10.01.2019 جہاں نما

رائے سینا ڈائیلاگ: خارجہ پالیسی کو درپیش چیلنج اور مواقع کے سلسلے میں وزیر خارجہ کا بیان

آج ملک کے اخبارات نے  رائے سینا ڈائیلاگ سے متعلق خبروں کو شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو، اس خبر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے اس تقریب کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ آج دنیا کے ملکوں کو چاہے وہ چھوٹے ہوں، یا بڑے، دہشت گردی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ ان میں دوسرے ممالک کے ذریعے اعانت یافتہ اور حمایت یافتہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس میں ڈیجیٹل کاری کی وجہ سے تیزی سے پھیلنے والی بنیاد پسندی  نے اور بھی اضافہ کردیا ہے۔ اخبار وزیر موصوف کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ 1996 میں بھارت نے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق ایک مربوط کنونشن کا مسودہ پیش کیا تھا مگر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک وہ مسودے کی شکل میں ہی ہے۔ سشما سوراج نے ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا خطرات کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کو اس سے سب سے زیادہ خطر ہ ہے کیوں کہ ان کے پاس اس بحران سے نپٹنے کے لئے نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی صلاحیت۔ وزیر خارجہ کے خطاب کے مطابق اس چیلنج سے نپٹنے کے لئے ہندوستان نے گزشتہ برس فرانس کے ساتھ ملکر انٹرنیشنل سولر الائنس کی شروعات کی تھی جس میں 120 ممالک بھی شامل ہیں۔ پچھلے ساڑھے چار سال میں عالمی پیمانے پر ہندوستان کے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پانچ عناصر کا حوالہ دیا جن میں سے ایک قریبی پڑوسیوں کے ساتھ رشتوں کی تشکیل ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بھارت کی ایکٹ ایسٹ او رتھنک ویسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تحت ملک کے پڑوسیوں سے اسٹریٹیجک اور معاشی رشتے مزید استوار ہوئے ہیں۔ اخبار محترمہ سشما سوراج کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس طرح سے دیکھا جائے تو ہندوستان ایک ایسے جمہوری  اور اصول وضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کا زبردست حامی ہے جس میں ہر ملک کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ اس کے علاوہ ہندوستان، بحرہند اور جزائر بحرالکاہل سے لے کر امریکہ کے جنوبی جزائر یعنی کریبین اور افریقہ سے لے کر امریکہ تک پائیدار ترقیاتی شراکت کی تشکیل کررہا ہے۔

اگلی دو تین دہائیوں میں ہندوستان کا شمار تین بڑے ممالک میں: ٹونی بلیر کوتوقع

اخبارات نے ایک اور اہم خبر کی طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے جس کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیر نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلی تین دہائیوں میں دنیا کے دو کثیر آبادی والے  ممالک اور امریکہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک بن جائیں گے اور ہندوستان ان میں سے ایک ہوگا۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے تحریر کیا ہے کہ ٹونی بلیررائے سینا ڈائیلاگ میں شرکت کے لئے نئی دہلی میں ہیں جن سے خطاب کے دوران انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا۔

افغانستان میں پائیدار امن سے اتفاق کی صورت میں طالبان سے بات چیت کی جانی چاہئے: جنرل راوت

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے برّی فوج کے سربراہ کا بیان شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ خبر کے مطابق رائے سینا ڈائیلاگ میں تقریر کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے کہا کہ اگر طالبان، افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور اس کے استحکام سے اتفاق کریں تو ان کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہئے۔ یہ نہ صرف بھارت بلکہ اس خطے اور پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ پابندیاں عائد کئے جانے پر بھی زور دیا تاکہ بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی پر قدغن لگایا جاسکے۔ اخبار جنرل راوت کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اگر دنیاکے کچھ ممالک اپنی سرکاری پالیسی کے بطور دہشت گردی کی حمایت کرتے رہیں گے تو یہ کئی سروں والے عفریت کی شکل اختیار کرلے گی۔ پاکستان کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک کمزور ملک دوسرے ممالک پر اپنی شرائط تھوپنے کے لئے دہشت گردوں کو  خفیہ ہتھیار کے بطور استعمال کررہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان کو ہمیشہ ایک ایسا ملک سمجھا ہے جہاں وہ اپنی من مانی کرسکتا ہے نیز وہ اس جنگ زدہ ملک میں اپنے موافق صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ بنیاد پرستی کے فروغ اور دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے لئے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے سلسلے میں جنرل راوت نے کہا کہ اگر کوئی ملک مخصوص، سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنا شروع کرتا ہے تو اس کو میڈیا کے حقوق کی پامالی سے تعبیر کرنا چاہئے۔ نیز یہ کہ بین الاقوامی برادری کو سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکنے کے لئے مشترکہ کوشش کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کشمیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مذہب اور دیگر معاملات سے متعلق غلط اور گمراہ کن اطلاعات اور دروغ گوئی کی وجہ سے نوجوان بنیاد پرستی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔

طالبان  کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے روزنامہ ہندو نے افغان چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق ، بات چیت میں افغان حکومت کی شرکت سے طالبان کے انکار کا مطلب ہے کہ 17سال طویل جنگ کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ بیان قطر میں طالبان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی منسوخی کے چند دن بعد آیا ہے جو اس ہفتے شروع ہونا تھے۔ ایک طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ بات چیت میں امریکی افواج کی واپسی، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہنماؤں کی نقل وحرکت پر پابندی ختم کئے جانے پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔ اخبار کابل میں آئین کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر عبداللہ عبداللہ کے ذریعے ایک اجتماع سے خطاب کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ 2001  میں امریکی افواج کے ذریعے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک طالبان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اخبار کے مطابق اسی دوران قیام امن سے متعلق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد منگل کے روز افغانستان پہونچے ہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ تو نہیں بتایا ہے کہ وہ طالبان سے دوبارہ ملاقات کریں گے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ افغان حکام اور متعلقہ افراد سے بات چیت کریں گے۔

ٹی وی پر بھارت سے متعلق مواد کی نشرواشاعت سے ثقافت کو نقصان : پاکستان چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پاکستانی ٹی وی چینلوں پر ہندوستانی مواد کو دکھانے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ اس سے پاکستانی ثقافت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس خبر کو تقریباً تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس  پاکستانی روزنامہ ڈان کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ جناب نثار نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ پاکستانی ٹی وی چینل پر ہندوستانی مواد دکھانے پر عدالت کی پابندی کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی اپیل کی سماعت کررہے تھے۔ اتھارٹی کے وکیل ظفر اقبال کالانوری نے چیف جسٹس کی قیادت والی سہ رکنی بنچ کو مطلع کیا کہ غیر ملکی مواد  دکھانے پر نچلی عدالت نے پہلے ہی پابندی عائد کردی تھی لیکن ہائی کورٹ نے اس کے خلاف اسٹے دے دیا ہے۔ اتھارٹی کے چیئرمین سلیم بیگ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ فلمائیزا چینل پر دکھائے جانے والے مواد کا 65فیصد حصہ غیرملکی ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پاکستانی چینلوں پر ہندوستانی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اتھارٹی کے وکیل نے جب یہ دلیل دی کہ فلمائیزا نیوز چینل نہیں ہے بلکہ وہ ایک تفریحی چینل ہے اور وہ کوئی پروپیگنڈہ نہیں کررہا ہے تو چیف جسٹس نے جواب دیا کہ اس سے  بہرحال ہماری ثقافت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے 2016 میں مقامی ٹیلی ویژن اور ایف ایم چینلوں پر ہندوستانی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ منگل کے روز ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام چینلوں کو ہدایت دی کہ وہ ٹی وی پر ایسے ڈرامے نہ دکھائیں جن میں ناشائستہ اور قابل اعتراض مناظر ہوں۔

ٹرمپ کا قوم سے خطاب: میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر پر اصرار

صدر ڈونل ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے پرائم ٹائم خطاب میں میکسیکو سرحد پر پانچ اعشاریہ سات بلین ڈالر کی لاگت سے اسٹیل کی دیوار کی تعمیر پر زور دیا تاکہ غیرقانونی تارکین وطن کے ہاتھوں بقول ان کے امریکیوں کی ہلاکتوں کو روکا جاسکے۔ روزنامہ ایشین ایج اس حوالے سے لکھتا ہے کہ اپنے خطاب میں انہوں نے ڈیموکریٹس کی بات ماننے سے انکار کیا جو دیوار کی تعمیر کے لئے رقوم کی فراہمی سے انکار کررہے ہیں۔ اس خطاب میں حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں تھا جس کی وجہ سے آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوپارہی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے اس پیش گوئی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا کہ وہ قومی ہنگامی حالت نافذ کرسکتے ہیں اور جس کے تحت کانگریس کی منظوری کے بنا ان کو دیوار کی تعمیر کے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا اور جس سے ملک میں بحران مزید شدید ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ۔

بریگزٹ کے طریقہ کار پر مے حکومت کو جھٹکا

‘‘بریگزٹ کے طریقہ کار پر مے کو ایک اور جھٹکا’’ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ برطانیہ میں حکومت کو بدھ کے روز اس وقت ایک اور جھٹکا لگا جب ارکا ن پارلیمان نے ووٹ کے ذریعے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایوان کے تین کام کاج کے دنوں میں یہ اعلان کرے کہ اگلے ہفتے پارلیمان کے ذریعے بریگزٹ معاہدہ مسترد کئے جانے کی صورت میں وہ کون سے اگلے اقدامات کرے گی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ قانون ساز اگلے منگل کو اسی معاہدے کے سلسلے میں ووٹنگ کریں گے جس کے لئے گزشتہ 18 ماہ کے دوران وزیر اعظم تھریسامے نے یوروپی یونین کے  ساتھ مذاکرات کئے ہیں۔