06.12.2018جہاں نما

خاشقجی قتل معاملہ: سی آئی اے بریفنگ کے بعد سنیٹروں نے سعودی شہزادے پر لگایا قتل کا الزام

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سی آئی اے بریفنگ کے بعد امریکی سنیٹروں نے کہا ہے کہ ان کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ یقین ہوگیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ آج اخبارات نے جن خبروں کو اہمیت دی ان میں یہ خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ سنیٹر لنڈسے گراہم  نے سعودی شہزادے کی مذمت کیلئے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کے تحت کہا ہے کہ اس قتل میں اسموک گن کا نہیں بلکہ اسموک سا کا استعمال کیا گیا ہے۔ اخبار کےخیال میں ان کا اشارہ اس آری کی طرف ہے جس سے خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کئے گئے تھے۔ واضح ہو کہ لنڈسے گراہم، ڈونل ٹرمپ کے راسخ اتحادی ہیں۔ اب تک کے سخت ترین الزامات لگاتے ہوئے ریپبکن اور ڈیموکریٹس دونوں نے ہی کہا ہے کہ وہ اب بھی ایسا قانون منظو رکرانا چاہتے ہیں جس سے سعودی عرب کو یہ پیغام جائے کہ امریکہ صحافی کے قتل کی مذمت کرتا ہے۔  لیکن اس کے طریقہ کار پر ان کے درمیان اب بھی اختلاف ہے۔ اخبار کے مطابق کئی ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ بنا کسی ترمیم کے یمن میں سعودی اتحاد کو امریکہ کی تمام حمایت واپس لینے یا نہ لینے کے لئے ووٹنگ کی جائے جبکہ صدر ٹرمپ اور کچھ ریپبلکن کا جواز ہے کہ واشنگٹن کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے ریاض حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو جس کو مغربی ایشیا میں ایران کا مخالف مانا جاتا ہے۔

جمال خاشقجی قتل معاملے سے متعلق ایک خبر میں روزنامہ ایشین ایج ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناڈولو  کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ترکی میں ایک عدالت نے سعودی شہزادے کے سابق مشیر مسعود ال کہتانی اور سعودی خفیہ ایجنسی کے سابق نائب  سربراہ احمد الاسیری کے خلاف گرفتاری وارنٹ کی منظوری دیدی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف یقین کی حد تک شبہات موجود ہیں۔ خیال ہے کہ دونوں سعودی شہریوں نے اس ٹیم کی سربراہی کی تھی جس نے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کو قتل اور اس کی لاش کے ٹکڑے کئے تھے۔ اخبار سعودی حکام کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ جن ایجنٹوں نے صحافی کو قتل کیا تھا انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا تھا۔

 

پاکستانی وزیراعظم اور امریکی ایلچی کی ملاقات: افغان جنگ کے خاتمے میں تعاون کا پاکستان نے ظاہر کیا عزم

افغانستان جنگ کے سلسلے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی زالمے خلیل زاد نے کل اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خاں سے ملاقات کی اور 17سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں ان سے مدد کی درخواست کی۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نے جنگ سے متاثرہ اس ملک کے سیاسی حل میں مدد کے لئے  عزم کا اظہار کیا۔ خلیل زاد منگل کے روز دورے پر پاکستان پہونچے۔ اس سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے عمران خاں کو ایک مراسلے میں قیام امن کے عمل میں پاکستان کی مدد کی اپیل کی تھی۔ واضح ہو کہ خصوصی ایلچی کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل خلیل زاد پاکستان کی مخالفت کے لئے معروف تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے پاکستان کو افغانستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ان کے پاکستان مخالف خیالات کی بناء پر ہی پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ان کے دورے سے قبل ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ اسلام آباد دورے میں ان کو تحکمانہ اور معاندانہ فکر سے گریز کرنا چاہئے۔  اخبار رقمطراز ہے کہ اپنے ان خیالات کے باوجود وہ طالبان کو مذاکرات کے لئے تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک طالبان رہنما نے انکشاف کیا ہے کہ زالمے خلیل زاد، ان کے وفد اور پاکستان حکام سے بات چیت کے لئے ایک وفد اسلام آباد میں موجود ہے۔ لیکن پاکستان میں اہلکاروں نے اس کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

 

طالبان کو بھارت کے خلاف بطور آڑ استعمال کررہا ہےپاکستان: امریکی اعلیٰ کمانڈر

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کے مطابق، افغان قیام عمل میں پاکستان کی مدد کی اپیل کیلئے ڈونل ٹرمپ کے مراسلے کے چند روز بعد امریکہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر میرین کور لفٹیننٹ جنرل کینتھ میک کین زی  جونیئر نے قانون سازوں سے کہا ہے کہ افغانستان یا دہشت گرد گروپوں کے تئیں اسلام آباد کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ طالبان کو بھارت کے خلاف مسلسل ایک آڑ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ اخبار امریکی کمانڈر کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ پاکستان، طالبان اور حکومت افغانستان کے درمیان بات چیت میں مدد دے سکتا ہے مگر وہ طالبان کو اس کے لئے تیار کرنے کی خاطر اپنا پورا اثر ورسوخ استعمال نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ جنوب ایشیائی حکمت عملی کی  حمایت میں پاکستان کے شور وغوغا کے باوجود انتہاپسند تنظیمیں، افغانستان سے ملحق اس کی سرحدوں پر سرگرم ہیں۔

 

آئی این ایف معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی صورت میں روس نے نیوکلیائی اسلحہ دوڑ کی دی دھمکی

انٹرنیشنل رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی  کی خلاف ورزی کے لئے روس پر ناٹو کے الزام کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور اپنے اسلحہ جات کے ذخیرے میں اضافہ کیا تو روس سرد جنگ معاہدے کے تحت ممنوعہ میزائلوں کی تیاری شروع کردے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ منگل کے روز امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے ماسکو پر آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور اس کو مبینہ خلاف ورزی کے خاتمے کیلئے 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ بصورت دیگر امریکہ 1987 کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرےگا۔ اس معاہدے کو یوروپ میں نیوکلیائی جنگ کے خطرات کم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل خیال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ٹیلی ویژن پر نشر ایک بیان میں پوتن کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کئے ہیں اور یہ الزام معاہدے سے علیحدگی کا بہانہ ہے۔ نیز یہ کہ کئی دیگر ممالک نے آئی این ایف معاہدے کے تحت ممنوعہ  ہتھیار تیار کئے ہیں۔

 

بریگزیٹ معاملہ: تھریسامے کو ایوان میں شکست۔ بریگزٹ فیصلے کی واپسی کی امیدیں

‘‘تھریسامے کو ایوان میں شکست ’’ بریگزیٹ کے حوالے سے یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ منگل کے روز برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو ایوان میں شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس سے ظاہر  ہوتا ہے کہ ارکان پارلیمان یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے منصوبے کو مسترد کرنے کی تیاری کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ اس منصوبے کی منسوخی کے متمنی ہیں، ان کی امیدوں کو منگل کے روز ہی اس وقت تقویت ملی جب اس سلسلے میں انگلش چینل کے پارسے یوروپی کورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل مینوئل کیمپوس بوردونا   کی قانونی رائے موصول ہوئی۔ اس رائے کے مطابق برطانیہ، 29 مارچ کو علیحدگی کی معینہ تاریخ سے قبل 28 رکنی بلاک سے علیحدگی کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرسکتا ہےاور وہ بھی دیگر 27 ارکان کی مرضی حاصل کئے بغیر۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ پارلیمنٹ میں تھریسامے کو اس وقت شکست کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اس تجویز پر 11دسمبر کو ووٹ سے قبل پانچ روزہ بحث کا آغاز کیا تھا۔

 

سویڈن میں یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن مذاکرات

یمن کے متحارب گروپوں میں امن مذاکرات کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر ہے کہ یہ گروپ اس ہفتے مذاکرات کے لئے سویڈن میں ملاقات کررہے ہیں تاکہ یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی حل کے لئے کسی تیز رفتار پیش قدمی کی ان کو امید نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یمن میں بدترین انسانی بحران کے حل کیلئےاس سے کچھ نہ کچھ مدد ملے گی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مذاکرات کے لئے حوثیوں کا ایک وفد اسٹاک ہوم پہونچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گرفتھ  بھی ہیں۔ سرکاری وفد اور باغی وفد کے سربراہ بھی سویڈن پہنچ رہے ہیں۔