوام متحدہ کی اہم شخصیات، کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں، عالمی فنڈس اور بین الاقوامی معاشی اداروں کے صدور اور صنعتی وتجارتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ عالمی ری۔ انویسٹ 2018 کے دوران فرانس ، امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ، فن لینڈ اور یوروپی یونین نے 9  اجلاسوں کا اہتمام کیا۔

شمسی توانائی کے شعبہ میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ اتحاد ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے آب وہوا سے انصاف کئے جانے کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک تحفہ ہے جسے ہم آنے والی نسل کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ مستقبل میں اس اتحاد کا دنیا میں وہ مقام ہوگا جو اس وقت اوپیک کا ہے۔ مستقبل میں شمسی توانائی وہ کردار ادا کرے گی جو اس وقت تیل کے کنویں کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گتریس کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی شمسی  اتحاد کو کافی اہمیت دیتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ انڈین اوشن رِم ایسوسی ایشن ممالک کے توانائی کے چیلنج ایک جیسے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ہمیں قابل تجدید توانائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں بھارت نے اپنا ایک ہدف طے کیا ہے اور وہ ہدف ہے 2030 تک غیرقدرتی ایندھن کے ذرائع سے 40 فیصد بجلی پیدا کرنا۔ اور 2022 تک ہم 175 گیگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے ہدف کو پار کرجائیں گے۔ اختتامی تقریب میں وزیراعظم نے ایک کلیدی تجویز پیش کی وہ تجویز تھی ۔ ایک دنیا۔ ایک سورج اور ایک گرڈ کی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گتریس نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ آب وہوا میں تبدیلی کی وجہ سے انسانی وجود کو ہی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس وقت ہم تمام دنیا میں قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں انقلاب کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ تاہم اب بھی جس چیز کی کمی ہے وہ ہےاہداف کو حاصل کرنے کیلئے سیاسی عہد وعزم کی جس کے لئے مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔ بجلی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر مملکت راج کمار سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نے ہمیں ایک دنیا، ایک سورج اور ایک گرڈ کا ایک دوسرا چیلنج دیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کیاجاسکتا  ہے اور ہم ایسا کرکے دکھائیں گے۔ قابل تجدید توانائی کے بارے میں 21 ملکوں نے دہلی اعلامیہ کو منظوری دی ۔ اس اعلامیہ میں قابل تجدید توانائی کے مقاصد کے حصول کیلئے انڈین اوشن رِم ممالک سے آپس میں تعاون کرنے کی اپیل کی گئی۔

بھارت کے 2022 کے ویژن کو پورا کرنے کیلئے تقریباً 76 ارب امریکی ڈالر کی ضرورت ہوگی جس کے لئے سرکاری فنڈ کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے نجی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں پیش رفت کیلئے سیاسی سطح پر تیز اور جلد فیصلے کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ آب وہوا کی تبدیلی کے راکشس کا مقابلہ کرنے کیلئے افریقہ سمیت تمام براعظموں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی بھی ضرورت۔ ماحول دوست توانائی کے حصول کی جانب بھارت نے دنیا کو راستہ پہلے ہی دکھادیا ہے۔ 2015 سے 2018 کے درمیان بھارت کے قابل تجدید توانائی کے شعبہ نے 81 فیصد ترقی کی ہے۔ 2030 تک غیرقدرتی ایندھن کے ذرائع سے 40 فیصد بجلی پیدا کرنے اور 2022 تک 175 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے اہداف مشکل ضرور ہیں لیکن ان کا حاصل کرنا ناممکن نہیں ۔ قابل تجدید توانائی کیلئے بھارت بہت بڑا بازار ہے اس لئے تمام دنیا کی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرکے ترقی حاصل کرسکتی ہیں۔