06.12.2018

آر آئی سی(RIC) فورم کے رکن ممالک روس، بھارت اور چین کے رہنماؤں نے 12سال کے وقفہ کے بعد بیونس آئیرس  میں جی-20 سربراہ کانفرنس سے ہٹ کر الگ ملاقات کی۔ یہ میٹنگ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی پہل پر ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نریندر مودی، چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر پوتن نے ان شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جہاں تینوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس میٹنگ کو شاندار قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس سے تینوں ملکوں کے درمیان نہ صرف دوستی مضبوط ہوگی بلکہ اس سے امن عالم کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے درمیان تعاون سے بین الاقوامی فورم مضبوط ہونگے۔

ان تینوں ملکوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے معاشی اداروں سمیت کثیر ملکی اداروں کی اصلاح اور انہیں مزید مضبوط بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ تینوں رہنماؤں کا خیال تھا کہ ان کثیر ملکی اداروں سے دنیا کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے دنیا کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کثیر ملکی تجارتی نظام کے فوائد اور اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ برکس ، شنگھائی تعاون تنظیم اور مشرقی ایشیا سمٹ جیسی کثیر ملکی تنظیموں کے ذریعے علاقائی اور عالمی امن واستحکام کو فروغ دینے اور آپس میں تعاون کو مضبوط بنانے کیلئے تینوں رہنماؤں نے برابر ملاقات کرتے رہنے سے اتفاق کیا۔ انکا خیال تھا کہ ان اداروں سے دہشت گردی اور آب وہوا کی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان سے تمام آپسی اختلافات بھی پرامن طور پر دور کئے جاسکیں گے۔ ہندوستانی وزیراعظم نے اس بات پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اپنے دعوے وفا نہ کئے جانے کے باعث دیرپا ترقی کے مقاصد کے حصول میں دقتیں آرہی ہیں۔

مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شبہات  دور کرنے کیلئے تینوں رہنماؤں نے کہا کہ ان کی ملاقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں  بلکہ اس کا مقصد دنیا کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھارت اور چین کا ایک ساتھ آنا ایک خوش آئند قدم ہے۔

تینوں ملکوں کا خیال ہے کہ ان کی اپنی اپنی یکتا خوبیوں سے دنیا میں استحکام پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ عالمی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو بین الاقوامی نظام کیلئے سود مند ثابت ہوگا۔

آر آئی سی فورم کے سربراہان مملکت یا حکومت کئی وجوہات سے برابر ملاقات نہیں کرسکے حالانکہ ان ملکوں کے وزرائے خارجہ کی میٹنگیں برابر ہوتی رہیں اور آخری میٹنگ تو اسی سال جون میں ہوئی تھی۔

دنیا نیز عالمی معیشت پر جو اس وقت غیریقینی کی صورتحال سے دوچار ہے، اپنا اثر ڈالنے کیلئے آر آئی سی تینوں ملکوں کیلئے ایک اہم فورم ہے۔ تینوں رہنماؤں نے فورم کے ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت کا اقرار کرتے ہوئے اتفاق رائے بنانے اور تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دنیا میں ترقی، امن اور استحکام کو فروغ حاصل ہوسکے۔

جی۔20 ممالک کی سربراہ کانفرنس سے ہٹ کر آر آئی سی فورم کے ملکوں کی یہ ملاقات یک طرفیت، چھوٹے گروپوں، ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ دینے کے نظریہ اور اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر پابندیاں عائد کرنے کے عمل کے خلاف ایک اشارہ تھی۔ تینوں رہنماؤں نے بین الاقوامی قوانین نیز اداروں اور ضوابط پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کی۔

جی۔20  سربراہ کانفرنس کے دوران بھارت نے جاپان اور امریکہ کیساتھ بھی آپسی دلچسپی کے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ چین کے ہند۔ بحرالکاہل علاقے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے تناظر میں یہ میٹنگ کافی اہمیت کی حامل تھی۔ میٹنگ کے دوران بھارت نے اپنے اس عہد کا اعادہ کیا کہ وہ ہند۔ بحرالکاہل کو ایسا علاقہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا جو تمام ملکوں کی معاشی ترقی کا باعث بن سکے۔ تیزی کیساتھ بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی دینا میں تمام بڑی  طاقتوں کو ساتھ لے کر چلنے میں توازن پیدا کرنے کیلئے بھارت کو بڑی دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔