معیشت کو باقاعدہ رنگ روپ دینے کیلئے متعدد اقدامات میں سے نوٹ منسوخی اہم فیصلہ :جیٹلی

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ سرکار نے معیشت کو باقاعدہ رنگ روپ دینے کیلئے جو متعدد اقدامات کیے ہیں، کرنسی نوٹ منسوخ کیا جانا ان میں سے ایک اہم فیصلہ تھا۔ انہوں نے کرنسی نوٹ منسوخ کیے جانے کے دو سال پورے ہونے کے موقع پر فیس بک پوسٹ میں یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مالی شمولیت ایک اور اہم قدم تھا تاکہ کمزور طبقوں کو بھی باقاعدہ معیشت کاحصہ بنایا جاسکے۔ جناب جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ سرکار کا پہلا نشانہ بھارت کے باہر کالا دھن تھا اور اثاثے رکھنے والوں سے کہا گیا کہ وہ اس رقم کو واپس لائیں اور تعزیری ٹیکس ادا کرے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بھارت کی معیشت میں نقدی چھائی رہتی ہے اور کرنسی نوٹ منسوخ ہوجانے کی وجہ سے لوگ اپنی نقد رقم کو بینکوں میں جمع کرانے پر مجبور ہوگئے۔

اسی دوران سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ کرنسی منسوخ کیے جانے کا اثر ہر شخص پر پڑا، چاہے اس کا تعلق کسی مذہب، پیشے، مسلک اور عمر سے ہو۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروبار جو کہ بھارت کی معیشت کے بنیادی ستون ہیں، انہیں ابھی کرنسی منسوخ کیے جانے کے دھچکے سے ابھرنا ہے۔