08.11.2018

مذہبی انتہاپسندی کے آگے گھٹنے ٹیک دینا کسی بھی ملک یا معاشرے کے لیے سود مند نہیں۔ ہر ملک کا اپنا آئین ہوتا ہے، اپنے قوانین ہوتے ہیں۔ آئین و قوانین کے نفاذ کے لیے ادارے ہوتے ہیں۔ ان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک میں بہر صورت قانون کی حکمرانی قائم کریں۔ جو عناصر اس کی راہ میں رکاوٹ بنیں یا قانون شکنی کے مرتکب ہوں ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ اسی کے ساتھ حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ کرے اور اگر ضرورت پڑے تو بزور طاقت لا اینڈ آرڈر قائم کرے۔ لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عملاً آئین و قوانین کی نہیں بلکہ مذہبی شدت پسندوں کو بالادستی حاصل ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ خواہ سویلین حکومتیں رہی ہوں یا فوجی، ہر حکومت نے ان کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں اور ان کے جائز و ناجائز مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مذہبی شدت پسند جماعتوں کو بڑی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ کھلم کھلا آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتی ہیں اور جو ان کی انتہاپسندانہ سوچ کی مخالفت کرے اس کی جان کی دشمن بن جاتی ہیں۔ ان طاقتوں کے آگے کس طرح حکومت خود کو سرینڈر کرتی آئی ہے اس کی تازہ ترین مثال آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد کے حالات ہیں۔ سپریم کورٹ نے ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر زیریں عدالت اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے آسیہ کو توہین رسالت کے کیس میں بری کیا کِیا کہ پورے ملک میں طوفان برپا ہو گیا۔ بریلوی مسلک کی نمائندہ جماعت تحریک لبیک پاکستان اور اسی کے ساتھ دوسری مذہبی جماعتوں نے نہ صرف اس فیصلے کی پرزور مخالفت کی بلکہ فیصلہ سنانے والے جج حضرات کو واجب القتل قرار دے دیا۔ انھوں نے فاضل جج حضرات کے قتل کے لیے پر امن عوام کو، ججوں کے محافظوں کو اور ان کے ملازموں کو اکسایا۔ انھوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو بھی مورد الزام ٹھہرایا۔ ان جماعتوں کے ہنگاموں کی وجہ سے کئی روز تک ملک میں لاقانونیت اور نراج کی کیفیت رہی۔ پہلے تو پی ٹی آئی حکومت نے سخت تیور دکھائے۔ یہاں تک کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قسم کے ہنگاموں کو برداشت نہیں کرے گی اور اسے کسی بھی قسم کا سخت قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ فوج نے بھی انتہائی سخت رخ اختیار کیا اور کہا کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ لیکن پھر اچانک حکومت اور فوج کا لہجہ بدل گیا۔ سختی کی جگہ نرمی نے لے لی اور شجاعت کی جگہ بزدلی آگئی۔ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مفاہمت کر لی اور اس کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔ اس نے یہ مان لیا کہ آسیہ بی بی کو ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا اور اس کی رہائی کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی پٹیشن کی مخالفت نہیں کی جائے گی۔ گویا اس نے بالواسطہ طور پر آسیہ کے قتل کی راہ ہموار کر رکھی ہے۔ آسیہ کی جان کو کتنا بڑاخطرہ لاحق ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے وکیل سیف الملوک کو ملک چھوڑ کر باہر جانا پڑا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے قائد خادم رضوی ہوں یا دوسرے  لیڈر، انھوں نے آئین و قانون کو اپنی ٹھوکر پر رکھا اور ایک طرح سے ملک سے غداری کا ارتکاب کیا۔ لیکن حکومت نے اس غداری اور بغاوت کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے بجائے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ ان کی دھمکیوں کی وجہ سے فیصلہ سنانے والے ججوں کی زندگی بھی خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ اسے نہیں بھولنا چاہیے کہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے جب آسیہ کی حمایت کی اور اہانت قانون میں ترمیم کی وکالت کی تو ان کے ہی محافظ ممتاز قادری نے انھیں گولی مار دی تھی۔ لیکن قادری کو پاکستان کا بہت بڑا طبقہ ہیرو مانتا ہے۔ خود حکومت کے ایک وزیر نے اس کے مزار پر حاضری دی۔ یہ قدم بجائے خود قانون کو منہ چڑانا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان طاقتوں کو اتنا حوصلہ کہاں سے ملا۔ در اصل قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل رہی ہے۔ وہ مذہب کے نام پر جس کو چاہیں گردن زدنی قرار دے دیں۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ موجودہ حکومت کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ان طاقتوں کے آگے بار بار گھٹنے ٹیک دینا اچھی بات نہیں۔ لیکن انھی کی حکومت نے گھٹنے ٹیکنے کی تازہ مثال قائم کی ہے۔ یہ کتنی خطرناک بات ہے کہ لوگ کھلم کھلا قانون کو چیلنج کریں، لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور اس کے باوجود ان کے خلاف ایکشن نہ لیا جائے۔ بلکہ ان کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسے عناصر کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا، ان کو جیلوں میں ڈالا جاتا اور انھیں قانون شکنی کی سزا دی جاتی۔ لیکن حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ حالانکہ پاکستان میں بھی دانشوروں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اس رجحان کا مخالف ہے اور اس قسم کے معاملات میں کھل کر بولتا بھی ہے۔ لیکن ان طبقات کی آواز پر کان دھرنے کے بجائے مذہبی شدت پسندوں کی باتیں مانی جاتی ہیں۔ یہ صورت حال نہ تو پاکستان کے حق میں بہتر ہے او رنہ ہی وہاں کے عوام کے۔