04.12.2018 جہاں نما

پاکستان کے وزیر اعظم نے کرتارپور راہداری پروجیکٹ کو قرار دیا بہتر تعلقات کی راہ میں سنجیدہ کوشش۔کہا یہ اقدام گگلی نہیں۔

آج اخبارات نے جن اہم خبروں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرائی ان میں کرتارپور راہداری سے متعلق پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں کا بیان خصوصیت کا حامل ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق پیر کے روز عمران خاں نے اس راہداری کے بارے میں اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان سے ہٹ کر بظاہر ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سمت میں کرتار پور راہداری ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی نے اس کو ’’گگلی‘‘ قرار دیا تھا۔ اخبار نے جیو نیوز کی نشریات کے حوالے سے عمران خاں کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ کرتار پور راہدار گگلی یا دوہرا بیان نہیں ہے بلکہ یہ دو ٹوک فیصلہ ہے تاکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنگ بنیاد تقریب ایک پرامن پیش قدمی اور ایک سنجیدہ کوشش تھی جس کے تحت پاکستان میں اس تقریب میں شرکت کے لئے ہندوستانی وزراء کو مدعو کیا گیا تھا۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ قریشی کے اس بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ٹوئیٹس میں الزام لگایا تھا کہ قریشی نے اس موقعے کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ نیز یہ کہ ان کے بیان سے ظاہرہوتا ہے کہ پاکستان سکھ فرقے کے جذبات کا احترام نہیں کرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ راہداری پاکستانی پنجاب کے نوراوال ضلع میں واقع گردوارہ کرتارپور کو بھارت کے گرداس پور ضلع میں ڈیرہ بابانانک سے جوڑے گی۔

روزنامہ ایشین ایج نے عمران خاں کے ایک اور بیان سے متعلق خبر میں مطلع کیا ہے کہ جنگ سے مسئلہ کشمیر سلجھایا نہیں جا سکتا ہے بلکہ اس کے لئے مذاکرات ضروری ہیں ۔ اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بغیر اس مسئلے کے حل کے لئے دیگر متبادلات زیر بحث نہیں لائے جا سکتے ہیں۔

افغانستان امن مذاکرات میں ٹرمپ کی پاکستان سے مدد کی اپیل

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعطم عمران خاں کے نام ایک مراسلے میں مذاکرات کے ذریعے افغانستان مسئلے کے حل میں حمایت اور مدد کی اپیل کی ہے ۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں خود عمران خاں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے نہ تو اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس پر رائے زنی کی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے نئےرہنما کے نام براہ راست مراسلت اس وقت ہوئی ہے جب افغانستان امور کے خصوصی امریکی ایلچی زالمے خلیل زادآج منگل کے روز اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن حکومت افغان بحران کے حل کے لئے تازہ کوشش کررہی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ا س مراسلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے  پاکستان اور امریکہ کو ساتھ مل کر کام کرنے اور شراکت کی تجدید کے لئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں کو اس جنگ کی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہ راست مراسلت کے علاوہ اس خط میں بظاہر کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ امریکہ ، طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان کے رول کی بات کرتا رہا ہے۔ اگر کچھ ہے تو یہ کہ امریکہ پاکستان سے اس لئے خفا ہے کہ اس نے طالبان کو مذاکرات کی طرف مائل کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ لیکن ٹوئیٹرس میں ٹرمپ کے غصے کا شکار ہونے کے بعد اس رسمی مراسلے کے ذریعےاسلام آباد نے ایک اور گگلی پھنکنے کی کوشش کی ہے وہ یہ کہ واشنگٹن نے پاکستان سے مذاکرات میں امداد و اعانت کی درخواست کی ہے ۔ اخبار مراسلے کے سلسلے میں پاکستان کے وزیر اطلاعات  فواد چودھری کے دعوے کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ امریکہ کے لئے پاکستان سے تعلقات بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ واضح ہو کہ ماضی میں امریکہ پاکستان پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے درپردہ طالبان کا استعمال کررہا ہے۔ اور جیسے ہی امریکہ افغانستان سے نکلے گا تو پاکستان اس ملک پر درپردہ کنٹرول حاصل کرنا چاہے گا کیونکہ اس کے لئے یہ ملک اسٹریٹجک طور پر اہمیت کا حامل ہے۔ گذشتہ ماہ اپنے ٹوئیٹر حملوں میں خود ٹرمپ یہ الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان نے لاکھوں ڈالر امداد کے عیوض دہشت کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا۔

سری لنکا میں عدالت نے راج پکسے حکومت پر عائد کی عارضی پابندی

آج کے اخبارات کی ایک اہم خبر سری لنکا میں جاری سیاسی بحران سے متعلق بھی ہے جس کو مختلف جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ روزنامہ ہندو اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ سری لنکا کے کورٹ آف اپیل نے کل متنازعہ وزیراعظم مہندا راج پکسے اور ان کے کابینی رفقاء کے کام کاج پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی 23 نومبر کو 122 ارکان پارلیمان کی عرضداشت پر سماعت کے بعد عائد کی گئی ہے جس میں 14 اور 16نومبر کو دوبار اعتماد کے ووٹ میں ناکامی کے باوجود راج پکسے کے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اپنے حکم نامے میں عدالت نے سابق صدر اور متنازعہ وزیراعظم نیز ان کے وزراء سے وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ ایوان میں اعتماد کے ووٹ میں ناکامی کے باوجود  وہ کیوں برسراقتدار ہیں؟ اخبار نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ ماہ پکسے اور ان کی ٹیم نے اشیاء کی قیمتوں پر اہم فیصلے کئے تھے اور غیر ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کئے تھے ۔ مہندا راج پکسے اور صدر میتری پالا سری سینا نے پارلیمان میں ووٹ کو ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اخبار کے مطابق مہندا راج پکسے نے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں عرضداشت داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اوپیک سے علیحدگی کے لئے قطر نے کیا اعلان

اخبارات کی ایک اور خبر اوپیک سے قطر کی علیحدگی کے فیصلے کے بارے میں ہے اپنی خبر میں اسٹیٹس مین لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ تیل کی پیداوار میں اضافے کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب کے تھوڑے بہت غلبے والےاوپیک نے پیداوار میں اضافے پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔ پیر کے روز قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور کے ذریعے اس اعلان سے کارٹیل کے رول پر سوالیہ نشان کھڑے کریئے ہیں۔ 1960 میں اوپیک کی تشکیل کے بعد پہلی بار مشرق وسطی کے کسی ملک  نے اس سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اخبار وزیر موصوف کے بیان کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ قطر نے 77 ملین ٹن گیس کی برآمدات کو بڑھا کر 110 ملین ٹن کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مزید برآں وہ اپنے تیل کی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ ابھی تک اوپیک کی جانب سے اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح ہو کہ تیل کی پیداوار میں مزید کمی کے لئے کارٹیل کا اجلاس اس ماہ ہونے والا ہے۔

 

خاشقجی قتل معاملہ: سی آئی اے کے پاس سعودی ولی عہد کے خلاف شہادتیں موجود : وال اسٹریٹ جنرل

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق، سی آئی اے کو اس بات کی شہادتیں ملی ہیں کہ سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اس وقت اپنے ایک اہم معاون سعود ال کہتانی سے 11 بار رابطہ کیا تھا جب کہتانی زیر کمان ٹیم نے صحافی خاشقجی کا قتل کیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ سعودی افراد کی اس فہرست میں جن پر گذشتہ ماہ خاشقجی کے قتل پر شبہے میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔کہتانی کا نام سب سے اوپر ہے رابطوں کی یہ شہادتیں اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ آیا سعودی ولی عہد نے اس قتل کا حکم دیا تھا؟ اخبار لکھتا ہے کہ ان شہادتوں کو پہلی بار وال اسٹریٹ جنرل نے شائع کیا تھا جس نے خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات کا جائزہ لیا تھا۔ اس دستاویز کے افشائے راز سے سی آئی اے ڈائریکٹر جنیا ہیسپل کافی ناراض ہیں۔

پولینڈ میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کانفرنس کا آغاز، گلوبل وارمنگ پر تشویش کا اظہار

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کے مطابق پولینڈ میں سی او پی 24سربراہ کانفرنس کے افتتاح کے موقعے پر اقوام متحدہ سکریٹری جنرل انٹونیو گٹریس نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے خطرے سے بچنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں ۔ انہوں نے اس خطرے کو سب سے اہم واحد مسئلے سے تعبیر کیا۔ اور زور دیا کہ وہ 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کا نشانہ طے کریں اور کوئلے جیسے فوسل ایندھن کے استعمال کو بے حد کم کریں ۔