15.11.2018جہاں نما

سری لنکا میں راج پکشے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک، حکومت کو اکثریت حاصل نہیں: اسپیکر کا اعلان

اخبارات نے دیگر موضوعات کے علاوہ سری لنکا کی تازہ ترین صورتحال کو بھی خبروں کو موضوع بنایا ہے۔ روزنامہ  ہندو نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ ایوان میں ارکان نے متنازعہ وزیر اعظم مہندراج پکشے کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ووٹنگ کے فوراً بعد اسپیکر کارو جے سوریہ  نے اعلان کیا کہ متعین حکومت کو ایوان میں اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اخبار کے مطابق بائیں بازو کی جماعت جے وی پی کے رہنما انورا کمارادسانائیکے ، نے راج پکشے کی تقرری کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کی کابینہ کے خلاف تحریک پیش کی تھی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ 26 اکتوبر کو صدر سری سینا نے وزیر اعظم رانیل وکرم سنگھے کو برطرف کرکے ان کی جگہ سابق صدر راج پکشے کو مقرر کیا تھا جس کے خلاف پورے ملک میں سیاسی انتشار کی وجہ سے صدر نے تین ہفتے قبل پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا تھا۔ ایک روز قبل عدالت عظمی نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیاتھا جس کی وجہ سے صدر میتری پالاسری سینا کو شدید دھچکا لگا تھا۔

رافیل جنگجو طیاروں کے مسودے سے متعلق عدالت عظمی کا فیصلہ محفوظ

آج تمام اخبارات نے رافیل طیاروں کے سودے اور اس سے متعلق مقدمے کی عدالت عظمی میں سماعت کی خبروں کو بھی جلی سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق عدالت عظمی نے اس سلسلے میں دائر متعدد عرضداشتوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ ان عرضداشتوں میں فرانس سے 36 رافیل جنگجو طیاروں کے سودے کی عدالت کی زیرنگرانی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ نریندر مودی حکومت نے ان طیاروں کی قیمت عام کرنےسے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ مخالفین کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے گا۔ اس لئے اس نے ان طیاروں کی قیمت سے متعلق تفصیلات کو دو دن قبل سربمہرلفافے میں عدالت کے حوالے کیا تھا۔ عدالت عظمی کی بنچ کابھی یہ کہنا تھا کہ رافیل طیاروں کی قیمت پر اسی صورت میں بحث کی جاسکتی ہے جب قیمت سے متعلق پہلوؤں کو عام کرنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت میں اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کی بھی یہ دلیل تھی کہ طیاروں کی قیمت کے افشاء سے فرانس کے ساتھ بین الحکومتی معاہدے اور اخفائے راز کی دفعہ کی خلاف ورزی ہوگی۔ دوسری جانب عرضی گزاروں نے 59ہزار کروڑ  روپئے کے رافیل سودے میں خطاکاری کا الزام لگاتےہوئے کہا تھا کہ حکومت اس سلسلے میں بے بنیاد دلائل دے رہی ہے اور اخفائے راز کی دفعہ کے پردے میں حقائق کو چھپارہی ہے۔

نریندر مودی نے امریکی رہنما کے ساتھ بات چیت میں اٹھایا پاکستان کی دہشت گردی کا معاملہ

وزیراعظم نریندر مودی نے سنگاپور میں مشرقی ایشیا سربراہ کانفرنس کے موقع پر امریکی نائب صدر مائیک پینس  سے ملاقات کی اور پاکستان کی جانب سے جاری دہشت گردی سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت کی۔ روزنامہ ایشین ایج نے اس حوالے سے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان میں انتخابی عمل میں دہشت گردوں کی کھلم کھلا شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا صرف ایک ہی مرکز ہے اور وہ ہے پاکستان۔ نریندر مو دی نے یاد دہانی کرائی کہ بھارت کو امریکی برآمدات میں گزشتہ دو برس کے دوران 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس سال بھارت امریکہ سے 4 بلین ڈالر کا تیل اور گیس درآمد کررہا ہے۔ اخبار اس ملاقات کی تفصیلات کے سلسلے میں سکریٹری خارجہ وجے گوکھلے کی اخباری کانفرنس کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ ایچ ون بی ویزا کے سلسلے میں نریندر مودی پر امید تھے کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرتے وقت امریکہ ہر شعبے میں بھارتی نژاد امریکیوں کے بھرپور تعاون کو مدنظر رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے ہند۔ امریکی اسٹریٹیجک شراکت اور آزادانہ نیز تکثیریت پر مبنی ہند۔ بحرالکاہل علاقے پر بھی بات چیت کی جس کو مشاہدین چین کے بڑھتے ہوئے غلبے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ طرفین کے درمیان بھارت کے ساتھ دفاعی رشتوں میں اضافہ بھی زیر بحث آیا۔ بھارت پہلے ہی امریکہ سے دفاعی پلیٹ فارم اور اسلحہ جات حاصل کرچکا ہے۔ اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے بھارت کو دفاعی سازو سامان کی تیاری کا مرکز بنانے کے لئے امریکہ کے تعاون پر زور دیا۔ ملاقات کے بعد امریکہ کی جانب سے جاری بیان سے ہند۔ امریکہ اسٹریٹیجک تعلقات، ہند۔ بحرالکاہل، بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت، نیز انسداد دہشت گردی سے متعلق امور پر ترجیح کا اظہار ہوتا ہے۔

بھارت کو انتہائی مراعات یافتہ درجہ دینے کا پاکستان کا کوئی ارادہ نہیں:پاکستانی وزیر

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس  نے اپنے عالمی صفحے پر خبر شائع کی ہے جس کی سرخی ہے۔ ’’بھارت کو انتہائی مراعات یافتہ تجارتی ملک کا درجہ ابھی نہیں : حکومت پاکستان‘‘۔ خبر میں عمران خان حکومت کے وزیر تجارت وصنعت عبدالرزاق داؤد کے حوالے سے کہا گیا ہےکہ بھارت کو انتہائی مراعات یافتہ درجہ دینے کا پاکستان کا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے تاہم پاکستان مختلف ممالک خصوصاً چین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں پر کام کررہا ہے اور توقع ہے کہ چین کے ساتھ یہ معاہدہ جون 2019 تک مکمل ہوجائیگا۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پاکستان نے ایک ہزار دو سو نو اشیاء کی ایک فہرست تیار کی ہے جن کی بھارت سے درآمدات کی اجازت نہیں ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کے ضابطوں کےمطابق ہر رکن دوسرے ارکان کو انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دیتا ہے اور ہندوستان نے پاکستان سمیت تنظیم کے تمام ارکان کو یہ درجہ دیا ہوا ہے جس کے تحت پاکستان نے بھارت سے 137 اشیاء کی برآمدات کی اجازت دی ہے۔

نظربندی کیمپوں سے چینی بیوی بچوں کی رہائی کے لئے پاکستانی تاجروں نے اپنی حکومت سے کی دخل اندازی کی اپیل

چین کے اکثریتی صوبے شنجیانگ میں جاری باز تعلیمی مراکز کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق پاکستانی تاجروں نے جن کے چینی بیوی اور بچوں کو ان مبینہ مراکز میں رکھا گیا ہے، حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ چین کے ساتھ سفارتی کوششوں کے ذریعے ان کے اہل خانہ کو ان مراکز سے رہا کرائے۔ اخبار چین کی سرکاری دستاویزات اور سیارچے سے لی گئی نام نہاد تصاویر کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ تقریباً ایک ملین  مسلمانوں کو ان کیمپوں میں نظربند کیا گیا ہے۔ نظربندی کے ان کیمپوں کو چینی حکام نے بازتعلیمی مراکز کانام دیا ہے ۔ ان نظربند افراد میں وہ چینی مسلم خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان سے آئے مسلم تاجروں سے شادی کی ہے۔ ان تاجروں میں سے بیشتر کا تعلق گلگت۔ بلتستان سے ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے ان کو مطلع کئے بغیر ان کی بیویوں کو ان کیمپوں میں نظربند کردیا ہے اور گزشتہ دوبرس سے وہ ان کے رابطے میں نہیں ہیں۔ اخبار ان تاجروں کی شکایت کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ان کے گھروں کو قرق کرلیا گیا ہے اورنہ ہی یہ بتایا کہ ان کا جرم کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے شادی سے قبل تمام قانونی ضابطوں کو پورا کیا تھا۔

برطانیہ کے ایوان میں بریگزٹ پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ، تھریسامے کو مشکل درپیش

برطانیہ میں بریگزٹ پر دوبارہ ووٹنگ کامعاملہ زور پکڑ رہا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ بریگزٹ کے سخت گیر حامیوں کے مطابق برطانیہ ایک طفیلی ملک بن رہا ہے جب کہ بریگزٹ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ 2016 میں بریگزٹ کی حمایت میں ووٹ دینے والے افراد اب حقائق سے زیادہ واقف ہوگئے ہیں اس لئے دوبارہ ووٹنگ ہونا چاہئے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ بدھ کے روز بریگزٹ معاہدے کے مسودے کومنظوری کے لئے پیش کرتے وقت برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بریگزٹ کے حامی اور مخالفین دونوں ہی اس پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کررہے تھے اور وزیر اعظم کو ایوان میں سوالات کے وقفے کے دورن سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ اخبار لکھتا ہے کہ دوبارہ ووٹنگ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بھی کہا ہے کہ خود ان کےسمیت بقیہ افراد یا بریگزٹ کے حامیوں کیلئے یہ مسودہ قابل اطمینان نہیں ہے۔