14.11.2018 جہاں نما

سری لنکا میں عدالت نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے کو قراردیا کالعدم

۔ سری لنکا میں دو ہفتے سے جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان عدالتِ عظمی نے صدر سری سینا کے ذریعے پارلیمنٹ تحلیل کئے جانے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے اور انتخابی کمیشن سے قبل ازمدتی انتخابات کی تیاریوں سے باز رہنے کو کہا ہے۔ آج کے اخبارات کی اہم خبروں میں یہ خبر بھی نمایاں ہے۔ روزنامہ ہندو نے تحریر کیا ہے کہ دو روز تک 11؍ عرضداشتوں اور ان کے جوابات پر سماعت کے بعد عدالتِ عظمی نے گزشتہ ہفتے سری سینا کے اس اعلان کو 7 دسمبر تک  کیلئے معطل کردیا جس میں ایوان کو تحلیل کرنے اور 5؍ جنوری کو انتخابات کے انعقاد کے لئے کہا گیا تھا۔ اس حکم کے بعد اسپیکر کاروجیاسوریا نے آج بدھ کے روز ایوان کا اجلاس بلایا۔ ایک بیان کے مطابق تمام ارکان پارلیمان سے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی گئی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ جن لوگوں نے سری سینا کے اس اقدام کی مخالفت کی تھی ۔ انہوں نے عدالتِ عظمی کے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطرف وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے کے دفتر کے ایک ترجمان کے مطابق ان کے پاس ارکان کی مطلوبہ تعداد موجود ہے اور وہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ خبر ان تمام جماعتوں کیلئے خوش آئند ہے جنہوں نے صدر کے اس اقدام کو غیرآئینی قرار دیا تھا۔ اخبار وکرم سنگھے کے ایک ٹوئٹ کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ عوام کو پہلی کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ آئیے بڑھ کر اپنے پیارے وطن کے عوام کی خود مختاری کو دوبارہ حاصل کریں۔

 عدالت عظمٰی سبری مالا مندر سےمتعلق فیصلے  پر جنوری میں نظرثانی سے متفق، تب تک خواتین کا داخلہ رہے گا جاری

۔ مختلف جلی سرخیوں کے تحت اخبارات نے جن دیگر خبروں کو شائع کیا ہے ان میں سبری مالا مقدمے سے متعلق حکم  پرنظرثانی کی خبر بھی اہم ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ کل منگل کے روز عدالتِ عظمی نے اپنے 55 روز پرانے اس فیصلے پر نظرثانی کے لئے رضامندی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت سبری مالا مندر میں 10 سے 50 برس عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی کو غلط ٹھہرایا گیاتھا۔ لیکن عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ عدالت نے اس کے لئے 5؍ جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے تب تک مندر میں خواتین کا داخلہ جاری رہے گا۔ واضح ہو کہ 49 عرضداشتوں کے ذریعے عدالتِ عظمی سے اس کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی گئی تھی جس کی وجہ سے کیرالہ میں زبردست عوامی احتجاج شروع ہوگیا تھا اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی کے لئے عدالت کے استحقاق پر بحث ومباحثے کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ اگر عدالت کے تازہ فیصلے سے ایپّا کے احتجاجیوں کی ہمت افزائی میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری جانب سابقہ فیصلے پر روک لگانے سے انکار سے پرانی روایت کے حامیوں اور کیرالہ حکومت کے درمیان ٹکراؤ میں شدت میں پیدا ہوسکتی ہے جس نے عدالتِ عظمی کے سابقہ حکم  پر پوری طرح نفاذ کی کوشش کی تھی۔

  ٹرمپ کے خلاف سی این این نے کھٹکھٹایا عدالت کا دروازہ

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق سی این این نے صدر ڈونل ٹرمپ اور ان کے کئی اعلی معاونین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور وہائٹ ہاؤس میں داخلے کے لئے نیٹ ورک کے نامہ نگار جم اکوسٹا کے پریس پاس کو بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ واضح ہے کہ ایک اخباری کانفرنس کے دوران امریکی صدر کے ساتھ نوک جھونک کے بعد اکوسٹا کا پریس پاس معطل کردیا گیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ گزشتہ بدھ کے روز وہائٹ ہاؤس سے براہ راست نشر ایک اخباری کانفرنس کے دوران جم اکوسٹا نے صدر ٹرمپ کے ایک لفظ ‘‘یورش’’ کو چیلنج کیاتھا جو انہوں نے وسطی امریکہ سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کے قافلے کے لئے  استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ جب اکوسٹا نے 2016 کے صدارتی انتخابات کی مہم میں روس کی مداخلت کے بارے میں سوال پوچھا تو صدر ٹرمپ نے بہت ہوچکا کہتے ہوئے مائیک رکھ دیا تھا۔ اس نوک جھونک کے چند گھنٹے بعد اکوسٹا کا پریس کارڈ معطل کردیا گیا تھا۔ امریکہ میں سیکرٹ سروس ہارڈ پاس کے نام سے معروف پریس پاس کی معطلی کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان خاتون پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے ان کا پاس معطل کیا گیا ہے جبکہ اکوسٹا نے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ سی این این کے ذریعے دائر مقدمے کے حوالے سے اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس معطلی سے سی این این کے پہلے اور پانچویں ترمیمی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مقدمے میں صدر ٹرمپ کے علاوہ چیف آف اسٹاف جون لیکی، پریس سکریٹری سارہ سینڈرس سمیت چھ افراد کو حریف بنایا گیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کوریس پونڈینٹس ایسو سی ایشن کے صدر اولیویرناکس  نے اس معاملے میں سی این این کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اخبار کے مطابق بدھ کے روز اس اخباری کانفرنس کے بعد، ذرائع ابلاغ کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات میں مزید تلخی آئی ہے جس کے دوران کچھ دیگر سوالات پوچھے جانے پر امریکی صدر نے کچھ نامہ نگاروں کو بدتمیز قرار دیا تھا اور شکایت کی تھی کہ میڈیا، امریکہ کی معاشی ترقی کی خبریں دینے کے بجائے جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔

 ٹرمپ کے خلاف ڈیموکرٹیس صف آرا

۔ امریکہ کے ہی حوالے سے ایک خبر میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے مطلع کیا ہے کہ ڈیموکریٹس کے ذریعہ متعدد سماعتوں اور تفتیش کی منصوبہ بندی کے خلاف پیش قدمی کے طور پر ڈونل ٹرمپ نے بقول ان کے ‘‘صدارتی ہراسانی’’ کی شکایت کی ہے۔ اخبار،  واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ نئے ایوان کے اجلاس کے دوران ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف مہم کے تحت ڈیموکریٹس 12 اہم معاملات کا جواب چاہتے ہیں جن میں روس کے خلاف جاری تحقیقات کو متاثر کرنے کی ٹرمپ کی کوششیں، اٹارنی جنرل جیف سیشنس اور ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمس کو مے کی برطرفی تارکین وطن سے متعلق اقدامات مثلاً خاندانوں کو الگ کرنا، عدالتِ عظمی کے جج بریٹ کیوے ناہ کے خلاف الزامات کی ایف بی آئی تفتیش اور ٹرمپ کے کنبے کی تجارت جیسے معاملات شامل ہیں۔ اخبار صدر ٹرمپ کے ٹوئیٹ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے ذریعہ صدارتی ہراسانی سے اسٹاک مارکیٹ پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ اخبار کے خیال میں حالیہ انتخابات میں ایوان نمائندگان میں اکثریت کے بعد ڈیموکریٹس کوئی نئی توانائی ملی ہے اور وہ صدر کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں۔

 خاشقجی قتل معاملہ: آڈیو ٹیپ سے ملے محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے ثبوت

اخبار نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے بھی ایک اہم خبر شائع کی ہے۔ جس کے مطابق خاشقجی کے قتل کے فوراً بعد قاتل ٹیم کے ایک رکن مہر عبدالعزیز مطرب نے اپنے سینئر سے کہا تھا کہ وہ  باس کو مشن کی تکمیل سے مطلع کردیں۔ ترکی کے خفیہ ادارے نے اس قتل سے متعلق جو ریکارڈنگ حاصل کی تھی اس سے واقف تین افراد کا خیال ہے کہ باس سے مراد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہوسکتے ہیں۔ ترکی نے یہ ریکارڈنگ سی آئی اے ڈائریکٹر جینا  ہیسپل کو فراہم کی تھی اس کو خاشقجی کے قتل میں ولی عہد شہزادے کے ملوث ہونے کے سلسلے میں اہم سراغ خیال کیا جارہا ہے۔ ترکی حکام نے امریکی عہدیداروں کو اپنے اس خیال سے آگاہ کیا کہ اس ریکارڈنگ میں سکیورٹی آفیسر مطرب، شہزادہ محمد بن سلمان کے کسی معاون سے فون پر گفتگو کررہا ہے۔ ترکی حکام کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ آڈیو سے اس حتمی نتیجے پر نہیں پہونچا جاسکتا ہے کہ اس قتل میں شہزادہ سلمان ملوث ہیں جبکہ امریکی خفیہ اور سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود یہ ریکارڈنگ خاشقجی کے قتل میں شہزادے کے ملوث ہونے کے سلسلے میں ایک ناقابل تردید ثبوت ہے لیکن امریکہ کے قومی سلامتی مشیر جون بولٹن نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔  

بغاوت کےمقدمے میں مشرف کی دلیل خارج

اور

پاکستان میں صنفی تفریق کی وجہ سے لڑکیاں تعلیم سے دور

 

۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے تعلق سے روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کی سرخی ہے۔ ‘‘ بغاوت کے مقدمے میں مشرف کی دلیل خارج’’۔ خبر کے مطابق کل منگل کے روز پاکستان کی ایک عدالت نے خصوصی عدالت کے ایک حکم کے خلاف سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کی دلیل مسترد کردی۔ خصوصی عدالت نے اپنے حکم میں بغاوت کے مقدمے میں عدالتی کمیشن کی تشکیل کی اجازت دی تھی اور اس کو بیرون ملک جاکر مشرف کا بیان لینے کی ہدایت دی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ پرویز مشرف کے قانونی وکیل ، بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کے روز خصوصی عدالت کے حکم کے خلاف ایک عرضداشت داخل کی تھی اور کہا تھا کہ عدالتی کمیشن کی تشکیل اور اس کے ذریعہ بیرون ملک جاکر بیان ریکارڈ کرنے کی کارروائی غیرقانونی  ہے اور اس سے عرضی گذار کے حقوق پامال ہوں گے۔ اسی اخبار نے ایک اور خبر میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اسکولوں کی کمی، اسکولوں میں سرمایہ کاری کی کمی، نیز صنفی تفریق اور بچوں کی شادی کی وجہ سے لڑکیاں تعلیم میں پچھڑ رہی ہیں۔ 111؍ صفحات پر مشتمل ، اس رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ 200 ملین آبادی والے اس ملک میں لگ بھگ ساڑھے 22 ملین پاکستانی بچے اسکول نہیں پہونچ پاتے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے۔