06.11.2018 جہاں نما

ایران پر امریکی پابندیاں:بھارت اور چین کو راحت

آج اخبارات نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے بعد بھارت سمیت آٹھ ممالک کو تہران سے تیل کی خریداری سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے اس تعلق سے خبر دی ہے کہ ان ممالک میں بھارت  کے علاوہ چین،اٹلی،یونان،جاپان،جنوبی کوریا،تائیوان اور ترکی شامل ہیں۔ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے واشنگٹن میں وزیر خزانہ اسٹیون منیوچن کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں  کہا کہ امریکہ نے ان ممالک کو یہ عارضی استثنیٰ کچھ خصوصی حالات کے پیش نظر دیا ہے تاکہ تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان میں سے ہر ملک نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران ایران سے خریداری میں نمایا ں تخفیف کی ہے۔تیل کی خریداری سے ہونے والی ادائیگیوں کو غیر ملکی کھاتوں میں رکھا جائے گا اور ایران اس رقم کو پابندیوں سے مستثنیٰ سامان اور انسانی امداد  کے لئے استعمال کر سکے گا۔ ان میں غذائی سامان،ادویہ ، طبی آلات اورساز و سامان شامل ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ چین او ربھارت کا شمار ایران سے تیل کے دو اعلیٰ در آمد کنندگان میں کیا جاتا ہے اور پامپیو کے مطابق ڈونل ٹرمپ کے ذریعہ ایران کے ساتھ معاہدے سے علیٰحدگی کے بعد 70 سے زیادہ ممالک نے ایران سے خام تیل کی در آمدات میں کمی کی ہے جس کی وجہ سے امسال مئی سے اس ملک کو تیل سے ہونے والی آمدنی میں دو اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کی کمی آئی ہے ۔

ملک میں تیار اری ہنت آبدوز کی گشتی مہم کامیاب،بھارت امریکہ و دیگر ممالک میں شامل

اخبارات نے جن دیگر خبروں کو جلی سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے ان میں آبدوز آئی این ایس اریہنت کی کامیاب گشتی مہم کی خبر سب سے نمایاں ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے صفحہ اول پر شائع اس خبر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ جوہری ایندھن سے چلنے والی اور جوہری اسلحہ جات سے لیس اس پہلی ملکی بیلسٹک میزائل آبدوز کی کامیاب مہم کے بعد بھارت سمندر،فضا اورزمین سے جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت حاصل کر کے امریکہ،روس،برطانیہ،فرانس اور چین کی صفوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اخبار وزیر اعظم نریندر مودی کے مختلف ٹوئٹس کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس آبدوز کی کامیابی ان ممالک کے لئے ایک جواب ہے جو نیو کلیائی بلیک میلنگ میں ملوث ہیں۔ اس دن کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے نریندر مودی نے لکھا کہ آج بھارت نے کامیابی کے ساتھ نیو کلیائی تثلیث حاصل کی ہے جو عالمی امن و استحکام کے لئے نہ صرف ایک اہم ستون کا کردار ادا کرے گی بلکہ اسم با مسمیٰ اری ہنت ،بیرونی خطرات سے 130 کروڑ ہندوستانیوں کی حفاظت بھی کرے گی۔ اخبار کے مطابق اری ہنت کا مطلب ہے دشمنوں کے لئے تباہ کن یا مہلک اور یہ 600 ٹن وزنی آبدوز ،آبدوز سے چھوڑے جانے والے 12 بی05 بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہے جو نیو کلیائی ہتھیاروں کو 750 کلو میٹر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت پہلے ہی جنگی طیاروں اور زمین سے چھوڑے جانے والے میزائلوں سے نیو کلیائی حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات،ٹرمپ کے لئے ایک عوامی فرمان

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لئے آج ووٹ دالے جا رہے ہیں۔ ری پبلکن ارکان کی اکثریت والی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی روکنے کے لئے ڈونل ٹرمپ نے پیر کے روز تین ریاستوں میں طوفانی ریلیاں کیں۔ روزنامہ ایشین ایج نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اپنی سخت انتخابی مہمات میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو ہر معاملے میں نمایاں  رکھا ۔ ان انتخابات کو گذشتہ دہائیوں کے سب سے بڑے تفریق کار ٹرمپ کے خلاف استصواب رائے قرار دیا جا رہا ہے۔ڈونل ٹرمپ اپنی انتخابی مہمات میں کہتے رہے ہیں کہ رائے دہندگان کو ،روز افزوں معیشت نیز سلامتی پر سخت توجہ والی ان کی قیادت اور بقول ان کے ڈیمو کریٹس کی سخت گیر بائیں بازو کی پالیسیوں میں سے ایک کو منتخب کرنا ہوگا ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے پہلے معاشی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد ان کی توجہ غیر قانونی تارکین وطن کی طرف مبذول ہو گئی تھی اور بقول ان کے ملک ان غیر قانونی تارکین وطن کے حملے کی زد میں ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ان انتخابات سے پہلے ہی ٹرمپ ہزاروں سپاہیوں کو میکسیکو سرحد پر اس ہدایت کے ساتھ تعینات کر چکے ہیں کہ فوجیوں پر سنگ باری میں ملوث تارکین وطن کو گولی مار دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی شہریوں کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی تھی کہ ڈیمو کریٹس ملک کو جرائم اور منشیات کے گڑھ میں تبدیل کر دیں گے۔ایک ریلی میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈیمو کریٹس، ملک پر سوشلزم تھوپنا چاہتے ہیں اور امریکہ کی سرحدوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خاں کی براہ راست تقریر کے دوران پی ٹی وی نے لفظ بیجنگ کو دکھایا بیگنگ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں کی براہ راست تقریر کے دوران پاکستان ٹی وی نے ڈیٹ لائن پرلفظ بیجنگ کے بجائے بیگنگ دکھایا جس کے لئے ٹی وی چینل نے معذرت طلب کی ہے ۔ اپنی خبر میں روزنامہ انڈین ایکسپریس نے تحریر کیا ہے کہ بیجنگ کے سرکاری دورے میں عمران خاں بر سر اقتدار کمیونسٹ پارٹی کےسینٹرل پارٹی اسکول میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ پی ٹی وی نیوز کے سر کاری ٹوئٹر ہینڈل کے مطابق ضابطے کے تحت متعلقہ عہدیداروں کے خلاف اس غلطی کے لئے سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اس واقعے کے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اخبار نے پاکستان  کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے آگے لکھا ہے کہ یہ فاش غلطی اس وقت اور بھی مہلک ثابت ہوئی ہے جب عمران خاں پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے چین سے امداد حاصل کرنےکے لئے بیجنگ گئے تھے۔

جموں و کشمیر پر چین و پاکستان کا پرانا کھیل:اداریہ ایشین ایج

’’جموں و کشمیر پر پاکستان اور چین کا پرانا کھیل‘‘اس عنوان سے روزنامہ ایشین ایج اپنے اداریئے میں لکھتا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں کے دورۂ چین میں دونوں ممالک نے ایک بار پھر اپنی سدا بہار دوستی پر زور دیا اور ساتھ ہی ہندوستان کی اس سخت تشویش کو نظر انداز کر دیا جو اس نے مسئلہ کشمیر  اور اپنے علاقے سے گزرنے والی چین-پاکستان معاشی راہداری کی تعمیر کے سلسلے میں ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جس پر پاکستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر مشترکہ بیان میں بھارت کا ذکر اس طرح سے کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو بھارت کی تشویشات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی تشویشات کو نظر انداز کرتے وقت بیجنگ اور اسلام آباد حکومتوں نے  دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اور بین الاقوامی عدم توسیعی نظام کے سلسلے میں تعاون پر ایک بار پھراس کی اوٹ پٹانگ بیان بازی کی حمایت کی۔ اخبار کے مطابق عمران خاں کے دورے کے اختتام پر جاری بیان میں چین نے پاکستان-ہند تعلقات میں بہتری اور متنازعہ امور کے حل کے لئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی اور قیام امن کے لئے اس کی کوششوں کو بھی سراہا۔اخبار لکھتا ہے کہ دیکھا جائے تو یہ پاکستان کا دوہرا معیار ہے ۔قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششیں خیالی افسانہ ہیں اور اسی طرح بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اگر ان دونوں ممالک کے کھیل کا یہ تازہ ایڈیشن ہے تو پھرہندوستان مخالف چین پاکستان کے گٹھ جوڑ کے تناظر میں  ووہان میں چین کے صدر شی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر رسمی ملاقات بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

سری لنکا میں اسپیکر نے راج پکشے کو وزیر اعظم تسلیم کرنے سے کیا انکار

روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق سری لنکا کے اسپیکر جیا سوریہ نے وزیر اعظم رانیل وکرم سنگے کی برطرفی اور پارلیمنٹ کو معطل کرنے کے لئے صدر میتری پالا سری سینا  کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مہندا راج پکشے کو اس وقت تک نیا وزیر اعظم تسلیم نہیں کریں گے جب تک وہ ایوان کی ووٹنگ میں کامیاب نہیں ہو جاتے ہیں۔اخبار کے مطابق جیا سوریہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سری سینا نے یہ اعلان کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 14 نومبر کو دوبارہ شروع ہوگا۔ پیر کو جاری ایک بیان میں جیا سوریہ نے کہا کہ ایوان کے 116 ارکان نے ان کو ایک عرضداشت پیش کی ہے جس کے مطابق سری سینا کے ذریعہ کی گئی تبدیلیاں غیر آئینی اور غیر جمہوری ہیں۔