09.01.2019 جہاں نما

شمالی کوریا کے رہنما کِم چین کے اچانک دورے پر بیجنگ میں

آج ملک کے تمام اخبارات نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے اچانک دورۂ چین کی خبروں کو فوقیت دی ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے تحریر کیا ہے کہ اس غیر اعلانیہ دورے کا مقصد کوریا جزیرہ نما کو نیو کلیائی اسلحہ جات سے پاک کرنے کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ دوسری سربراہ ملاقات سے قبل اپنے واحد اتحادی کے ساتھ تال میل قائم کرنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ ری سول جو (Ri Sol Ju) اور امریکہ و جنوبی کوریا کے ساتھ سفارتی مذاکرات مین ان کے داہنے بازو کم یانگ چول (Kim Yong Chol) کے علاوہ سینئر حکام بھی ہیں۔ اخبار چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس دورے کےلئے ان کو صدر شی جن پنگ نے مدعو کیا ہے، جو 7؍جنوری سے 10؍ جنوری تک جاری رہے گا۔ گزشتہ جون میں صدر ٹرمپ کے ساتھ پہلی ملاقات سے قبل اور بعد میں کم کا یہ تیسرا دورہ ہے، جن کے دوران انھوں نے صدر شی سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ کم کا یہ دورہ امریکی اور چینی حکام کے دوران تجارتی بات چیت کے موقع پر ہورہا ہے، جس کا دوسرا دن ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ چین کی معیشت میں لگاتار سست روی کے ساتھ ساتھ بیجنگ حکومت امریکہ کی طرف سےبڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے متبادل تجارتی بندوبست کےلئے کوشاں ہے۔ اسی دوران چین نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے خاتمے کےلئے بیجنگ، امریکہ کے ساتھ کسی تجارتی معاہدے کےلئے کِم کو سودے بازی کےلئے استعمال کررہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے چین سے کہا ہے کہ وہ نیو کلیائی پروگرام ترک کرنے کےلئے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالے۔ اس کے برخلاف اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل کے مستقل ارکان چین اور روس امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں اٹھالے۔

مودی اور ٹرمپ نےافغانستان میں سلامتی امور پر کیا تبادلۂ خیال

اخبار کی دوسری اہم خبروں میں وزیراعظم نریندرمودی اورصدر ٹرمپ کے درمیان افغانستان میں سلامتی امور پر تبادلۂ خیال کی خبریں بھی شامل ہیں۔ روزنامہ ہندو- وہائٹ ہاؤس کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پیر کے روز افغانستان میں اسٹریٹجک تعاون پر گفتگو ہوئی۔ اس سے چند روز قبل امریکی رہنما نے اس جنگ زدہ ملک میں خانہ جنگی کےلئے بھارت کے زیادہ تعاون کی دلیل دی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ سال نو کے موقع پر وزیر اعظم نریندرمودی نے صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی اور 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مستحکم کرنے سے اتفاق کیا، نیز بھارت کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے امکانات ہند–بحرالکاہل علاقے میں سلامتی میں توسیع اور خوشحالی کو فروغ دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے فون پر آئندہ عام انتخابات کے سلسلے میں نریندر مودی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ اخبار وزارت خارجہ کے ایک اخباری بیان کے حوالے سے آخر میں رقمطراز ہے کہ ٹرمپ اور مودی نے 2018 میں ہند-امریکہ اسٹریٹجک شراکت میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ، نیز نئے ٹو پلس ٹو مذاکرات و ہند امریکہ اور جاپان کے درمیان اولین سہ رخی سربراہ ملاقات کی ستائش بھی کی۔

طالبان نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کیے منسوخ

افغان طالبان نے کہا ہے کہ بات چیت میں افغان حکام کی شمولیت نیز ممکنہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سمیت ایجنڈے پر نااتفاقی کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ قطر میں اس ہفتے ہونے والی بات چیت منسوخ کردی گئی ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس اس حوالے سے لکھتا ہے کہ یہ مذاکرات بدھ کے روز سے شروع ہونا تھے۔ طالبان نے بتایا ہے کہ امریکی حکام بات چیت میں افغان حکومت کی شمولیت پر زور دے رہے تھے، مگر بقول ان کے وہ اس کٹھ پتلی حکومت سے بات چیت پسند نہیں کرتے ہیں۔ کابل میں امریکی سفارتخانے نے اس منسوخی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ طالبان نے امریکی حکومت سے 25 ہزار قیدیوں کے عوض 3؍ ہزار امریکی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، مگر اس مرحلے پر امریکہ نے اس پر کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اخبار ایک دوسرے طالبان اہلکار کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس سلسلے میں بڑی کامیابی کے حصول سے قبل وہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کریں گے اور ان کے خیال میں امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کو اہم فیصلے کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان کا کردار بے حد اہم ہے، جبکہ غیر جانبدار سلامتی تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کی طاقتور فوج کے قریبی تعلقات ہیں۔

سعودی ولی عہد کادورۂ پاکستان جلد، 15؍ بلین ڈالر معاہدوں پر دستخط متوقع

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جیو نیوز کے حوالے سے خبردی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے اور توقع ہے کہ اس دورے میں وہ معاشی بحران سے دوچار اس ملک کےلئے 15 بلین ڈالر لاگت کے سرمایہ کاری کے پروجیکٹوں کا اعلان کریں گے۔ اس دورے کی تاریخوں پر غور و خوض کیا جارہا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اگست میں عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد مالی بحران سے دوچار پاکستان نے معاشی امداد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سمیت اپنے دوست ممالک سے رجوع کیا تھا۔ اس کے جواب میں اکتوبر میں سعودی عرب نے 6؍بلین ڈالر کے پیکج سے اتفاق کیا تھا، جبکہ پاکستان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ملک میں تیل کی ریفائنری قائم کرنے کے لیے سرمایہ کاری منصوبے کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ محمد بن زائد بن سلطان النہیان کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے بعد کیا گیا۔

پاکستان عدالتِ عظمیٰ نے گلگت بلتستان کی حیثیت پر محفوظ رکھا اپنا فیصلہ

روزنامہ ٹریبیو ن کی خبر کے مطابق پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں گللگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور اس کے شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اخبار نے پاکستان کے روزنامہ ڈان کے حوالے سے لکھا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 ، گلگت بلتستان امپاورمنٹ اور سیلف گورننس آرڈر 2009 نیز منتخبہ نمائندوں کے اختیارات کے تحت اس علاقے کے شہریوں کے حقوق کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں کی سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔ واضح ہو کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ یعنی گلگت بلتستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر۔ اب تک گلگت بلتستان کو پاکستان علیحدہ جغرافیائی اکائی مانتا رہا ہے۔ پاکستان میں کل چار صوبے ہیں اور گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی پاکستان کی کسی ممکنہ کوشش کی ہندوستان مخالفت کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس خطے میں سی پی ای سی کی تعمیر کے خلاف چین سے بھی احتجاج کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس خطے کی کسی متنازعہ حیثیت کے بارے میں چین کی تشویش پاکستان کو اس کی حیثیت تبدیل کرنے پر مجبورکرسکتی ہے۔
روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے پاکستان کے ہی حوالے سے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خاں نے ہندوستان پر ان کی امن پیش قدمی کا مثبت جواب نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ نیو کلیائی اسلحہ جات سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان اگر جنگ ہوتی ہے تو وہ دونوں کیلئے جان لیوا ثات ہوگی۔ ترکی کے چینل ٹی آرٹی ورلڈ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے، مگر اس نے کئی بار اس کی اس پیش کش کو ٹھکرایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں نیو کلیائی ممالک کو جنگ کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ یہاں تک کہ سرد جنگ کے بارے میں بھی نہیں کیونکہ یہ کسی بھی وقت بدترین ثابت ہوسکتی ہے اوریہ جنگ خودکشی کے مترادف ہوگی۔ عمران خاں نے گزشتہ ہفتے صدر طیب ارغان کی دعوت پر ترکی کا دورہ کیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ جہاں عمران خاں نے نئی دہلی حکومت کو کئی مواقع پر ہدف تنقید بنایا ہے وہیں ہندوستان نے بھی اس کا سخت جواب دیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہندوستان نے عمران انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ دیں۔

آئی ایس کو دوبارہ قدم نہیں جمانے دیا جائے گا: پومیپو

‘آئی ایس  کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ اخبار کے مطابق امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیومغربی ایشیا کے دورے پر منگل کے روز اردن پہنچے، جس کا مقصد صدر ٹرمپ کے ذریعے شام سے افواج کی واپسی کے اعلان کے بعد، اس خطے کے تئیں امریکہ کے عزم کا اظہار ہے۔  اس موقع پر انھوں نے کہا کہ میدان جنگ میں کئی بار شکست کے بعد آئی ایس گروپ کو اپنی طاقت دوبارہ مجتمع نہیں کرنے دی جائے گی، لیکن جنگ کے ایک مانیٹر نے منڈراتے ہوئے خطرات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے آخری اڈّے کےدفاع میں جہادیوں نے مشرقی شام میں جوابی حملے میں 23 امریکہ حامی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔