05.12.21018جہاں نما

روس کے ساتھ ہند کے ایس400 معاہدے پر پابندیوں کے خدشات دور کرنے کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے:امریکہ کا بیان

آج کے اخبارات کی اہم خبروں میں سے ایک خبر ہند۔ روس کے درمیان ایس 400 معاہدے سے متعلق ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہند۔ امریکہ اس معاہدے کے سلسلے میں ہونے والی پابندیوں کے خدشات کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے۔ ان کا اشارہ ہندوستان کے ذریعے روس کے ایس 400 میزائیل دفاعی نظام کی خریداری کے سلسلے میں امریکی پابندیوں کے اندیشوں کی طرف تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  پنٹاگن میں اپنی بھارتی ہم منصب نرملا سیتارمن کی آمد کا انتظار کرتے وقت نامہ نگاروں سے بات چیت میں کیا۔ بعد میں نرملا سیتارمن کے ساتھ بند کمرے میں اجلاس کیلئے جاتے وقت بھی انہوں نے پھر یہی بات دوہرائی۔ اسی طرح سیتارمن نے بھی اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا کہ وہ اس دورےمیں ایس400 معاہدے پر امریکی پابندیوں کا معاملہ اٹھائیں گی ۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ میٹس کی یقین دہانی کے باوجود دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بقول ان کے اس ایک استثنیٰ کو کلی استثنیٰ کی حیثیت حاصل نہیں ہے یعنی ہندوستان محتاط رہے کہ اس معاہدے کے سلسلے میں استثنیٰ کامطلب یہ نہیں ہوگا کہ یہ تمام سودوں پر لاگو ہوگا۔ واضح ہو کہ امریکہ کے قانون سی اے اے ٹی ایس اے کے تحت پابندیوں کے باوجود ہندوستان نے روس سے 5 بلین ڈالر کی لاگت کے پانچ ایس 400 دفاعی میزائیل نظام کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔ بھارت کو امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے پیش نظر اس کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوجائیگا۔

 

اگستا سودے کا دلال مائیکل بھارت کے حوالے

اخبارات کی ایک اور اہم خبر اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں دلال کی حوالگی سے متعلق ہے۔ روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ برطانوی شہری جیمس مائیکل کو کل منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے بھارت کےحوالے کردیا ہے۔ مائیکل 3ہزار سات سو کروڑ روپئے کے اگستامعاہدے میں رشوت ستانی کے سلسلے  میں مطلوب تھا۔ اخبار سی بی آئی کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ جوائنٹ ڈائریکٹر اے سائی منوہر کی زیر قیادت ٹیم نے اس سلسلے میں دبئی کا دورہ کیا تھا۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی رہنمائی میں یہ پوری کارروائی سی بی آئی ڈائرکٹر انچارج ایم ناگیشور راؤ کی زیر انتظام انجام دی گئی۔ واضح ہو مائیکل کو فروری 2017 میں انٹرپول کے ریڈنوٹس کے بعد دبئی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس گھوٹالے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو دوہزار چھ سو 66 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مائیکل اور دیگر افراد پر منی لانڈرنگ مخالف ایکٹ کے تحت بھی الزامات عائد کئے ہیں۔

افغان جنگ کے خاتمے کے لئے  ٹرمپ کی پاکستان سے اپیل کا چین نے کیا خیرمقدم

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ایک مراسلے میں اپیل کی تھی کہ پاکستان طالبان سے مذاکرات میں امریکہ کی مدد کرے تاکہ 17سالہ طویل افغانستان جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔ اس پر چین کے ردعمل کے حوالے سے اخبار اسٹیٹس مین لکھتا ہے کہ چین نے امریکی صدر کی اس پیش قدمی کا خیرمقدم کیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ  شگوانگ کے الفاظ میں چین، امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس خوش کن رابطے کا خیرمقدم کرتا ہے جو افغانستان کی تعمیر نو اور دہشت گرد مخالف سرگرمیوں نیز علاقائی امن واستحکام کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ چین ان کے باہمی مفاد کے تعاون کی حمایت کرتا ہے۔ اخبار واشنگٹن میں امریکہ کی قومی سلامتی کاؤنسل کے ترجمان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو طالبان کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کی صلاحیت کا حامل ہے، صدر کو اس کا بخوبی احساس ہے۔ عمران خان کو بھیجے گئے مراسلے نے واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اور اس سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان پائیدار شراکت کی تشکیل ہوگی۔

افغانستان میں قیام امن عمل کے والے سے ہی روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی زالمے خلیل زاد، پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے بات چیت کے لئے کل اسلام آباد پہونچ گئے ہیں۔ 17سالہ طویل افغان جنگ کے خاتمے کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی ہے۔ پاکستانی قیادت کے ساتھ بات چیت میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں طریقہ کار زیربحث آئے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ طالبان پر پاکستان کا کافی اثر ورسوخ ہے۔ جبکہ پاکستان اس خیال کی نفی کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے کی ذمہ داری تمام متعلقہ افراد کی ہے۔ واضح ہو کہ جنگ کا پرامن حل تلاش کرنے کئے لئے خلیل زاد، افغانستان، روس، ازبیکستان، ترکمنستان، بلجیم، متحدہ عرب امارات اور قطر کا دورہ کرچکے ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس دوران پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے  خلیل زاد کے علاقائی دورے سے متعلق ایک ٹوئیٹ کے جواب میں خصوصی ایلچی پر زور دیا ہے کہ اسلام آباد دورے میں وہ تحکمانہ اور معاندانہ رویہ نہ اپنائیں۔ مزاری نے پاکستان کے خلاف حالیہ ٹوئیٹر حملوں کے فوری جواب کیلئے عمران خاں کی ستائش کی اور ٹرمپ کے حالیہ مراسلے کے حوالے سے کہا کہ اس کی وجہ سے ہی صدر ٹرمپ کو حقیقت کا احساس ہوا ہے۔

خلیج فارس کے راستے تیل کی برآمدات روک دی جائیں گی: روحانی کی دھمکی

روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کی سرخی ہے ’’خلیج سے تیل کی فروخت روکنے کی روحانی نے دی دھمکی‘‘۔ خبر  کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی پابندیوں کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی دھمکی کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خلیج سے تیل کی فروخت روک دیں گے۔ 80 کی دہائی سے اب تک ایران بار بار یہ کہتا رہا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے جواب میں وہ خلیج فارس کو بند کردے گا مگر ابھی تک اس نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ ٹیلی ویژن پر نشر صدر کے خطاب کے مطابق اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کی کوشش کی تو خلیج فارس سے تیل کی برآمدات روک دی جائیں گی۔ واضح ہو کہ امریکہ نے تہران کے ساتھ 2015 کے سنگ میل معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ  پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان میں ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی بھی شامل ہے۔ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کا اعتراف کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ 16 دسمبر کو پیش کئے جانے والے بجٹ میں ان مسائل کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔

سری لنکا میں عدالت کے عبوری حکم کے خلاف راج پکشے نے عدالت عظمیٰ میں داخل کی عرضداشت

سری لنکا میں مہندا راج پکشے نےعدالت کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے جس میں انہیں وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا ہے۔ اس خبر کو دی اسٹیٹس مین نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔  پیر کے روز 122 قانون سازوں کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے کورٹ آف اپیل نے ایک عبوری حکم جاری کرکے راج پکشے اور ان کی کابینہ کو کام کرنے سے منع کردیا تھا۔

راج پکشے نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ کورٹ آف اپیل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی ہے۔ پچھلے مہینے وکرما سنگھے کی یونائیٹیڈ نیشنل پارٹی، جنتا ویموکھی پیرامونا اور تمل نیشنل الائنس سے تعلق رکھنے والے 122 ارکان پارلیمنٹ نے راج پکشے کو وزیراعظم نامزد کئے جانے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں پٹیشن دائر کی تھی اور عدالت کے عبوری حکم سے صدر میتری پالا سری سینا اور راج پکشے دونوں کو زبردست دھچکا لگا تھا۔ راج پکشے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ابھی تک ناکام رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی بحران نے حکومت کو بالکل مفلوج بناکر رکھ دیا ہے۔

فسادات کے بعد فرانس نے تیل پر ٹیکس منصوبہ لیا واپس

فرانس میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج اور فسادات کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے عالمی صفحے پر شائع خبر میں تحریر کیا ہے کہ ان فسادات کے بعد فرانس نے تیل اور صارف اشیاء پر ٹیکس میں جو کمی کی ہے اس سے احتجاجیوں کو کچھ خاص خوشی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی قدم ہے اور وہ گزشتہ ہفتے کے  فسادات سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے وزیراعظم ایڈوا فلیپ نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ جنوری کے لئے جن اضافوں کا اعلان کیا گیا تھا ان کو موسم گرما تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس یوٹرن کا مقصد بظاہر احتجاجیوں کو خاموش کرنا ہے جن کی وجہ سے پیرس کو کئی دہائیوں کے شدید ترین انتشار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فلیپ کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی وجہ سے قوم کے اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے جبکہ تین ہفتے قبل ان کی حکومت نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کردیا تھا۔