11.10.2018 جہاں نما

چینی حکام نے شنجیانگ میں حلال اشیاء کے خلاف شروع کی کارروائی

چین کے شہر شنجیانگ میں حکام نے انتہاپسندی کے خاتمے کے بہانے حلال اشیاء کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔  روزنامہ اسٹیٹس مین نے اس حوالے سے اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ ملک کے شمال مغرب میں واقع شنجیانگ وہی علاقہ ہے جہاں مسلمانوں  پر مذہبی پابندیاں عائد ہیں۔ چینی حکام نے اس علاقے میں بقول ان کے علیحدگی پسندوں کے خلاف حفاظتی اقدامات کئے ہیں اور اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اندازاً ایک ملین نسلی ایغور اور دیگر مسلم اقلیتی افراد کو بغیر مقدمہ چلائے سیاسی تعلیم نو کیمپوں میں قید کیا گیا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ علاقائی راجدھانی ارومچی میں کمیونسٹ پارٹی رہنماؤں نے ارکان کو حلف دلایا ہے کہ ملک میں حلال رجحان کے خاتمے کیلئے مہم شروع کریں گے۔ شہر کی سرکاری سوشل میڈیا سائٹ وی چیٹ پر پارٹی ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہی حلف آگے پوسٹ کریں جس میں مذہب سے دستبرداری کا حلف بھی شامل ہے۔ حلف نامے کے الفاظ ہیں ’’میرا عقیدہ مارکسزم نیشنلزم میں ہے اور مجھے اس کا پرچم بلند رکھنا ہے۔ پورے ملک میں حلال رجحان کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنا ہے۔ میں عقائد پر عمل کرنے کا عزم کرتا ہوں چاہے اس کے لئے مجھے موت کو ہی کیوں نہ گلے لگانا پڑے۔‘‘ بیان کے مطابق سرکاری حکام کو بھی غذائی پابندیوں پر عمل نہیں کرنا چاہئے اور کینٹینوں کو بھی غدائی تبدیلی کرنا چاہئے تاکہ حکام بھی مختلف تغذیات سے بھرپور کھانوں کا لطف اٹھا سکیں۔ سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز ، بدھ کی اشاعت میں ماہرین  کی رائے کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ بین حلال رجحان نے مذہبی اور معاشرتی زندگی کے درمیان فرق کو مسخ کردیا ہے جس سے لوگ آسانی سے مذہبی انتہاپسندی کے شکار بن جاتے ہیں۔ اخبار نے اگست میں شائع اقوام متحدہ کی رپورٹ کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ چین میں ایغوراور دیگر مسلم اقلیتوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں جس میں داڑھی رکھنا اور برقع پہننا بھی شامل ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے افراد کو ملک سے باہر افراد کنبہ سے رابطے اور سوشل میڈیا پر اسلامی تعطیلات کے موقع پر مبارکباد کے پیغام کی ترسیل جیسے معمولی جرم کے لئے تعلیم نو کیمپوں میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ بیجنگ نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے مگر سرکاری دستاویزات اور سابق محصور افراد سے دستیاب کاغذات سے اس کی تصدیق میں برابر اضافہ ہورہا ہے۔

دوہزار چار  میں شیخ حسینہ کے قتل کی سازش کے الزام میں ڈھاکہ عدالت نے دی 19افراد کو سزائے موت، خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید

بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے حزب اختلاف بی این پی کی رہنما  خالدہ ضیاء کے بیٹے اور ان کے سیاسی وارث طارق رحمٰن کو عمرقید کی سزا سنائی ہے جبکہ 19دیگر افراد کو پھانسی کی سزا دی ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ان تمام افراد کو یہ سزا 2004 میں وزیراعظم شیخ حسینہ کے قتل کی سازش رچنے کی پاداش میں سنائی گئی ہے۔ واضح ہو کہ اس وقت  کی حزب اختلاف رہنما شیخ حسینہ پر 21 اگست 2004 میں عوامی لیگ کی ریلی کے دوران حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ بچ گئی تھیں لیکن ان دھماکوں میں پارٹی کی خواتین محاذ کی رہنما اور سابق صدر ظل الرحمن کی اہلیہ آئیوی رحمن ہلاک ہوگئی تھیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ موت کی سزا یافتگان میں سابق جونیئر وزیرخارجہ لطف الزماں بابر، سابق نائب وزیرتعلیم عبدالسلام پنٹو اور فوج اور خفیہ محکمے کے کئی سابق عہدیدار بھی شامل ہیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ اس حملے کا مقصد شیخ حسینہ سمیت عوامی لیگ کی قیادت کا خاتمہ تھا۔ بی این پی کے سکریٹری جنرل فخرالاسلام عالمگیر نے اس فیصلے پر شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کو سیاسی اثر ورسوخ کے تحت دیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔

سعودی قاتل اسکواڈ جمال خشوگی کی موت کا ذمہ دار، لاش کے کئے گئے ٹکڑے ، ترکی کا الزام

سعودی صحافی اور سعودی حکومت کے زبردست مخالف جمال خشوگی کی گمشدگی کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے تحریر کیا ہے کہ نام نہ ظاہر کرے کی شرط پر ترکی حکام کا کہنا ہے کہ قونصل خانے میں داخلے کے دو گھنٹے کے اندر ہی سعودی خفیہ ایجنسی کے 4 ایجنٹوں نے خشوگی کو ہلاک  کردیا تھااور اپنے  ساتھ لائے ہوئے ہڈی کاٹنے کے آرے سے اس کی لاش کے ٹکڑے کردیئے تھے۔ ترکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ایجنٹوں میں سعودی عرب کی داخلی سلامتی ایجنسی میں فورینسک چیف، خصوصی افواج کا ایک افسر اور بقیہ دو سعودی عرب کے شاہی محافظ کے افراد شامل تھے۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ اس واقعے کے بعد پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ترکی کے اس انکشاف کے بعد سعودی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے جس نے اس پر ابھی تک لب کشائی نہیں کی ہے جبکہ ترکی اور پوری دنیا میں قاتل اسکواڈ کی تصاویر اور خشوگی کی گمشدگی کے دن قونصل خانے میں مشکوک نقل وحرکت کی ویڈیو ٹی وی پر دکھائی جارہی ہیں۔ دوسری جانب ولیعہد  شہزادے محمد سمیت سعودی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمال خشوگی اپنی آمد کے کچھ دیر بعد ہی قونصل خانے سے چلے گئے تھے۔ واضح ہو کہ منجھے ہوئے سعودی کمنٹیٹر، امریکی شہری اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خشوی سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں کی زبردست مخالفت کے لئے کافی مشہور تھا۔

 جنرل عاصم منیر آئی ایس آئی کے نئے سربراہ

روزنامہ ایشین ایج نے مطلع کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جرنل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کا نیا ڈی جی متعین کیا ہے۔ اخبار فوج کے ذرائع ابلاغ کے اس اعلان کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل منیراس سے قبل ملٹری انٹلی جنس کے سربراہ کے عہدے پر فائز تھے اور حال ہی میں ان کو ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنایا گیا تھا۔ وہ 25 اکتوبر کو سبکدوش ہونے والے موجودہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی جگہ لیں گے۔ انٹرسروسز رابطہ عامہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان کو بری فوج کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی کو منگلا کور کے کمانڈر کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔

 چین کی مالی امداد پاکستان کے لئے جوکھم بھری: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

روزنامہ ہندوستان ٹائمز پاکستان کے معاشی بحران کے حوالے سے اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک مالی امداد کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع نہیں کیا ہے۔اگر اعانتی امداد کے لئے بات چیت اس ہفتے ہوتی ہیں تو اس کا مقصد پاکستان کو اس بحران سے پوری طرح نکالنا ہوگا۔ اخبار نے بالی میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اخباری کانفرنس میں مالیاتی فنڈ کے چیف اکنامسٹ مارس آبسٹفلڈ   کی تنبیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے فوائد بھی ہیں اور خطرات بھی۔ پاکستان کو بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کی ضرورت ہے اور اپنے پروجیکٹوں میں مالیہ کی فراہمی کیلئے وہ چین کی مدد سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں ممکنہ جوکھم بھی موجود ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد نے ملک کے قرضہ جات کی مقدار کے حوالے سے پاکستان میں چین کے سب سے بڑے شاہراہ ریشم پروجیکٹ پر سرمایہ کو 2 بلین تک کم کردیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ساحلی شہر کراچی اور شمال مغرب میں پشاور کے درمیان ریل رابطے کی تعمیر نو ہونا ہے۔

 اترپردیش  میں ٹرین حادثہ، پانچ افراد ہلاک

روزنامہ ہندو نے کل صبح چھ بجے رائے بریلی کے قریب نئی دہلی آنے والی نیوفرکّا ایکسپریس کوحادثے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس حادثے میں نو کوچ اور انجن پٹری سے اتر گئے تھے ۔اس میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر ریل پیوش گوئل نے حادثے کی تحقیقات کاحکم جاری کردیا ہے جو رائے بریلی کے ہر چند علاقے میں پیش آیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ پیوش گوئل نے مرنے والوں کے لواحقین کے لئے فی کس 5 لاکھ روپئے، شدید زخمی ہونے والوں کے لئے فی کس ایک لاکھ روپئے اور معمولی طور پر زخمی ہونے والوں کے لئے فی کس 50 ہزار روپئے کی راحت کا اعلان کیا ہے۔ اسی اخبار نے بھارتی محکمہ موسمیات کے حوالے سے خبر دی ہے کہ خلیج بنگال سے اٹھنے والے بحری طوفان تتلی کی شدت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ اڈیشہ اور آندھرا پردیش کے ملحق علاقوں میں پہونچ گیا ہے اس کی رفتار 145 سے 165 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوچکی ہے۔