چوتھا رائے سینا ڈائیلاگ

چوتھا رائے سینا ڈائیلاگ کل نئی دہلی میں ختم ہوگیا۔ ان مذاکرات میں مشہور و معروف بین الاقوامی  پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور اسٹریٹیجک ماہرین نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی اور ناروے کی ان کی ہم منصب ارنا سولبرگ نے شرکت کی۔ رائے سینا ڈائیلاگ ایک سالانہ پروگرام ہے جس کا اہتمام مشترکہ طور پر بھارت کی معروف تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن اور وزارت خارجہ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناروے کی وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے بحور یا کسی دوسری چیز پر حکمرانی کیلئے‘‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’’ کا اصول نہیں چل سکتا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت ایک جمہوری اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں دنیا کے تمام ملک برابری کےساتھ پھل پھول سکیں۔ انکا اشارہ شاید جنوبی بحیرۂ چین میں ہونے والی توسیع پسندانہ کارروائیوں کی جانب تھا۔ جو مختلف کمیٹیوں میں موضوع بحث بنی رہیں۔

رائے سینا ڈائیلاگ ایک کثیر رخی کانفرنس ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرکے انکا حل تلاش کرنا ہے۔ ان مذاکرات میں سربراہان مملکت، کابینی وزراء، مقامی حکومت کے اہلکار اور نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایگزیکٹیو سبھی شرکت کرتے ہیں۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے ملیشیا کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ انور ابراہیم نے جو امید ہے کہ وزیراعظم مآثر محمد کی جگہ لیں گے، خطاب کیا۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین سنجے جوشی کے مطابق ڈائلاگ نے پرانے انتظامات کو از سر نو ترتیب دینے کا موقع فراہم کیا۔ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سمیرسرن کے مطابق اس سال کے مذاکرات میں یوروپ اور ایشیا پر خاص توجہ دی گئی۔ ہند۔ بحرالکاہل کے علاقہ پر بھی جم کر بحث ومباحثہ ہوا۔ ان مباحثوں میں ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا سمیت امریکہ، جاپان، آسٹریلیاوغیرہ کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے شرکت کی۔  کانفرنس سے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے بھی خطاب کیا۔

92 ممالک سے 600 وفود اور اسپیکروں سمیت دوہزار سے زیادہ شرکاء نے اس سال کے رائے سینا ڈائیلاگ میں حصہ لیا جس کا عنوان تھا ‘‘عالمی نظام نو۔ نئی اشکال، سیال شراکت داری: غیر یقینی تنائج۔ فاؤنڈیشن کے چیئرمین سنجے جوشی کے مطابق ، مذاکرات کے دوران، تین دن کے بصیرت افروز، تبادلہ خیال کے نتیجے میں عالمی قیام امن کے سلسلے میں نئے نئے پہلو سامنے آئے۔

اس سہ روزہ کانفرنس سے عالمی رہنماؤں نے خطاب کیاجس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر، سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلوگینٹی لونی ،کناڈا کے سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر، سوئیڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت ایران، آسٹریلیا، اسپین، منگولیا اور نیپال کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔ رائے سینا ڈائیلاگ میں دینا کے اعلیٰ رہنماؤں کی شرکت سے، سنگاپور میں ہرسال منعقد ہونے والے شانگریلیا ڈائیلاگ کے بعد، اس ڈائیلاگ نے ایک باوقار مقام حاصل کرلیا ہے۔ اور جس میں اعلیٰ پالیسی ساز لازمی شرکت کرتے ہیں اور اپنی متعلقہ حکومتوں کی قومی پالیسی پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ سال شانگریلا ڈائیلاگ میں بھارت کے وزیراعظم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی جہاں انہوں نے ہند۔ بحرالکاہل پر خاص طورپر اپنی مشہور تقریر کی تھی۔ اسی عنوان کو حالیہ رائے سیناڈائیلاگ کے دوران بھی برقرار رکھا گیا۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نریندر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں اور 2019 میں اس کی مستقبل کی سمتوں کو پیش کیا کیونکہ حالیہ دور میں پوری دنیا امریکہ۔ جاپان اور آسٹریلیا کیمپ اور روس۔ چین کیمپ کے پرچم تلے اکٹھا ہوگئی ہے، یہ دونوں گروپ ہندوستان کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس پس منظر میں محترمہ سشما سوراج نے ہندوستان کے عالمی رابطوں کے مربوط اور توانائی سے پُر احیاء پرروشنی ڈالی جس کی بنیاد ’’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘ پر رکھی گئی ہے۔