05.11.2018 جہاں نما

بھارت کے ساتھ قیام امن کی پاکستان کی کوشش کو چین کی حمایت حاصل۔چین-پاکستان  کا مشترکہ بیان

چین نے خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیئے بغیر اتوار کے روز بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے متنازعہ امور کے حل کیلئے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے بظاہر دو کلیدی معاملات پر بھی اسلام آباد حکومت کی حمایت کی ہے۔ یہ دو کلیدی معاملات ہیں- نیوکلیائی سپلائرس گروپ میں توسیع اور انسداد دہشت گردی۔ روزنامہ ہندو نے صفحۂ اول پر شائع اس خبرکے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں کے دورۂ بیجنگ کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر ، چین،  مذاکرات، تعاون اور گفت وشنید کے ذریعے قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کی ستائش کرتا ہے نیز پاکستان ۔ہند تعلقات کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ امور کو حل کرنے کے سلسلے میں وہ اسلام آباد حکومت کی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ اخبار اس مشترکہ بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ پاکستان سارک پلیٹ فارم پر چین کی سرگرم شرکت کی حمایت کرتا ہے۔ حالانکہ سارک میں چین مشاہد کا کردار ادا کرتا ہے مگر امکان نہیں ہے کہ بھارت، جنوب ایشیائی گروپ میں چین کے سرگرم کردار کی حمایت کرے گا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس بیان سے انسدادِ دہشت گردی اور این ایس جی پر پاکستان کے موقف کا تضاد ظاہر ہوتا جس کا ضمنی متن بالکل واضح ہے۔ یعنی ایک طرف تو یہ بیان ہے اور اس کے برخلاف اقوام متحدہ کے ذریعہ پاکستان میں سرگرم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے اور توسیع شدہ این ایس جی میں ہندوستان کی شرکت کی کوششوں میں چین کی رخنہ اندازی ۔ اسی اخبار نے ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ اس مشترکہ بیان کے اجراء کے بعد سابق سکریٹری داخلہ کنول سبل نے کہا ہے کہ اگر چین کے دل میں وزیراعظم نریندرمودی اور صدر شی کے درمیان  اس سال ووہان بات چیت کا ذرا بھی احترام ہوتا تو وہ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی تازہ پیش قدمیاں نہیں کرتا۔

پاکستان میں توہینِ رسالت کے مقدمے  میں عیسائی خاتون آسیہ بی بی بری، شوہر عاشق مسیح کی ٹرمپ سے پناہ کی درخواست

پاکستان کے ہی حوالے سے روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر ہے جس کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت مقدمہ میں گزشتہ ہفتے عدالت عظمی نے جس پاکستانی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے احکامات جاری کئے تھے ،ان کے شوہر عاشق مسیح نے امریکی صدر ڈونل ٹرمپ سے پناہ کی درخواست کی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ توہینِ رسالت کے الزامات ثابت نہ ہونے کی وجہ سے عدالتِ عظمی نے آسیہ بی بی کی رہائی کے احکامات جاری کئے تھے۔ ان احکامات، عدالت عظمی کے جج اور آسیہ بی بی کے وکیل کے خلاف مذہبی جماعتوں نے ملک گیر احتجاج شروع کیا تھا جن کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا تھا۔ جمعہ کے روز مظاہرین کے ساتھ حکومت کے سمجھوتے کے بعد یہ احتجاج ختم کردیئے گئے تھے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے نہ صرف ڈونل ٹرمپ سے پناہ کی درخواست کی ہے بلکہ برطانیہ اور کناڈا سے بھی مدد کے لئے کہا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ جمعے کے روز تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ حکومت نے سمجھوتہ کیا تھا جس کے مطابق اس نے دعوہ کیا تھا کہ آسیہ بی بی کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور خود اس کو عدالت عظمی میں نظرثانی کے لئے عرضداشت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ مذہبی جماعتوں کی دھمکیوں کی وجہ سے آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے سنیچر کے روز ملک چھوڑ دیا تھا۔ اخبار نے پنجاب کے جیل خانوں کے آئی جی شاہد سلیم بیگ کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کو آسیہ بی بی کی رہائی کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

امریکہ میں ضمنی انتخابات، ڈیموکریٹس کی آنکھیں اپنے ہند۔امریکی امیدواروں پر مرکوز

آج اخبارات نے جن دوسری خبروں کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ان میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی خبریں بھی شامل ہیں۔ یہ انتخابات منگل کے روز ہوں گے۔ اخبار ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ ٹیکساس سے انتخابات کی دوبارہ امیدوار پیٹ اولسن نے انتخابی مہم کے درمیان ایک بیان میں اپنے ڈیموکریٹک مخالف سری پریسٹن کلکرنی کو ہندنژاد امریکہ امیدوار کہا تھا جس کے بعد نسل، سیاست اور امریکیت پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ سری پریسٹن ان 12 ہند-نژاد امریکیوں میں شامل ہیں جو امریکی کانگریس کے ارکان کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان 12 امیدواروں میں سے چار امیدوار دوسرا انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر ڈیموکریٹکس ہیں اور اگر یہ امیدوار جیت جاتے ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی 23 اضافی نشستیں جیت کر ریپبلک ارکان سے ایوان کا کنٹرول چھیننے میں کامیاب ہوجائے گی اور اگر ایسا ہوا تو یہ ڈونل ٹرمپ کے لئے ایک زبردست جھٹکا ہوگا۔ ڈیموکریٹکس کے پاس پہلے ہی یہ تعداد موجود ہے اور انتخابی میدان میں ہند-امریکی امیدواروں کی جیت سے ان کو مزید تقویت ملے گی۔

ایران میں امریکی سفارت خانے کی یرغمالی کی 39؍ویں سالگرہ کے موقع پر ریلیاں

روزنامہ اسٹیٹسمین کی خبر کے مطابق ایران میں امریکی سفارتخانے کو یرغمال بنانے کی 39 ویں سالگرہ کے موقع پر ہزاروں ایرانیوں نے کل ریلیاں نکالی۔ یہ ریلیاں ایسے وقت نکالی گئی ہیں جب امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ کی جانے والی ہیں۔ ان ریلیوں کے دوران مظاہرین نے موجودہ صدر ڈونل ٹرمپ کے خلاف بھی اپنا غصہ نکالاکیونکہ انہوں نے اس معاہدے سے منھ موڑ لیا تھا جو ان کے پیشرو اور ایران کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایران اس کی پاسداری کررہا ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ نومبر 1979 میں اس وقت کے صدر کارٹر نے شاہ محمد رضا پہلوی کو سرطان کے علاج کے لئے امریکہ آنے کی اجازت دی تھی جس کے خلاف احتجاج میں چار نومبر کو طالب علم مظاہرین نے تہران میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر قبضہ کرلیا تھا۔

سری لنکا میں راج پکشے کی حمایت میں اضافے  کیلئے تمل قیدی کئے جاسکتے ہیں آزاد

روزنامہ دی انڈین ایکسپریس نے سری لنکا کے سیاسی بحران سے متعلق خبر کو جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم مہندا راج پکشے کے حق میں تمل قانون سازوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے تمل قیدیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کے قانون ساز بیٹے نمل نے اتوار کے روز کہاکہ اقلیتی برادری کے مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے ان تمل قیدیوں کو جلد رہا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر سری سینا اور وزیراعظم راج پکشے اس بارے میں جلد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ 2009 میں ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد سے حکومت اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ ایل ٹی ٹی ای قیدی ارکان سیاسی قیدی ہیں۔ تمل برادری کے مطابق کچھ قیدی دہشت گردی مخالف قانون کے تحت کافی دنوں سے جیل میں ہیں اور ان پر ابھی تک باضابطہ طور پر الزامات بھی طے نہیں کئےگئے ہیں۔ نمل کے بیان کا مقصد تمل قومی اتحاد کے ارکان کو پارلیمنٹ میں راج پکشے کی حمایت میں ووٹ کے لئےترغیب دینا ہے تاکہ وزیراعظم اپنی اکثریت ثابت کرسکیں۔ ابھی تک 100 ارکان پارلیمنٹ راج پکشے کی جانب ہیں جبکہ معزول وزیراعظم رانل وکرما سنگھ کو دو سو پچیس ارکان والے ایوان میں 103 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اسی دوران صدر سری سینا نے 14 نومبر کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرلیا ہے جسے انہوں نے وزیراعظم رانل وکرما سنگھے کی برطرفی کے دو دن بعد معطل کردیا تھا اور رانل کی جگہ راج پکشے کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

آسٹریلیا بھارتی تارکین وطن کے لئے مزید پرکشش

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے خبر دی ہے کہ ایسے وقت میں جب دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک تارکین وطن کے لئے اپنے دروازے بند کررہے ہیں،آسٹریلیا ان کا بدستور خیرمقدم کررہا ہے اور ہندوستانیوں کے لئے یہ ملک کشش کا باعث ہے اس کی کُل آبادی کا ایک تہائی حصہ تارکین وطن ہیں۔ اخبار اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ صرف 2011 سے 2016 کے درمیان ہی آسٹریلیا میں ہندوستانی تارکین وطن کی تعداد میں 50 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس لگ بھگ 25 ملین ہندوستانیوں نے اس براعظمی ملک کی سیاحت کی تھی اور اس میں برابر اضافہ ہورہا ہے ۔ اخبار نے وزٹ وکٹوریا کے ترجمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ آسٹریلیا کی سب سے گھنی آبادی والی ریاست وکٹوریا میں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔