16.11.2018 جہاں نما

برطانیہ میں بریگزٹ تنازع پر وزرا کا استعفی،  تھریسامے کا مستقبل داؤ پر

برطانیہ میں بریگزٹ مسودے پر تنازعہ کے بعد وزیراعظم تھریسامے کا مستقبل داؤ پر ہے۔ اخبارات نے آج اس موضوع پر مختلف الرائے خبریں شائع کی ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق برسلز سے مہینوں کی سخت و تند بات چیت کے بعد طے پائے بریگزٹ معاہدے کے مسودے پر تنازعے کے بعد مختلف وزرا نے استعفی دے دیا ہے اور اب تھریسامے کی قیادت کو زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ مستعفی ہونے والوں میں معاہدے کے مرکزی کردار بریگزٹ سکریٹری ڈومینک راب بھی شامل ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ بدھ کے روز گرما گرم اجلاس کے بعد تھریسامے کی کابینہ نے ان کی حمایت کی تھی مگر اس حمایت میں چار وزرا کے استعفوں نے دراڑ ڈال دی ہے ۔ ان وزرا میں کابینی وزیر ایستھر مک وی  اور ہند نژاد وزرا شیلش وارا نیز سوئیلا برے دو پارلیمانی سکریٹری اور دو دیگر معاونین شامل ہیں۔ اب ملک میں بریگزٹ پر دوبارہ استصواب رائے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ چوں کہ اس معاہدے پر ویسٹ منسٹر میں سخت رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور بازار اس سے متاثر ہورہا ہے، یوروپی کاؤنسل کے صدر ڈونل ٹسک اس معاہدے کو حتمی اور باضابطہ شکل دینے کے لیے 25 نومبر کو ایک میٹنگ کریں گے۔ خیال ہے کہ اس کے بعد ہی برطانہ اور یوروپی یونین کی 27 پارلیمان اس کی توثیق کریں گے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کی صورت حال کے مے خلاف ہے۔ ان کے ارکان پارلیمان اور دیگر شخصیات نے تھریسامے سے بار بار کہا تھا کہ دارالعوام میں اس معاہدے کو شکست کا سامنا ہوگا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ تھریسامے، شمالی آئرلینڈ ڈیموکریٹک یونینسٹ  کی حمایت سے اقلیتی حکومت کی قائد ہیں اور خود اس پارٹی نے بھی اس معاہدے کی مخالفت میں ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔

صحافی جمال خاشقجی قتل مقدمے میں پانچ افراد کو سزائے موت

آج اخبارات نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور اس کے قاتلوں کو سزائے موت کے حوالے سے خبروں کو بھی کافی اہمیت دی ہے۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ کل جمعرات کے روز سعودی عرب نے خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت دینے کی بات کہی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس نے ولی عہد شہزادہ محمد سلمان کو ہرالزام سے بری کردیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سعودی عرب کے اس پہلے اعتراف میں سرکاری وکیل نے کہا ہے کہ خاشقجی کو پہلے منشیات دی گئیں اور پھر قتل کے بعد اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے جن کو قونصل خانے کے باہر ایک ایجنٹ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ترجمان نے اس سے انکار کیا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو اس قتل کے بارے میں کوئی علم تھا۔ سرکاری وکیل نے ان پانچ افراد کو سزائے موت دینے کی سفارش کی، جن پر اس قتل کا حکم دینے اور ارتکاب کرنے کا الزام ہے۔ ساتھ ہی اس قتل میں انفرادی حیثیت سے ملوث افراد کو مختلف سزائیں دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس مقدمے کے اہم ملزم سعودی عرب کے خفیہ محکمے کے  سربراہ جنرل احمد الاسیری ہیں، جنہوں نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔دوسرا اہم ملزم وہ نامعلوم شخص ہے جس نے ٹیم کی سربراہی کی تھی اور جو بذریعہ طیارہ استنبول گیا تھا۔ وکیل نے بتایا کہ اس سلسلے میں 21 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے محمد بن سلمان کے دو قریبی معاونین جنرل اسیری اور رائل کورٹ کے میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو معطل کردیا ہے۔اخبار نے سعودی عرب کے اس اقدام پر ترکی کے رد عمل کے حوالے سے آگے لکھا ہے کہ یہ مثبت مگر ناکافی ہے۔ ساتھ ہی ترکی نے پھر زور دے کر کہا ہے کہ یہ قتل پہلے سے تیار منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

روہنگیاؤں کا وطن واپسی سے انکار، واپسی منصوبہ کھٹائی میں، سنگاپور سربراہ اجلاس میں سوکی پر زبردست تنقید

اخبار ایشین ایج نے ایک اور خبرکی طرف توجہ مرکوز کرائی ہے جس میں بنگلہ دیش کے پناہ گزیں کمشنر عبدالکلام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلم پناہ گزیں اپنے وطن میانمار واپسی کے لیے  تیار نہیں ہیں اس لیے ان کی واپسی کا منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا ہے اور حکومت ان کو واپسی کے لیے مجبور کرنے کے بجائے صرف ترغیب ہی دے سکتی ہے۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ بنگلہ دیش میں واقع ایک کیمپ میں تقریبا ایک ہزار پناہ گزینوں نے میانمار واپسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جہاں سے گزشتہ برس فوج کی زیرقیادت تشدد کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلم فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ کاکس بازار کے قریب واقع ان چپ رنگ  کیمپ میں بھی، ایک بنگلہ دیشی افسر نے لاؤڈاسپیکر پر روہنگیاؤں سے وطن واپسی کے لیے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ واپسی کے لیے ان کو ہرممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی سے طے شدہ بنگلہ دیش- میانمار معاہدے کے تحت روہنگیاؤں کو وطن واپسی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش نے سات لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کی کوشش کی تھی۔ اسی اخبار نے اپنی ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ سنگاپور سربراہ کانفرنس کے دوران میانمار کی سربراہ اور کبھی حقوق انسانی کی علم بردار  آنگ سان سوکی کی اس لیے زبردست تنقید کی گئی کیوں کہ وہ روہنگیا بحران سے نپٹنے میں ناکام رہی تھیں اور انہوں نے اس معاملہ پر کچھ کہنے سے انکار کردیا تھا،جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری میں حقوق انسانی کے مسئلے پر الگ تھلگ پڑگئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو دیے گئے حقوق انسانی سے متعلق متعدد اعزازات واپس لے لیے گئے ہیں۔ خود اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے میانمار کی فوج پرنسل کشی الزامات عائد کیے ہیں۔

پاکستان میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی معاملے پر تعطل برقرار

پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمے میں بری عیسائی خاتون آسیہ بی بی بدستور کشمکش میں مبتلا ہیں۔ روزنامہ اسٹیس مین اس حوالے سے اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندوں کے ذریعے آسیہ بی بی کو سزا کے مطالبے کے پس منظر میں ان کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔یاد رہے کہ عدالت عظمی نے توہین رسالت مقدمے میں نچلی عدالت کے حکم کے تحت دی گئی سزا ئے قید اور سزائے موت کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد  مذہبی انتہاپسندوں نے پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔ بعد میں ان انتہاپسندوں اور حکومت کے درمیان سمجھوتے کے بعد یہ مظاہرےختم کردیےگئے تھے لیکن آسیہ بی بی کے پتہ ونشان، عدالت کے فیصلے اور حکومت کے اگلے اقدام پر انتہاپسندوں کے رد عمل کی شدت پر سوالات بدستور باقی ہیں۔ اسی دوران عدالت کے حکم پر نظر ثانی کے لیے ایک عرضداشت داخل کردی گئی ہے۔

سری لنکا پارلیمنٹ میں شور شرابہ، وزرا کے درمیان ہاتھا پائی

سری لنکا میں سیاسی صورت حال کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کی سرخی ہے‘‘سری لنکا پارلیمنٹ میں ارکان کے درمیان ہاتھا پائی، ایوان میں اتنشار’’۔ اخبار کے مطابق جمعرات کے روز اسپیکر نے اعلان کیا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد کسی بھی کار گزار وزیراعظم یا کابینہ کا وجود نہیں ہے جس کے بعد ایوان میں کافی شور شرابہ ہوا اور ملک میں سیاسی انتشار میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ بدھ کے روز پارلیمنٹ میں حال ہی میں  مہندا راج پکشے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کرلی گئی تھی، جس میں 225 قانون سازوں میں سے 122 نے اس کی حمایت کی تھی۔ لیکن صدر میتری پالا سری سینا نے ایک مراسلے میں اسپیکر کارو جے سوریا سے کہا تھا کہ وہ عدم اعتماد تحریک کو منظور نہیں کررہے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح بظاہر آئین، پارلیمانی کارروائی اور روایت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ راج پکشے نے ایوان میں اپنی تقریر میں موجود انتشار کے خاتمے کے لیے عام انتخابات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ان کے حامی فلور پر پہنچ گئے اور شور شرابہ کرنے لگے۔ جس کے دوران ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

سینئر پاکستانی پولیس افسر کی لاش پر پاکستان-افغانستان کے درمیان تنازعہ

روزنامہ ایشین ایج نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سینئر پولیس افسر کی لاش پر تنازعے کی خبر کو شائع کیا ہے۔ خبر کے مطابق پشاور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ طاہر خاں کو اسلام آباد سے اغوا کرکے افغانستان لایاگیا تھا جہاں ان کو قتل کردیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے احتجاج کے پس منطر میں کابل حکومت نے لاش کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کی وجہ سے پاکستان میں افغان سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔ بعد میں افغان حکومت نے طاہر خاں ڈاور کی لاش کو پاکستان کے حوالے کردیاتھا۔ اسی اخبار نے ایک اور خبر میں مطلع کیا ہے کہ طالبان نے مغربی صوبے فرح میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کرکے 30 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ کابل میں قانون ساز رکن سمیع اللہ صمیم کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں ضلع پولیس کمشنر عبدالجبار بھی شامل ہیں جب کہ طالبان پر جوابی فضائی حملے میں 17 جنگجو مارے گئےہیں۔