11.01.2019 جہاں نما

عمران حکومت دہشت گردوں کو اہم دھارے میں لانے کیلئے کوشاں:ثبوت میں بھارت کے پانچ نکات

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے پاکستان میں دہشت گردی کے تعلق سے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق ہندوستان نے پانچ ایسے اہم نکات پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہو تا ہے کہ عمران خان حکومت، دہشت گردوں کو اہم دھارے میں لانا  چاہتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ہندوستان کے ذریعے رخنہ اندازی سے متعلق عمران خان کی حالیہ بیان پر نئی دہلی حکومت نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے مذاکرات کے لئے موافق ماحول کی تشکیل کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ اخبار اپنی خصوصی رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ اسلام آباد کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دعوؤں کے باوجود، اس سلسلے میں کوئی پیش قدمی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کے برخلاف ذرائع کا اصرار ہے کہ عمران خان حکومت میں پاکستان کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف دہشت گردوں کو اعانت و امداد فراہم کر رہا ہے بلکہ ان گروپوں  کو اہم دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ثبوت میں پانچ نکات پیش کئے گئے ہیں ۔ اول- پاکستان کے وزیر داخلہ شہر یار آفریدی نے مبینہ طور پر ممبئی حملوں کے اہم سازشی اور جماعت الدعوۃ کے سرغنہ کے نمائندوں سے 16؍دسمبر 2018 کو اسلام آباد میں نہ صرف ملاقات کی بلکہ سعید اور اس کی تنظیم کو کھلے عام حکومت کی حمایت پیش کی۔ دوئم-جماعت الدعوۃ نے نومبر 2018 میں پاکستان مقبوضہ کشمیر میں راحت رسانی مراکز قائم کئے جس کا افتتاح تحریک انصاف کے ایک مقامی رہنما نے کیا تھا۔ سوئم-گذشتہ برس دہشت گرد جماعتوں کو ممنوعہ قرار دینے والے صدارتی آرڈیننس کی مدت کے خاتمے کے بعد جماعت الدعوۃ اور اس کی غیر سرکاری تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن  کو پاکستان میں ممنوعہ جماعتوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اور ذرائع کے مطابق یہ سب حکومت کے تعاون سے ممکن ہو سکا۔ چہارم-ممنوعہ دہشت گرد جماعت حزب المجاہدین کے رہنما اور یونائٹیڈ جہاد کاؤنسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کو پاکستانی فوج کی حمایت کا مطالبہ کیا۔ اورپنجم- پاکستان کے مذہبی امور کے وزیر نورالقادری ،30ستمبر 2018 کو دفاعِ پاکستان کاؤنسل کی کانفرنس میں سعید کے ساتھ عوامی پلیٹ فارم پر نظر آئے جہاں سے دونوں نے ہی ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے۔ قادری نے مبینہ طور پر بتایا تھا کہ انہوں نےعمران خان کی ہدایت پر اس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ اخبار ذرائع کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں یو این جی اے کے موقع پر ہندوستان نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے انعقادسے اتفاق کیا تھا مگر کشمیر میں اسپیشل افسران کی ہلاکتوں اور حزب المجاہدین کے مہلوک رہنما برہان وانی پرخصوصی ڈاک ٹکٹ کے اجراء کی وجہ سے اس نے اس میٹنگ کو منسوخ کر دیا تھا۔

حکومت پاکستان قرض ادا کرنے میں رہے گی ناکام : موڈی کی رپورٹ

۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے پاکستان کے تعلق سے ایک خبر شائع کی ہے جس میں موڈی انویسٹر سروس رپورٹ کے حولاے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں اور اس کے مقابلے میں قرضوں کی ضروریات بہت زیادہ ہیں اس وجہ سے وہ اس سال ادا کئے جانے والے سرکاری اور نجی بیرونی قرضوں کی ادائیگی نہیں کر سکے گا۔ اخبار اس کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ موجودہ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ ملک کی وزارت خزانہ کی جانب سے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی اخبار نے پاکستان کے ہی تعلق سے ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ ملک کے شہری ہوا بازی ادارےنے جعلی تعلیمی ڈگریاں رکھنے کی وجہ سے 16 پائلٹوں اور کیبن عملے کے 65 ارکان کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق سرکاری پی آئی اے سے ہے۔ اتھارٹی نے یہ اقدام جعلی ڈگریاں رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لئے چیف جسٹس کے حکم کے بعد اٹھایا ہے۔

ایران نے کی امریکی بحریہ اہلکار کی قید کی تصدیق

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ اس نے امریکی بحریہ کے اہلکار مائیکل آر وہائٹ کو ملک میں قید کیا ہوا ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت  آر وہائٹ پہلے امریکی ہیں جن کی قید کی تصدیق ایران نے کی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس تصدیق کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ مائیکل وہائٹ کی قید کی وجوہ واضح نہیں ہیں مگر ماضی میں ایران مغربی شہریوں اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی قید سے مذاکرات کے دوران فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اخبار نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کچھ مدت قبل امریکی شہری کو مشہد سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس معاملے سے امریکی انتظامیہ کو پہلے ہی دن مطلع کر دیا گیا تھا۔ تسنیم نے یہ خبر ایران کی وزارت خارجہ  کے ترجمان کے حوالے سے دی ہے۔

شام سے ایران کے آخری فوجی کوبھی  کیا جائے گا باہر: پامپیو

۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی، ملک شام سے تمام ایرانی فوجیوں کو باہر نکالنے کے لئے سفارتی اشتراک کر یں گے۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تمام اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے تہران کے خلاف ایک مشترکہ موقف اختیار کریں کیونکہ یہ خطے کے مفاد میں ہوگا۔ مائیک پامپیو نے قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی میں اپنے کلیدی خطبے میں یہ بھی کہا کہ خلیجی ممالک نیز مصر اور اردن کو ساتھ ملاکر ، امریکہ ایک ایران مخالف محاذ تیار کر رہا ہے۔

امریکہ-میکسیکو سرحد پر دیوار کا تنازعہ: ٹرمپ نے دی ہنگامی حالت کے نفاذ کی دھمکی

۔ امریکہ کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے مطلع کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر امریکہ –میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لئے کانگریس ان کے کئی بلین ڈالر کے مطالبے کو منظور نہیں کرے گی تو وہ قومی ہنگامی حالت نافذ کردیں گے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ٹرمپ میکسیکو سرحد پر ٹیکسس میں میک ایلن پہونچ گئے ہیں تاکہ دیوار کی تعمیر کے لئے حمایت حاصل کر سکیں ۔ اخبا رنے واضح کیا ہے کہ میکسیکو روانگی کے وقت ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ کانگریس کی جانب سے رقوم کی فراہمی میں روکاوٹ ڈالنے کی صورت میں اگر وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں تو وزارت دفاع کی رقوم تعمیر کے لئے منتقل کر دی جائیں گی لہذا اس اقدام کی صورت میں ان کو فوری طور پر ڈیموکریٹس کی طرف سے قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اسی دوران جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں سرکاری ملازمین یا تو بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں ۔ یاگھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے ساتھ میٹنگ ادھوری چھوڑ دی تھی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت کا زیاں ہے۔

افغانستان میں طالبان حملوں میں 30سلامتی اہلکار ہلاک

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق ایک طرف جب افغانستان میں قیام امن کی کوششیں جاری ہیں ،طالبان نے جمعرات کے روز چاروں صوبوں میں فوجی چوکیوں پر مختلف حملوں کے دوران سلامتی افواج اور حکومت حامی ملیشیا کے 30 ارکان کو ہلاک کر دیا۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ، قندوز، بغلان ، تخار اور بدغیس صوبوں میں کئے گئے ۔ اخبار قندوز میں قلعہ زل کے سربراہ کے حولاے سے لکھتا ہے کہ اس صوبے میں علی الصبح بڑی تعداد میں طالبان نے حملہ  کیا تھا۔ اس حملے میں فوج اور پولیس کے10اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔ جبکہ جوابی حملے میں 25طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا۔ پڑوسی بغلان اور تخار صوبوں میں طالبان نے 16 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا جبکہ جوابی حملے میں طالبان کو زبردست جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب بدغیس میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

یمن میں فوجی پریڈ پر حوثی ڈرونس کا حملہ

۔ ’’یمن میں فوجی پریڈ پرحوثی ڈرون حملہ ، متعدد افراد ہلاک‘‘یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ۔ اخبار لکھتا ہے کہ لہاج صوبے میں حوثی ڈرونس نے یمنی حکومت کی ایک فوجی پریڈ پر حملہ کیا۔ اخبار سعودی عرب کی العربیہ ٹی وی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ حوثیوں  کے المصیرہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بقول ان کے حملہ آوروں کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجی حکام حملہ کے وقت وہاں موجود تھے۔