08.11.2018 جہاں نما

دفاعی شعبے کے استحکام کے لئے اقدامات زیر عمل: وزیراعظم

کل روشنیوں کا تیوہار دیوالی پورے ملک میں روایتی جوش وخروش اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ منایا گیا۔ لوگوں نے بلاتفریق مذہب وملت ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ملک کے قائدین نے بھی عوام کو دلی مبارکباد دی۔ دیوالی کے موقع پر مکمل تعطیل رہی۔ اس وجہ سے اخبارات بھی شائع نہیں ہوئے۔ اس لئے آج کے جہاں نما میں آل انڈیا ریڈیو کی خبروں اور پاکستان کے اخبارات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا پیش ہے آج کا یہ خصوصی پروگرام جو اخبارات پر مشتمل نہ ہوکر ریڈیو کے بلیٹن پر مشتمل ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے دیوالی کا تیوہار اتراکھنڈ کی سرحد پر واقع دوردراز چوکی ہرسِل پر بری فوج اور آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے ساتھ منایا۔ اس موقع پر انہوں نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دفاعی شعبے کو مستحکم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے اس کے علاوہ ایک عہدے ایک پنشن سمیت، سابق فوجیوں کی فلاح وبہبود کے لئے بھی مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے قوم کی سلامتی کو یقینی بنانے اور عوام کے درمیان جرأت مندی کے جذبے کو فروغ دینے کیلئے جوانوں کی ستائش بھی کی۔ ریڈیو کی نشریات میں بتایا گیا  ہے کہ اس موقع پر جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ دور دراز برف پوش پہاڑی علاقوں میں اپنے فرائض کے تئیں ان کی لگن سے ملک کو استحکام حاصل ہوا ہے اور 125 کروڑ ہندوستانیوں کے مستقبل اور خوابوں کو تحفظ حاصل ہوا ہے۔ وزیراعظم نے بڑے فخر کے ساتھ اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی پوری دنیا معترف ہے یہی نہیں اقوام متحدہ کی امن فوج میں ان کے فرائض اور لگن کی بھی دنیا بھر میں ستائش کی جاتی ہے۔

 

انتخابی کمیشن کے اعلیٰ اختیاراتی وفد کا دورہ میزورم

ریڈیو کی ایک اور خبر کے مطابق، میزورم میں موجودہ تعطل کے سلسلے میں ریاستی حکام اور این جی او کوآرڈی نیشن کمیٹی کے رہنماؤں سے بات چیت کیلئے انتخابی کمیشن کل ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹیم وہاں بھیجے گا۔ اس ٹیم کی قیادت انتخابی کمیشن کے نائب سربراہ سدیپ جین کریں گے۔ واضح ہو کہ گزشتہ دو روز سے وائی ایم اے کی زیرقیادت این جی او کوآرڈی نیشن کمیٹی، پرنسپل سکریٹری داخلہ لال نُن ماویاچوان گو  کی برخاستگی کے خلاف مظاہرہ کررہی ہے ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ چیف الیکٹورل آفیسر ایس بی ششانک کو ہٹایا جائے۔ ریڈیو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمیٹی نے کچھ وقت کے لئے کل شام اپنا احتجاج ملتوی کردیا تھا۔ ایک بیان میں کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی ادارے کے ایک وفد سے بات چیت کے بعد کمیٹی کی منظور کردہ قرارداد کے زیادہ تر مطالبات مان لئے گئے ہیں ۔سی ای او کے خلاف احتجاج کے دوران کولاسب  ضلع میں تشدد پر بھی کمیشن نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں انتخابی سرگرمیاں

ریڈیو کی ایک اور خبر چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں انتخابی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ خبر کے مطابق چھتیس گڑھ کے ماؤنوازوں سے متاثرہ علاقوں میں امیدوار آئندہ انتخابات کے لئے اپنی مہمات کے لئے جدت آمیز طریقے اپنارہے ہیں۔ ریاست میں بستر علاقے کے دور دراز گاؤوں میں امیدوار روایتی انتخابی میٹنگوں کے بجائے ہفتہ واری بازاروں اور عوامی اجتماعات کے دوران رائے دہندگان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ماؤنوازوں کے ذریعے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کے پس منظر میں پارٹیاں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرنے کے بجائے دو بدو گفتگو پر زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہیں۔ ریڈیو نے اپنی خبروں میں بتایا ہے کہ جہاں تک عوام سے جڑے مسائل کا تعلق ہے، بی جے پی نے گزشتہ پندرہ برس کے دوران ترقیات کو اپنی مہم کا اہم موضوع بنایا ہے اور بستر میں بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کو نمایاں کررہی ہے۔ حزب اختلاف کانگریس اور دیگر جماعتیں ، بے روزگاری کے مسئلے کے علاوہ جل، جنگل اور زمین پر قبائلیوں کے حق پر توجہ مرکوز کررہی ہیں۔

 

قومی راجدھانی دہلی میں فضائی کثافت میں خطرناک حد تک اضافہ

قومی راجدھانی دہلی میں فضائی کثافت بدستور ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ریڈیو کے مطابق دہلی میں کثافت کی سطح ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہونچ گئی ہے۔ مرکزی کثافت کنٹرول بورڈ نے بتایا ہے کہ آج صبح دہلی میں ایرکوالٹی انڈیکس، 325ریکارڈ کیا گیا۔ فضائی کثافت کل بھی بہت زیادہ رہی تھی۔ آل انڈیا ریڈیو کے نمائندے کے مطابق آج صبح دارالحکومت میں گھنی دھند چھائی ہوئی تھی جس سے فضا میں خطرناک کثافت کا اشارہ ملتا ہے۔ کثافت کے مدنظر دیوالی کے موقع پر عدالت عظمیٰ نے شام  آٹھ بجے سے رات دس بجے تک ہی کثافت سے پاک پٹاخے جلانے کی اجازت دی تھی۔ شہریوں کو شروع میں دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں کم شور اور دھوئیں کی وجہ سے راحت ملی تھی مگر جیسے جیسے تیوہار کے جوش وخروش میں اضافہ ہوتا گیا پٹاخوں کے شور میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ قومی راجدھانی دہلی میں تمام تعمیراتی سرگرمیوں اور کھدائی پر سنیچر کے روز تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔

 

سری لنکا میں حکومت کے استحکام سے متعلق شکوک وشبہات کے درمیان تین نئے وزراء کی حلف برداری

سری لنکا میں نئی حکومت کے استحکام پر شکوک وشبہات کے درمیان کل شام تین نئے وزراء نے حلف اٹھایا۔ صدر میتری پالا سری سینا نے ان سے حلف لیا۔ ان میں نئے وزیر اعظم کے برادر اور سابق اسپیکر چمل راجاپاکسے بھی شامل ہیں۔ سری لنکا میں تازہ ترین حالات کے تعلق سے ریڈیو نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کارو جے سوریہ کے حوالے سے آگے خبردی ہے کہ اگلے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت کے استحکام کے سلسلے میں اکثریت کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع دیاجانا چاہئے۔ آل انڈیا ریڈیو کے نمائندے کے مطابق صدر کے ذریعے ایوان تحلیل کرنے اور جلد انتخابات کی افواہوں کے درمیان نئے وزراء نے حلف اٹھایا ہے جبکہ دیر شب جاری ایک اخباری بیان میں حکومت نے  افواہوں کی تردید کی ہے۔ ایک وزیر نے بتایا ہے کہ 14 تاریخ کو پارلیمان کے اجلاس کے پہلے دن صدر ،ایوان سے خطاب کریں گے جبکہ اکثریت ثابت کرنے کے لئے تاریخ کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسپیکر کی خواہش کے برعکس ہے کہ ایوان کے اجلاس پہلے دن ہی اکثریت ثابت کی جائے۔ اسی دورن امریکہ نے صدر پر زور دیا ہے کہ سیاسی بحران کے حل کے لئے ایوان کا اجلاس جلد از جلد بلایاجائے کیونکہ مزید تاخیر سے سری لنکا میں غیریقینی صورتحال اور بھی پیچیدہ ہوسکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

 

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات : ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ریڈیو نے خبردی ہے کہ حزب اختلاف ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی ہے لیکن اس کے باوجود صدر ڈونل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھی ہے۔ اقتدار پر ریپبلکن کی اجارہ داری کو ختم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پہلے ہی سینیٹ میں دو درجن سے زیادہ سیٹیں جیت چکے ہیں۔ اس طرح وہ آٹھ سال میں پہلی مرتبہ 435 رکنی ایوان میں اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایوان نمائندگان پر قبضہ کرنے کے بعد اب ڈیموکریٹس جناب ٹرمپ پر زیادہ ادارہ جاتی دباؤ بناسکیں گے۔ریڈیو کے مطابق ٹرمپ نے نتائج پر اطمینان کااظہار کرتے ہوئے اسے شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔ ایوان کی 78 سالہ رکن نینسی پیلوسی کے ایوان نمائندگان میں دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے کی امید ہے۔

 

توہین رسالت کے الزامات میں مقید اور موت کی سزا یافتہ آسیہ بی بی کی جیل سے رہائی

پاکستان کے روزنامہ ڈان نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ عدالت عظمی نے 31اکتوبر کو توہین رسالت میں مقید اور موت کی سزا یافتہ آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد بدھ کی شب، ان کو ایک خصوصی طیارے سے اسلام آباد لایا گیا۔ آمد کے فوراً بعد ان کو سخت حفاظت میں نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ عدالت عظمی کے اس حکم کے بعد مذہبی جماعتوں نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا تھا اور تحریک لبیک پاکستان نے تین روز تک ملک کے اہم شہروں کی سڑکوں کو جام کردیا تھا۔ تنظیم آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دینے والے جج صاحبان، وزیراعظم اور فوج کے سربراہ کی سخت مذمت بھی کررہی تھی۔ لیکن بعد میں تحریک لبیک پاکستان نے حکومت کے ساتھ سمجھوتے کے بعد احتجاج ختم کردیاتھا۔ اس سمجھوتے کے تحت حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ آسیہ بی بی پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگادی جائے گی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ آسیہ بی بی کے مستقبل اور ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کرنے یا نہ کرنے پر حکام نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ منگل کے روز اٹلی نے کہا تھا کہ وہ ان کو پاکستان چھوڑنے کے لئے مدد دینے کو تیار ہے کیونکہ ملک میں ان کی جان کو خطرہ درپیش ہے۔ واضح ہو کہ اس سے قبل ان کے شوہر عاشق مسیح امریکہ اور برطانیہ سے پناہ کی درخواست کرچکے ہیں۔