امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لئے ووٹنگ

امریکہ میں عوام نے پارلیمنٹ کے ارکان اور درجنوں ریاستی گورنروں کے انتخاب کے لئے  اہم ملک گیر وسط مدتی انتخابات کے تحت ووٹ ڈالے گئے۔ یہ وسط مدتی انتخابات، ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر کی حیثیت سے چنے جانے کے دو سال بعد کرائے گئے ہیں جنہیں ان کی کارکردگی کے تئیں عوامی رائے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ری پبلکن ارکان کی ، ایوان نمائندگان اور سینٹ میں فی الحال اکثر یت ہے۔ البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ڈیموکریٹک ارکان کو اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ فی الحال ایوان میں ری پبلکن پارٹی کو دو سو چھتیس سیٹیں حاصل ہیں اور تینتالیس سیٹوں سے سبقت حاصل ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک سو ترانوے سیٹیں حاصل ہیں اور چھ سیٹیں خالی ہیں۔ ڈیموکریٹکس کو اب اکثریت حاصل کرنے کے لئے محض چوبیس سیٹوں کی ضرورت ہے اگرچہ یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہوگی لیکن چونکہ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے لہذا پارٹی کی امید یں بڑھ جاتی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق ممبر پارلیمنٹ اور بینک آف گوم کی موجودہ صدر لو لین گوریرو کو مغربی بحر اوقیاس کے مائیکرو نیسیا میں گوم امریکی خطے کی پہلی خاتون گورنرکے طورپر  منتخب کرلیا گیا ہے۔